امریکہ کو صحیح جواب!
  29  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پاکستان بالآخر صحیح فارم میں آ گیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی امریکہ کودوٹوک جواب دے دیا کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعظم نے ڈونالڈ ٹرمپ کے پاکستان دشمن بیان کو ناقابل قبول اور مایوس کن قرار دیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی ستمبر کے تیسرے ہفتے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ پاکستان نے صحیح رُخ اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکہ کا دورہ ملتوی کر دیا اور امریکہ کی نائب وزیرخارجہ ایلس ویز کو پاکستان آنے سے روک کر واضح پیغام دے دیا کہ ''میں باز آیا محبت سے، اٹھا لو پاندان اپنا'' ٹرمپ کا شکریہ کہ اپنی بے ہودہ گوئی سے پاکستان کے تمام عوام اور اس کی تمام سیاسی پارٹیوں کو امریکہ کے خلاف متحد کر دیا! اب پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جا رہا ہے۔ اس میں امریکہ کے بارے میں جو گرم گفتاری ہو گی وہ ڈونالڈ ٹرمپ اور حسین حقانی کی آنکھیں کھول دیں گی۔ آصف زرداری کی ناک کے بال حسین حقانی نے گزشتہ روز پاکستان کے خلاف ٹرمپ کی نئی پالیسی کی حمائت کی ہے۔ اس سے پہلے 24 اگست کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کو 43 ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے مگر پاکستان نے اس رقم سے ایٹم بم بنا لیا! اور 1950ئ، 1960ء کے عشروں میں پاکستان میں امریکی فوجی اڈے قائم نہ ہونے دیئے۔ حسین حقانی کو جھوٹ بولتے ہوئے شرم نہ آئی۔ 1959ء میںسابق صوبہ سرحد میں بڈبیڑ کا امریکی فوجی اڈاکس نے بنوایا تھا؟ اس اڈے سے سوویت یونین (اب روس) کی فضا میں پرواز کرنے والے امریکہ کے جاسوس لاک ہیڈ 'یو ٹو' طیارے کو سوویٹ ایئر فورس نے مار گرایا تھا۔ اس کے پائلٹ گیری پاور کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ اڈا پشاور سے صرف چار میل دور تھا۔ سوویٹ حکومت نے اس روز پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے نقشہ میں پشاور شہر پر سرخ دائرہ لگا دیا گیا ہے۔ اس پر امریکی سی آئی اے نے یہ اڈا ختم کر دیا مگر پاکستان کے غداری کے ملزم مفرور سابق خود ساختہ صدر پرویز مشرف نے پھر سے امریکہ کو جیکب آباد اور پسنی کے مقام پر امریکہ کو دو فوجی اڈے دے دیئے جہاں سے ڈرون طیارے پرواز کر کے پاکستان ہی کی سرزمین پر بم باری کرتے رہے۔ ٭بار بار پارٹیاں تبدیل اور جگہ جگہ شادیاں کرنے والے پاکستان کے ٹرمپ، حسین حقانی کے ذکر سے بات ذرا دور چلی گئی۔ یہ شخص آج بھی میمو سکینڈل میں سپریم کورٹ کو مطلوب ہے۔ میمو سکینڈل میں آصف زرداری کا نام بھی اسی طرح شامل ہے۔ جنہوں نے حسین حقانی کو امریکہ کے مطالبہ پر امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا۔ اس نے امریکہ جا کر امریکی سی آئی اے کے سات ہزار سے زائد کمانڈوز کو ویزے جاری کر دیئے (ایک رات میں 400 ویزے!) اسی دور میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو چار منزلہ عمارت بنانے کی اجازت دی گئی جس کی آٹھ منزلیں تعمیر کر لی گئیں، کسی نے آج تک اعتراض نہ کیا۔ اس عمارت میں بیک وقت سات ہزار کمانڈوز رہ سکتے ہیں۔ اس عمارت میں ایسا جدید مواصلاتی مرکز قائم ہے جو کسی بھی وقت پاکستان بھر میں ہر قسم کے مواصلاتی رابطوں کو جام کر سکتا ہے۔ یہ ستم زرداری دور میں ہوا مگر نواز حکومت بھی خاموش رہی۔ ٭میں پھر سے موجودہ صورت حال کی طرف آتا ہوں۔ میں داد دیتا ہوں وزیرخارجہ خواجہ آصف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جرأت مندی کو کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور اس کے درباری وزیروں اور نمائندوں کو کھلا پیغام دے دیا کہ اپنی نام نہاد امداد اپنے پاس رکھو، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ امریکہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ افغانستان میں نیٹو کو ہر قسم کا اسلحہ اور خوراک پہنچانے کے لئے پاکستان کے زمینی اور فضائی راستے بند کر دیئے جائیں۔ چند روز میں ہوش ٹھکانے آ جائیں گے! اب اندازہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کا چار سال تک کوئی وزیرخارجہ نہ رکھنے سے ملک کو کیا بھاری نقصان پہنچا ہے! نوازشریف اور سرتاج عزیز امریکہ کے بارے میں کیوں خاموش ہیں۔ ٭دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف جبر و ستم کی انتہا پسندانہ کارروائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ فلپائن، میانمار، مقبوضہ کشمیر، فلسطین سے لے کر برطانیہ اور امریکہ تک انتہا پسندوں نے مسلمانوںکو نشانہ بنا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے حالات تو سامنے آتے رہتے ہیں مگر میانمار میں مسلمانوں کی ابتر حالت کے بارے میں زیادہ باتیں سامنے نہیں آ رہیں۔ میانمر بہت عرصہ تک برما کا نام سے معروف رہا۔ اس کی سرزمین پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی قبر ہے۔ اسی سرزمین پر معروف قانون دان ایس ایم ظفر پیدا ہوئے۔ اس وقت یہ سرزمین برصغیر کا ہی ایک حصہ شمار ہوتی تھی۔ اس میں برصغیر کے مسلمان تاجروں نے تجارت کوبہت فروغ دیا بہت سے مسلمان وہیں رچ بس گئے اور برمی خواتین سے شادیاں کر لیں۔ وہاں بدھ مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہے۔ طویل عرصہ تک بدھ اور مسلمان باشندے ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر مل جل کر رہتے تھے۔ بدھ مت کی بنیادی تعلیم امن سکون اور انسانوں سے محبت کی ہے مگر کچھ عرصہ سے بدھ مت کے پییروکارو ںنے یہ سارا فلسفہ بھلا کر وحشت اور دہشت کو اپنا مذہب بنا لیا، مسلمانوں کی بے شمار بستیاں تباہ کر دیں، ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ ان پر روزگار کے وسائل بند کر دیئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان سرحد پار کر کے بنگلہ دیش چلے گئے مگر بنگلہ دیش نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس وقت ہزاروں مسلمان بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے میں بے یارومددگار کیمپوں میں انتہائی کٹھن زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ گزشتہ روز بدھ حملہ آوروں سے جان بچا کر سینکڑوں مسلمان باشندے بنگلہ دیش کی طرف بھاگے تھے تو میانمر کی فوج نے ان پر فائرنگ کر دی۔ کسی طرح تقریباً ایک سو افراد بنگلہ دیش میں داخل ہو گئے تو بنگلہ دیش کی سرحدی پولیس نے انہیں واپس سرحد پار دھکیل دیا۔ یہ ہر روز پیش آنے والے ایک عام صورتِ حال ہے مگرعالم اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہمارے حکمرانوں، مذہبی، سیاسی تنظیموں نے کبھی ان باتوں کا نوٹس لیا؟ کبھی میانمر کے سفارت خانے کو کوئی یادداشت پیش کی؟ کوئی احتجاجی ریلی، جلسہ، جلوس نکالا؟ میں میانمر میں ظلم و ستم کے شکار بھائیوں کی خیریت کی دعا کر رہا ہوں۔

کچھ مختصر خبریں: سابق چیف آف سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دو بھائیوں کامران کیانی اور امجد کیانی کے خلاف کرپشن کے کیس چل رہے ہیں۔ کامران کیانی پر ڈی ایچ او کے معاملات میں اربوں کے کرپشن کا کیس ہے۔ وہ بھاگ کر امریکہ میں رہ رہا ہے۔ اس کی گرفتاری کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جنرل کیانی کے ترجمان کا بیان آ چکا ہے کہ ان کا اپنے بھائیو ںکے اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ٹھیک ہے تعلق نہیں ہو گا مگر وہ ان کی اس بھاری اور طویل کرپشن سے بھی ناواقف تھے؟ ٭کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی گولہ باری سے فاروڈ کہوٹہ کے علاقہ میں دو جوان بہن بھائی عاصمہ اور نوید شہید ہو گئے۔ والد مشتاق شیخ اور ایک بھائی عنصر شدید زخمی ہوئے۔ انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ دو روز قبل ہجیرہ کے نزدیک دھرم سال کے گائوں پر بھارتی فائرنگ سے روزنامہ اوصاف کے نمائندہ شوکت بٹ کے مکان کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ مکان کچھ عرصہ پہلے بھارتی گولہ باری سے تباہ ہو گیا تھا۔ مجھے یہ تباہ شدہ گھر اور اس میں پڑے بھارتی گولوں کے شیل دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ گائوں ایک پہاڑی کے نیچے واقع ہے۔ اوپر چند سو فٹ کی بلندی پر کنٹرول لائن واقع ہے۔ یہ سارا علاقہ مسلسل بھارتی فائرنگ کی زد میں رہتا ہے۔ بہت سے لوگ شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، بہت سے مکانات تباہ ہو گئے۔ مگر اس وسیع سرحدی علاقے میں کوئی مناسب حفاظتی اقدامات، کوئی ہسپتال، کوئی سفری سہولت، ایمبولینس کچھ نہیں۔ چند ہیلتھ سنٹر ہیں جہاں کوئی ڈاکٹر نہیں جاتا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
33%
ٹھیک ہے
67%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved