ٹرمپ کی نئی ایشین پالیسی
  30  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کئی ہفتوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوب مشرقی ایشیا کیلئے نئی خارجہ پالیسی کاشور وغوغہ تھا، اس ہفتے یہ انتظار ختم ہوا اور بلّی تھیلے سے باہر آئی تو کافی لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی اور ان لوگوں میں صرف پاکستانی ہی نہیں تھے بلکہ امریکہ اور دنیا کے کئی ممالک کے لوگ شامل تھے۔ مجھے بہرحال تعجب تو نہیں ہوا مگر افسوس ضرور ہوا، حیرانی اس لئے نہیں ہوئی کیوں کہ ٹرمپ اپنی صدارت کے آٹھ ماہ مکمل کرچکے ہیں اور ان کا سیاسی کھوکھلا پن اب کوئی راز نہیں رہا۔ انہیں نہ تو اندرون ملک حالات کا ادراک ہے اور نہ ہی وہ خارجہ امور کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں، اُن کو سفارتی زبان بالکل نہیں آتی جس کا تازہ ترین ثبوت انھوں نے اس حالیہ تقریر میں دیا جس میں انھوں نے اپنی ایشیائی پالیسی کا اظہار کیا اور پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہوئے نہ صرف غیر سفارتی بلکہ غیر اخلاقی انداز بیان اختیار کیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اربوں ڈالر پاکستان کو دئیے اور پاکستان ان ہی دہشت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے جن سے ہم جنگ کررہے ہیں، اطلاعاً عرض ہے کہ اب تک امریکا نے جو تیس ارب ڈالر دئیے وہ کسی مالی امداد کی مد میں نہیں دئیے بلکہ امریکی عسکری کارگو کو کراچی سے وصول کرکے طور خم کے پار کرنے کی سروس، پرویز مشرف کے دور میں ہوائی اڈے استعمال کرنے اور اسی طرح کی متعدد سہولتوں کی فراہمی کے عوض دئیے گئے، یہ نہ تو مالی امداد کے زمرے میں آتے ہیں اور نہ ہی فوجی امداد کے۔ حقیقتاً اگر کسی نے فوجی امداد لاجسٹکس کی صورت میں فراہم کی ہے تو فراہمی کرنے والا ملک پاکستان ہے، اپنی ہی فوج پر خرچ کئے گئے تیس ارب ڈالر کا رونا رونے والے امریکی صدرکو یہ ضرور معلوم ہوگا کہ افغانستان کی جنگ اور اس سے سَر اٹھانے والی دہشتگردی کے نتیجے میں پاکستان کو اب تک ایک سو ستائیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ پاکستانی فوجی اور سویلین شہادتوں کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں دو نوجوانوں کی شہادت بھی شامل ہے، اس جنگ اور اس سے پیدا ہونے والی دہشت گردی نے پاکستانی عوام کی ذہنی سوچ(Psyche) ہی بدل کر رکھ دی ہے اور یہ ایسا نقصان ہے جسے ڈالروں میں تولا نہیں جاسکتا۔ پاکستان کی مالی اور فوجی'' مدد'' بند کرنے کی دھمکی کے ساتھ ٹرمپ نے ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا کردار ادا کرے، جہاں تک سوشل سہولیات مثلاً سڑکیں، اسپتال اور اسکول وغیرہ تعمیر کرنے کا تعلق ہے وہاں تک تو ٹھیک ہے مگر فوجی کردار؟ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہندوستان کے پاس اتنے ذرائع ہوں کہ وہ اپنی فوج ہوائی راستوں سے افغانستان میں اتارے۔ یہ جب ہی ممکن ہے جب اس کے جہاز مقبوضہ کشمیر، روس اور وسطی ایشائی ممالک کی فضا استعمال کریں، ایک ایسے ملک کیلئے جہاں ساٹھ کروڑ انسان آج بھی ٹائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں، یہ بڑا مہنگا بلکہ ناممکن سودا ہوگا اور پھر جو طالبان امریکی افواج کو کافر کہہ کر مارہے ہیں وہ ہندو مہاشے کے ساتھ کیا کریں گے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان جغرافیائی طور سے ایسیStrategic Position میں ہے کہ امریکہ افغانستان کی جنگ بغیر پاکستانی مدد کے جیتنا تو درکنارلڑ بھی نہیں سکتا۔ جب پاکستان نے چند ہفتوں کیلئے کراچی سے طور خم کی راہ گزر بند کردی تھی تو کیا ہوا تھا؟ بہتر ہے کہ پینٹاگان اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اپنے نومولود صدر کو تاریخ کا یہ ورق پڑھادیں۔اس کے علاوہ بھی پاکستان اورافغانستان میں جو قبائلی اور زبان کے رشتے ہیں اُن کا امریکہ اور بھارت کے پاس کیا توڑ ہوگا۔ یہ الزام کہ پاکستان کے طالبان کے حقّانی گروپ سے تعلقات ہیں عرصہ ہوا بے معنی ہوچکا کہ ضرب عضب، ردّ الفساد اور خیبر آپریشنز میں کسی بھی گروپ سے کوئی مراعات نہیں برتی گئیں۔ مندرجہ بالا بیان کردہ حقائق سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کو اپنا رول افغانستان میں ادا کرنے کی دعوت دینے کا نتیجہ وہاں بھارتی سویلین اثر ورسوخ بڑھانا ہے، بھارت پہلے ہی افغانستان کے مشرقی علاقوں سے پاکستان میں دخل اندازی اور دہشت گردی کروارہا ہے، مستقبل میں مزید کئی اور کمانڈر کلبھوشن یادیو سامنے آسکتے ہیں۔ فوجی انداز میں تو نہیں مگر غیر فوجی یا نیم فوجی انداز میں بھارت پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدیں غیر مستحکم کرسکتا ہے، شاید امریکہ یہی چاہتاہے، اس ممکنہ صورتحال کا نتیجہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی بڑھنے اور سرحدیں'' گرم'' ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے جو کسی کیلئے بھی بشمول امریکہ، اچھا نہیں ہوگا۔ جنوب مشرقی ایشیاء میں امریکہ کا دوسرا درد سر شمالی کوریا کی ریاست ہے، جہاں کے جوان حکمران نے امریکیوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ انتہائی نا ہموار حالات اور مغربی دنیا کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود شمالی کوریا نے اپنا میزائل پروگرام نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں، حال ہی میں ہونے والی پیش رفت میں شمالی کوریا نے انٹر کانٹینیٹل بیلسٹک میزائلInter-continental Ballistic Missile کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ میزائل امریکہ کی مغربی ریاست الاسکا کو نشانہ بناسکتا ہے اور اس کی ججھکتی ہوئی تصدیق امریکا نے بھی کردی ہے، اب پینٹاگان اپنےAnti Missile System کوٹیسٹ اور اپ ڈیٹ کررہا ہے، تاریخ میںآج تک امریکی عوام نے کوئی بین القوامی جنگ اپنی سرزمین پر ہوتے نہیں دیکھی شاید شمالی کوریا کے صدر جانگ اَن اس ریکارڈ کو توڑ کر تاریخ تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں اور امریکی صدر کو گیڈر بھبکیوں سے آگے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

بائی دی وے! امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب سب سے پہلے بلکہ فوراً ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دیا، جبکہ ہماری وزارت خارجہ اس ہتک کا جواب بنانے کیلئے ڈرافٹ ہی بناتی رہ گئی، یوں بھی ہمارے ملک کو اس حکومت کے چار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد جو وزیر خارجہ میّسر آیا ہے، اس کو بھی خارجہ امور کا اتنا ہی ادراک ہے جتنا امریکی صدر کو، بقول شاعر خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved