ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ
  29  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وطن ِ عزیزکے اندریقیناان افرادکی امیدوں پراوس پڑگئی ہے جونوازشریف کی نااہلی کے بعدملک میں انتشار،جمہوریت کے شہیدکہلانے کے مذموم عزائم کیلئے تیار بیٹھے تھے ۔ جنرل قمرباجوہ میڈیامیں سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پہلے کئی مرتبہ ملکی آئین کی بالادستی کابھرپوریقین بھی دلاچکے تھے لیکن اس کے باوجودنواز شریف اوران کے ساتھی شب وروزغیرذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے قومی اداروں کوبدنام کرنے میں مصروف ہیں۔بہرحال یہ خوش آئندتبدیلی کے باوجودپارلیمنٹ موجودہے نظام بھی منجمدنہیں ہوا،اسے گیئرریورس بھی نہیں لگااورنوازشریف اپنانیاوزیراعظم منتخب کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔نئے وزیراعظم کے انتخاب کے دن بڑی تعدادمیں ایوان نوازشریف کی تصاویر اور نعروں سے گونجتارہا،اس سے زیادہ غیرسنجیدہ بات اورکیاہوسکتی ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اپنے نامزدامیدوارکوووٹ دینے ایوان میں نہیں آئے ،یہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیرترین نے بھی شیخ رشیدکوووٹ دینے کیلئے ایوان میں آنا مناسب نہیں سمجھا۔ ادھرشیخ رشید بھڑکیں ماررہے تھے کہ مسلم لیگ سے ٨٣/ارکان ٹوٹ رہے ہیںاورحسب معمول جوش خطاب میں پی ٹی آئی کے ترجمان کے ساتھ ایک نشست میں مسلم لیگ کوتین دھڑوں میں تقسیم کرنے کی بھی نویدسنادی لیکن ایساکچھ نہیں ہوابلکہ جماعت کے بعض افرادسے انتہائی ناراض سابقہ وزیرداخلہ چوہدری نثاراحمدجن کی عمران خان سے طویل ملاقات کی خبرمیڈیاپرخوب وائرل ہوئی لیکن اس کے باوجودوہ انتہائی خوشگوارموڈمیںپارلیمنٹ میں خاقان عباسی کوووٹ دینے کیلئے ایوان میں موجودتھے ۔سپریم کورٹ کے نوازشریف کو نااہل قراردینے کے فیصلے کے بعدعمران خان میں اتنی ہوابھرگئی کہ س نے اپنی روایت سے بڑھ کرمخالفین پرتبرابھیجااوریوم تشکرکیلئے بلائے ہوئے اجتماع میں وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدرکے حوالے سے تونہائت بے ہودہ زبان استعمال کرتے ہوئے زرداری کوبھی للکاراجس کے نتیجے میں اپوزیشن بکھرگئی اورشاہدخاقان عباسی کے مقابلے میں متفقہ امیدوار لانے میںناکام رہی۔عمران خان یکطرفہ طورپرپہلے ہی شیخ رشیدکواپناامیدوار نامزد کرچکے تھے اورااس لئے ان بڑبولے امیدوارپرپی پی اوردیگرسیاسی جماعتیں متفق نہیں ہوئیں اورحزبِ اختلاف کے تین امیدوار میدان میں آگئے جن میں ان کی اتحادی جماعت اسلامی نے بھی اپناامیدوار کھڑاکردیا۔ شیخ رشیدکادعویٰ ہے کہ آرٹیکل ٢٦/٣٦کے تحت نوازشریف کونااہل قراردینے کی استدعاصرف انہوں نے کی تھی لیکن کیاخودشیخ رشیدان آرٹیکلزپرپورااترتے ہیں؟وہ ذراسااپنے ضمیرکوجگاکراپنے اندرجھانکیںتو انہیں احساس ہوجائے گاکہ نوازشریف کی حکومت میں بطوروزیراطلاعات کے منصب پران کے کارہائے نمایاں توابھی تک ہم گناہ گاروں کویا د ہیں ۔عمران خان تونوازشریف کے خلاف سب سے بڑے فریق ہونے کے دعویدارہیں حالانکہ جماعت اسلامی کے امیرسینیٹرسراج الحق نے گزشتہ اگست میں نوازشریف پاناماکیس کے سواچارسوسے زائدافراد کے خلاف سب سے پہلے پٹیشن دائرکی تھی اوراس مقدمے میں سب سے اہم اورمصدقہ ثبوت کی فائل ''حدیبیہ پیپرز''کے نام سے عدالت عالیہ میں پیش کرچکے ہیں جونیب ریفرنسزمیں کافی مددگارثابت ہوگی۔ عمران خان کامسئلہ الگ نوعیت کاہے ،ان کے ذہن میں یہ خیال بری طرح پیوست ہوکررہ گیاہے کہ ٣١٠٢ء کے عام انتخابات میں تووہ وزیراعظم کی کرسی پربراجمان ہو ہی گئے تھے لیکن نوازشریف نے اچانک ان کے نیچے سے یہ کرسی کھینچ لی،اس لیے عمران خان ایک کے بعدایک ہتھکنڈہ استعمال کرتے آرہے ہیں۔٥٣پنکچرکاپروپیگنڈہ کرکے دھرنے دیئے ،اسلام آبادکومفلوج کیا،لاشیں گرائیں لیکن جب عدالتی کمیشن بناتواپنے ان لزامات کاذکرتک نہیں کیاجس سے اپنے دھرنوں میں اپنی للکارسے نوجوانوں کے اذہان کو مسموم کرناان کاشیوہ بناہوا تھا۔ جب میڈیانے سوال کیاآپ نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ساری تحریک ٥٣پنکچرپرچلائی تھی،اس کاکیابناتوبڑی معصومیت سے کہہ دیاکہ مجھے تو کسی نے بتایاتھااورمیرایہ سیاسی بیان تھا۔اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدبظاہرعمران خان نے اسلام آبادمیں یوم تشکرکاجلسہ کیالیکن ان کی انااورتکبرکادرجہ کئی گنابلندہوگیااور اس کے نتیجے میں کے پی کے میں آفتاب احمدشیرپاؤ کی پارٹی کوحکومتی اتحادسے نکال باہرکھڑاکیاجبکہ اس سے پہلے بھی شیرپاؤ پارٹی پرانتہائی سنگین کرپشن تھوپ کران کوحکومتی اتحاد سے نکلنے پرمجبورکردیاتھالیکن بعدازاں کئی ماہ تک منت سماجت کے کاوشوں کے بعداپناہی تھوک چاٹتے ہوئے واپس حکومتی اتحادمیں شامل کرلیااوراب ایک دفعہ پھریہی حرکت سرزدکرچکے ہیں۔ شنیدیہ ہے کہ پی ٹی آئی میں تیزی سے گروہ بندی سرایت کررہی ہے اورکرپشن کے الزامات کی وجہ سے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی کرسی ہل رہی ہے جبکہ یوم تشکر میں عمران خان نے سینہ ٹھونک کر کسی بھی قسم کی کرپشن کی خودذمہ داری قبول کی تھی لیکن اب میڈیاکے سامنے اس دعویٰ سے بھی دستبردارہوگئے ہیں۔اسی جلسے میں صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کابھی دعویٰ کیامگراب اس کی بھی حقیقت نہ صرف طشت ازبام ہوگئی ہے بلکہ اس پراجیکٹ میں ہونے والی چارکروڑروپے کی کرپشن کاپہلاپتھرسرپرآبرسا ہے۔ عمران خان خود وزیر اعظم بنناچاہتے ہیں، ضروربنیں ،پہلے کہتے تھے کہ مجھے وزیراعظم بننے کی کوئی خواہش نہیںلیکن اب کہتے ہیں کہ عوام کی طاقت سے وزیراعظم بنناچاہتاہوں۔ وہ قوم سے ووٹ لیں اور ضرورلیں۔انہیں اندازہ ہوگیاہوگاکہ ٢٦/٣٦کی شق کے کڑے احتساب سے انہیں بھی گزرناہوگا اوراس احتساب کاپھندہ ایک خاص وقت میں ان کے گلے کاطوق بنایاجائے گا۔ابھی فی الحال الیکشن کمیشن میں توہین عدالت اورغیرملکی فنڈنگ کے مقدمات کے بھاری پتھربھی راستہ روک کرکھڑے ہیں۔ غورطلب بات یہ ہے کہ ٣١٠٢ء کے انتخابات میں عمران خان ہیروکادرجہ رکھتے تھے،دھرنوں ،احتجاجوںاوردیگرواقعات پران کی جواخلاقی کمزوریوں اورگراوٹ کی بلندسطح سے واقف تھے توانہیںقومی اسمبلی کی ٨٣نشستیں ملی تھیں ،اب اس سے زیادہ کیسے ملیں گی جبکہ ان کے انتہائی قریبی اورمخلص دوستوں نے انہیں دھرنوں اوراحتجاج کی سیاست سے کنارہ کشی کرکے مکمل طورپرکے پی کے حکومتی اصلاحی کاموں پر کام کرنے کا مشورہ دیاتاکہ اس صوبے کواصلاحات کی بدولت ایک ایساماڈل صوبہ بنادیاجائے جس سے سارے ملک میں اگلے انتخابات میں دوتہائی اکثریت مل سکے اور سارے ملک کو''نیاپاکستان''بنانے کے پروگرام پرعملدرآمدہوسکے لیکن صدافسوس کہ عمران خان نے اپنے اردگردایسا مجمع جمع کر لیا جو کہ دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی اپنی کرپشن کی وجہ سے بدنام تھے اوران نظریاتی پاکستانیوں کوخودسے دورکرلیاجوپاکستان کی تقدیربدلنے کیلئے عمران خان کی قیادت میں انقلاب لانے کیلئے بے تاب تھے۔

فرض کرلیں کہ کسی معجزاتی طاقت کی بنیادپرعمران خان نااہل ہونے سے بچ جاتے ہیں توعمران خان کے پاس ایسی کون سی جادوکی چھڑی ہے جس سے یہ آئندہ انتخابات میں دوتہائی اکثریت حاصل کرسکتے ہیں۔جس طرح وزیراعظم کے انتخابات کے موقع پرتمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ان کاروّیہ تھا،ان سے کون تعاون پرتیارہوگا جبکہ موجودہ صورتحال میں اگلے انتخابات سے قبل ہی سینیٹ میں مسلم لیگ ن واضح اکثریت سے براجمان ہوگی۔پی ٹی آئی نے جلسوں جلوسوں میں بداخلاقی اوربے ہودگی کاکلچر پروان چڑھانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اوررہی سہی کسرنوربلوچ اورعائشہ گلالئی نے پارٹی سے مستعفی ہوکرپارٹی کوشدیددھچکاپہنچادیاہے بالخصوص عائشہ گلالئی نے پارٹی میں عورتوں کی عزت نہ ہونے مغرب کی طرح بیہودہ کلچرپروان چڑھانے کاصرف الزام ہی نہیں لگایابلکہ عمران خان کودونمبرشخص اورجعلی پٹھان کہتے ہوئے فون پرغیراخلاقی پیغامات بھیجنے کاالزام بھی لگایا جس کی گونج پارلیمنٹ سے پوری قوم نے سنی اوراس کی تحقیق کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل بھی کردی گئی جوفریقین کے ٹیلیفون کے فرانزک ٹیسٹ کے بعداس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔عائشہ گلالئی نے تواپناٹیلیفون متعلقہ کمیٹی کے سپردکرنے پررضامندی کااظہارکردیاہے لیکن عمران خان نے سرے سے اس کمیٹی کوماننے سے انکارکردیاہے لیکن عمران خان اس سنگین الزام سے جان نہیں چھڑاسکتے کیونکہ پہلے بھی عمران خان اوران کی پارٹی پرایسے الزامات لگتے رہے ہیں۔عمران خان کوبھی اب اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا اور ٹھنڈے دل سے سوچناہوگاکہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔کیاوزیراعظم بننے کی خواہش غیرسنجیدہ غیراخلاقی طرزِ عمل سے پوری ہوسکے گی یاوہ سب کچھ کھودیں گے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved