امریکہ کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے
  29  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایک حالیہ خبر کے مطابق امریکہ نے بین المذاہب رپورٹ میں پاکستان ،سعودی عرب، ایران ، چین ، ترکی اور سوڈان میں مذہبی آزادی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان ملکوں میں مذہبی آزادی کا فقدان ہے۔ پاکستان پر الزام یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ نہیں کررہا ہے جو کہ ہمارے چارٹر کا حصہ ہے۔اس پر اس کے سوا کیا کہاجاسکتا ہے کہ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ۔امریکہ کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ ویت نام، عراق، لیبیا اور افغانستان میں مذہبی آزادی ہی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ جو گھنائونا کھیل کھیلا گیا ہے جس پر اسے کوئی ندامت نہیں۔افغانستان میں اسلامی حکومت کے دور میں امن تھا ۔لوگوں کو بہترین انصاف مل رہا تھا۔اس حکومت کے ساتھ وہ کچھ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں کا امن تہہ و بالا ہو چکاہے۔امریکہ کا منہ نہیںکہ وہ مذہبی آزادی کی بات کرے۔وہ اپنے آپ کو دنیا کا چودھری سمجھتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ زبردست کا ٹھینگا سر پر ہوتا ہے۔وہ جتنی بھی غیر اصولی اور غیر منطقی اور غیر حقیقی بات کرے ، آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ آپ دنیا کے کمزور ملکوں میں سے ہیں۔ہماری کمزوری نے ہم میں غلامانہ ذہنیت پیدا کردی ہے۔پاکستان کی حکومت کو بھی چین او ر ایران کی طرح اس رپورٹ کو مسترد کردینا چاہئے۔دنیا میں انسانی حقوق کو روندنے والا تو امریکہ خود ہے۔وہ دوسروں کو نصیحت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ امریکہ ہم پر قادیانیوں کے حقوق کے تلف کرنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ وہاں مساجد پر حملے ہورہے ہیں۔داڑھی والوں کو تشدد کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔یہ مذہبی تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟حکومت پاکستان کو جرا ت سے کام لیتے ہوئے امریکہ سے کہنا چاہئے کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت بند کرے اور اپنا گھر درست کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اپنی کمزوریاں بالخصوص کشکول گدائی پھیلائے رکھنا،مریکہ کو اس قسم کی بیہودہ باتیں کرنے پر اکساتی ہیں۔ہم اس لئے کمزور ہیں گوکہ ہم ایٹمی قوت کے حامل ہیں،کہ ہمیں بھی معلوم ہے کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں کیونکہ ہم اس سے بغاوت کئے بیٹھے ہیں۔ہم اللہ کے آگے سجدہ ریز ہونے کے لئے تیار نہیں ۔ہمارے نزدیک امریکہ ایک بڑی قوت ہے لہٰذا اسی کے در پر ماتھا ٹیکنے پر مجبورہیں۔ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔ہم دوسروں کے سامنے ہزار سجدے کرنے کو تو تیار ہیں لیکن ایک اللہ کو سجدہ کرنے کو تیار نہیں۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے۔ آج کل ایک دوسرا بڑا اہم ایشو چل رہا ہے جو دستور کی دفعہ 62-63سے متعلق ہے۔اس کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔اس حوالے سے چند گزارشات رکھنا چاہوں گا۔ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہے۔ہم الیکشن کے ذریعے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ کہ دستور میں ایسی شقیں بھی موجود ہیں جواس کی اسلامی شقوں کو غیر موثر کردیتی ہیں۔بعض شقیں تو واضح طور پر خلاف اسلام ہیں۔لیکن پتہ نہیں کیا سیاسی مصلحت ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں اسے اسلامی دستور قرار دیتی ہیں۔اب اس کی دفعات 62-63کے حوالے سے کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ان کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ دفعات ختم نہیں ہونی چاہئیں۔سوال یہ ہے کہ ان دفعات کی موجودگی میں کیا ملک میں اسلام ہے۔اگر بقول ان کے ہمارا دستور اسلامی ہے تو بتایا جائے کہ ملک میں اسلام کہاں ہے۔ایک موقع پر میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو جتنا اسلام ہے، ہمیں اتنا بھی حاصل نہیں۔دفعہ 62-63کے چکر میں پڑنے کی بجائے اسے حقیقی اسلامی دستور بنائیں ۔ ایک زمانے میں مسلم لیگ ن کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔تب میاں نواز شریف کو سامنے لایا گیا تھا ۔انہوں نے خاصی بھاگ دوڑ بھی کی ۔ان کی جدوجہد کے نتیجے میںمسلم لیگ دوبارہ زندہ ہوئی۔ الیکشن میں اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ۔بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے خطاب جمعہ میں اسی پر گفتگو کی تھی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن بدقسمتی سے یہاں اسلام نہیں آیا۔ ( جاری ہے )

ہمارے دستور میں بھی کچھ خامیاں ہیں گو کہ اسے اسلامی دستور قرار دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا تھا کہ میاں نواز شریف صاحب کو اتنی اکثریت حاصل ہے کہ وہ دستور میں ترمیم کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کچھ ترامیم تجویز بھی کی تھیں اور ان سے کہا تھا کہ اگر انہوں نے یہ ترامیم اسمبلی سے منظور کروالیں تو یہ حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ریاست کادستور بن جائے گا۔ انہوں نے دوسری بات یہ کہی تھی کہ سود کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔اس خطاب کی کیسٹ انہوں نے میاں محمد شریف مرحوم کو بھیج دی تھی ایک خط کے ساتھ جس میں گزارش کی گئی تھی کہ اب جبکہ آپ کے صاحبزادگان کواتنی بڑی کامیابی اللہ تعالیٰ نے عطا نے فرمائی ہے اور و ہ اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ ملک کی تقدیر بدل سکیں۔انہوں نے اپنے خط میں چند مشورے بھی دئیے تھے اور کہا تھا کہ آپ یہ تقریر سن لیں اور میری بات اپنے صاحبزادگان تک پہنچادیں۔اسی کے نتیجے میں میاں محمد شریف مرحوم اپنے تینوں صاحبزادگان کے ہمراہ قرآن اکیڈمی لاہور میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے۔میں محمد شریف مرحوم نے کہا تھا کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ ہمیں زبانی بتادیں ۔ڈاکٹر صاحب نے اس موقع پر یہ بات کہی تھی کہ اس دستور میں جو خلا ہیں ان کا ازالہ کرتے ہوئے اس کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست کا دستور بنایا جائے اور آپ لو گ اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنی پارٹی کے بل پر یہ کام کرسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بہترین موقع فراہم فرمایا ہے۔دوسری بات یہ کہ سود سے فوری طور پر نجات حاصل کریں کیونکہ جب سود کی موجودگی میں اللہ اور اس کے رسول ۖ کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں تو کسی خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔بحالت موجودہ ہمیں اللہ کی نصرت و رحمت کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟بڑے میاں صاحب نے وعدہ کیا ایک سال بلکہ چھ مہینے ہی میں ہم انشاء اللہ سود کو ختم کردیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے دستور میں جو خلا ہیں ان کی نشان دہی کی تھی ۔انہوں نے مجوزہ ترامیم میاں نواز شریف کو تحریری طور پردے دی تھی ۔اس وقت چونکہ دستور کی بحث چھڑی ہوئی ہے لہٰذا میں قارئین کو پیش کررہا ہوں۔''الحمد للہ کہ ہمارے دستور میںقرارداد مقاصد دفعہ 2(الف)کی صورت میں موجود ہے جو اصولی اعتبار سے اسلامی ریاست کے پورے بنیادی فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ (قرارداد مقاصد میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اس ملک میں اصل حاکمیت اللہ کی ہوگی۔جمہوریت میں حاکمیت جمہوریعنی عوام کی ہوتی ہے۔لیکن پاکستان میں کنٹرولڈ جمہوریت ہے۔قرارداد مقاصد کے مطابق حاکم اعلیٰ اللہ ہے البتہ نیچے کی سطح پر جہاں حرام و حلال کا مسئلہ نہیں ہے وہاں اپنی اکثریت کی رائے سے کوئی بھی سسٹم بناسکتے ہیں۔)یہ قرارداد ستور میں موجود تو ہے لیکن غیر موثر ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ قرارداد کو پورے دستور پر حاوی کردیا جائے۔یہ قراردیا جائے کہ سارے دستور پر یہ دفعہ 2(الف) حاوی ہے۔باقی ساری چیزیں اس کی تشریح کی روشنی میں سمجھی جائیں گی۔جو چیز اس کو contradict کرے وہ خود بخود nulifyہوجاے گی۔(ایسا ہوبھی چکا ہے کہ ہماری عدالت نے جو فیصلہ دیا تھا وہ بہت خطرناک تھا۔ حاکم علی کیس میںجب اس کے سامنے یہ معاملہ لایا گیا کہ یہاں قرارداد مقاصد کے مطابق اللہ کی حاکمیت ہے جو صدر مملکت کو یہ اختیار نہیں دیتی کو وہ عدالت کے سزائے موت کے فیصلے کے بعد قاتل کو معاف کرسکیں ۔فیصلہ یہ دیا گیا کہ دستور کی ساری شقیں اپنی جگہ آزاد دیثیت رکھتی ہیں ۔کوئی شق کسی دوسرے شق کے تابع نہیںہے ۔چونکہ دستور کی شق 45میں صدر کو یہ اختیار تفویض کردیا گیا ہے لہٰذا انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قاتل کی سزا کو معاف کردیں۔یہ فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس سید نسیم حسن شاہ مرحوم نے دیا تھا۔اللہ کی حاکمیت کیسے قائم ہو اس کے لئے دفعہ 227موجود ہے۔ )اس میںدوسری ترمیم یہ تجویز کی کہ دفعہ 227 کو اس تشریح کے اضافے کے ساتھ کہ قرآن وسنت کوپاکستان کی اعلیٰ ترین قانون کی حیثیت حاصل ہوگی ۔اس کو دفعہ 2(ب) کی حیثیت سے قرارداد مقاصد کے ساتھ ملحق کردیا جائے تاکہ وہ موثر ہوسکے۔دفعہ 45جس میں صدر مملکت کا اختیار دیا گیا ہے ، یہ صراحت کی جائے کہ اس دفعہ کے تحت حاصل شدہ اختیار کو شرعی حدود کے ضمن میں شریعت اپیلیٹ بنچ یا سپریم کورٹ کے فیصلوں میں کسی کمی یا تبدیلی کے لئے استعمال نہیں کرسکیں گے۔فیڈرل شریعت کورٹ یا سپریم کورٹ کے شرعی اپیلیٹ بنج کے سلسلے میں ضروری ہے کہ ان کے جج صاحبان کی شرائط ملازمت کو ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کے جج صاحبان کے مساوی بنایا جائے۔فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے اپیلیٹ بنچ میں ان جید علماء کی معتدبہ تعداد کی شمولیت لازمی بنائی جائے۔(چونکہ شریعت کورٹ اور اپیلیٹ بنچ میں بھی وہ جج بٹھائے ہوتے ہیں جنہیں دین کا کوئی علم نہیں ہوتا۔اسے ایک مذاق ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔)آخری تجویز یہ دی گئی تھی کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے قیام کے بعد اب اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔(اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام ملکی قوانین کا جائزہ لے کر اس پرجو ہوم ورک کررکھا ہے کہ فلاں فلاں قوانین غیر اسلامی ہیں اور ان کی متبادل قوانین یہ ہوسکتی ہیں ، اس پروسس کو آگے بڑھایا جائے اور وفاقی شرعی عدالت اس کام کو آگے بڑھائے تاکہ ملک میں اسلامائزیشن کا پروسس باقاعدہ شروع کیا جاسکے۔یہ پانچ ترامیم ہماری جانب سے حکومت کو تجویز کی گئی تھیں لیکن اس معاملے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔چونکہ اس وقت بحث چل رہی ہے لہٰذا میں نے اس کا ذکر کردیاکہ دستور پاکستان میں اس قدر خلاء ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے ستر سال بعدبھی اسلامی نظام کے نفاذ میں ایک فیصد بھی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے گوکہ موجودہ دستور 1973ء میں منظور ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ہماری دینی جماعتوں کو بھی توفیق عنایت فرمائے کہ وہ اصل ایشوز کا ادراک بھی کریں ۔یہ تو معلوم ہو کہ ریاست کے مسائل کیا ہیں۔اس کے بعد وہ صحیح سمت میں اقدامات کریں تاکہ ملک میں اسلام کی جانب پیش رفت ہوسکے۔اللہ تعالیٰ اس معاملے میں ہم سب کو آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved