کعبے کی رونق کعبہ کا منظر
  28  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کعبے کی رونق کعبہ کا منظر‘ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر‘ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے مرکز بیت اللہ پر جیسے ہی نظر پڑی...تو دل نے بے طرح سے دھڑکنا شروع کر دیا... آنکھیں تھیں کہ بیت اللہ سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں... جبکہ دوسری طرح بے قابو دل... ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے آج ہی سینے کی ہڈیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا... دل کہہ رہا تھا مانگ لو‘ اللہ سے مانگ لو... سب کچھ ہی مانگ لو پھر ہم نے بھی اپنے مولیٰ کریم سے مانگنے میں نہ ہچکچاہٹ محسوس کی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی شرم... بلکہ ہم نے اپنے لئے اور اپنے تمام احباب کے لئے دل کھول کر رب سے مانگا... نگاہوں کے سامنے کعبہ شریف ہو‘ ہاتھ اٹھے ہوئے ہوں... اور مانگنا بھی پروردگار عالم سے ہو... تو پھر زبان تو صرف زبان ہے ... آنکھیں ہوں‘ ہاتھ ہوں‘ یا دل بلکہ پورا سراپا ہی زبان کا ہمنوا بن کر تڑپ‘ تڑپ اٹھتا ہے۔ میں ’’پاکستان... سے مکہ مکرمہ آیا تھا... اور باب عبدالعزیز سے گزر کر صحن حرم میں داخل ہوا تھا... لاکھوں فرزندان توحید تھے... بے شک لاکھوں فرزندان توحید تھے کوئی سجدے میں سر رکھے رو رہا تھا... کوئی بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ... رب سے کرم اور مغفرت کی دعائیں مانگ رہا تھا... سب کی نظریں بیت اللہ پر تھیں... ہر کوئی ملتزم سے لپٹ کر بچوں کی طرح رونا چاہ رہا تھا۔ ہر کوئی حجرا سود کو بوسہ دے کر اپنی روح کو سرشار کرنا چاہ رہا تھا... ہر کوئی مقام ابراہیم پہ دو نوافل ادا کرنا چاہ رہا تھا... ان میں مرد تھے‘ عورتیں تھیں‘ بوڑھے تھے‘ بچے تھے... یہاں تک کہ معذور بھی تھے... ہمارا تو سب کچھ یہی حرم پاک ہے... اگر میں یہاں آکر اپنے ماں‘ باپ‘ بیوی‘ بچوں ‘ دوست‘ احباب ‘ بہن بھائیوں کو نہیں بھولتا... تو پھر اپنے پیارے ’’پاکستان‘‘ کو کیسے بھول سکتا تھا۔ 7اکتوبر2001ء کو امریکہ نے ملا محمد عمر مجاہد کے افغانستان کے خلاف جس صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا... مسلسل 16برس بیت گئے... وہ جنگ ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی... بلکہ نائن الیون کے سولہ برس بعد بھی... امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میرے ’’پاکستان،، کو دھمکیاں دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا... ہم پاکستانیوں نے اپنے پیاروں کے ستر ہزار جنازے اٹھائے... ہزاروں افراد گھروں‘ بازاروں اور مسجدوں سے اٹھا کر لاپتہ کرنے کے غم کا بوجھ آج بھی ہمارے سینوں پر ہے... ہمارے حکمرانوں‘ بالادست طبقوں اور میڈیا نے امریکہ کو راضی کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کیے؟ امریکہ کی روشن خیالی کے جن کو پاکستانی قوم پر مسلط کرکے اخلاقیات کا جنازہ تک نکال ڈالا... مگر ’’امریکہ‘‘ پھر بھی پاکستان سے ’’راضی‘‘ نہیں ہوا‘ امریکہ اب بھی پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے ... اس سے قبل قندھار سے لے کر کابل تک میری آنکھیں امریکی ڈیزی کٹر بموں کی تباہ کاریاں دیکھ چکی تھیں۔ جب افغان مائیں اپنے جگر کوشوں کے کٹے پھٹے جسم کے ٹکڑوں پر بین ڈالا کرتی تھیں... تب ایک رسوا کن ڈکٹیٹر سب سے پہلے ’’پاکستان‘‘ کے نعرے کی آڑ میں امریکی چاکری کرکے ’’ڈالر‘‘ کما رہا تھا ‘ جب افغانستان کی بیٹیاں پٹرول بموں سے امریکی ٹینکوں کا مقابلہ کر رہی تھیں... تب وہ ڈکٹیٹر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فروخت کرے امریکیوں سے ڈالر وصول کر رہا تھا... آہ پاکستان کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا خیال جیسے ہی آیا... تو ضبط کے سارے بندھن خود بخود ہی ٹوٹ گئے... تاریخ نے اس سے برا ڈکٹیٹر بھی کبھی دیکھا ہوگا کہ جو قوم کی بیٹیاں اسلام دشمنوں کو بیچ کر بھی فخر سے مکے لہرایا کرتا ہو؟ رسواکن ڈکٹیٹر نے جو 16سال قبل بویا تھا... جس قسم کی خود غرضی‘ مفاد پرستی اور امریکی غلامی کی جو پالیسیاں بنائی تھیں... کیا اس کا خمیازہ16سال بعد بھی پاکستانی قوم کو بھگتنا ہوگا؟ آنکھیں برس رہی تھیں اور دل سوالی بن کر سوال پر سوال اٹھا رہا تھا... آخر ’’ٹرمپ‘‘ نے22کروڑ توحید پرستوں کے پاکستان کو اربوں ڈالر کھانے کے طعنے کیوں دئیے؟ پاکستان کے غریب مسلمانوں نے تو کبھی ان اربوں میں سے ایک ڈالر بھی نہیں کھایا... امریکہ کی غلامی کا طوق پہن کر ڈالر کمائے تھے پرویز مشرف نے ... اور جانیں ستر ہزار سے زائد عام پاکستانیوں اور سیکورٹی اداروں کے جوانوں کی قربانیاں ہوئیں16... سال قبل اس وقت کے امریکی صدر جارن ڈبلیو بش نے جس صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا... 16 سال بعد آج کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی صلیبی جنگ کو آگے بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ یا اللہ! پاکستان کے عوام کا کیا قصور؟ پاکستان کی ماؤں‘ بہنوں‘ بیٹیوں نے تو کبھی امریکی ڈالر نہیں کھائے... بلکہ جس حکمران کو ‘ جب پاکستانیوں کے خون... پاکستان کے جوانوں کی لاشوں کی ضرورت پڑتی... انہوں نے لاشیں بیچ کر بھی ڈالر کمائے۔ جارج ڈبلیو بش سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک... اور پرویز مشرف سے لے کر نواز شریف تک... سب نے مل کر پاکستانی قوم کو سیکولر اور لبرل بنانے کی کوششیں کیں... ڈاکٹر عافیہ کو بھلا دینے کے اقدامات کئے... امریکی گوروں نے صلیبی جنگ لڑنا ہی تھی... مگر پرویز سے لے کر نواز شریف تک ہمارے حکمران بھی امریکیوں کی بھڑکائی ہوئی صلیبی جنگ میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے... دہشت گردوں نے بھی صلیبی جنگ کا ایندھن بن کر... پاکستان کے عوام کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا نشانہ بنایا شروع کر دیا۔ پھر کون کہاں مارا گیا؟ کس نے کس کو مارا تو مارا کیوں؟ نہ مرنے والوں کو پتہ اور نہ مارنے والوں کو پتہ۔ حرم پاک سے بڑھ کر تو پاکستانی قوم کے لئے کچھ بھی نہیں یا اللہ! پاکستان کی حفاظت فرما... پاکستانی قوم کو امریکی غلاموں سے نجات عطا فرما... یا اللہ پاک پاکستان میں اسلامی نظام کا بول بالا فرما... برستی آنکھیں لبوں پر دعائیں ہی دعائیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved