جنگ کسی بھی مسئلے کاحل نہیں
  30  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب سے ٹرمپ نے قصرسفیدمیں پاؤں رکھاہے ،اپنی عجیب وغریب حماقتوں سے آئے دن امریکی قوم کی جگ ہنسائی کاموجب بن رہے ہیں۔صہیونی لابی کوخوش کرنے کیلئے کئی مسلم ممالک کے باشندوں پرامریکاآمدپرپابندی لگادی جس پرامریکا کی بعض ریاستوں نے اس حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیاجس پرعدالت نے ٹرمپ کے اس حکم کو مستردکردیا۔میکسیکوکی ہزاروں میل سرحدپر باڑلگانے کااعلان کردیاتووہاں بھی منہ کی کھاناپڑی۔ان دنوںایک حلقے کی طرف سے ان کے انتخابات میں روسی مداخلت کی مددکاشور ان کی پریشانی کاسبب بناہواہے اوران کے خلاف اعلی پیمانے کی کمیٹی امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے بل بوتے پر دھاندلی کے الزامات کی بھرپور تفتیش کررہی ہے اور عنقریب آپ کی اور آپ کے بیٹے کی گردن قانونی شکنجے کی گرفت میں آنے والی ہے۔ صدرٹرمپ نے اقتدارسنبھالتے ہی جونہی میڈیاکوبری طرح حقارت کانشانہ بنایاتوامریکی میڈیاکے علاوہ عالمی میڈیاکے ساتھ غیرصحت مندانہ مسابقت شروع ہوگئی ۔اپنی اس خامی پرقابوپانے کیلئے قریبی مشیروں کی رفاقت بھی کام نہ آسکی توقصرسفیدکے بین الاقوامی امورکی حکمت عملی کے سربراہ اورقریبی مشیر((Chief Strategist اسٹیفن کیون بینن (Stephen Kevin Bannon)کوبھی سات ماہ کے بعد محض اس لئے برطرف کردیاکہ اس نے صدرٹرمپ کوشمالی کوریاکے میزائل تجربے پرانتہاپسندپالیسی کی بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اختیارکرنے کامشورہ دیاکہ اوّل توشمالی کوریاپرامریکی اقتصادی اثرورسوخ ختم ہوچکاہے اوردوسراکوریابھی ایک ایٹمی قوت ہے اورکسی بھی ''مس ایڈونچر''کی صورت میں فوری طورپراس کا راست اقدام ناگزیرہے اورتیسری اہم وجہ شمالی کوریاپرحملہ چین کے مفادات پرضرب سمجھاجائے گاجس کے خوفناک نتائج ہوں گے ،اس لئے فی الحال شمالی کوریاکاکوئی بھی فوجی حل سوچنے کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنانی ہوگی گویااسٹیفن کیون بینن نے شمالی کوریاکے معاملے پر آئینہ دکھایاتوموصوف برامان گئے ۔ دوسری طرف حال ہی میںقصرسفیدمیں براجمان ٹرمپ نے اپنے فرعونی اندازمیں امریکی اقدارکاخون کرتے ہوئے جس طرح فاشسٹ کرداروں اورنسل پرستی کوہوادیکرامریکی کثیرالاقدارمعاشرے کومزیدتقسیم کرکے ملکی آہنگی کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی کوبھی پچھلے کئی سال پیچھے دھکیل دیاہے جس پرکیلی فورنیاکے مشہورزمانہ فلمی اداکارآرنالڈشوارزنگرکو صدرٹرمپ کونسلی منافرت پھیلانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی عوام کے عتاب کاسامناکرنے کی دھمکی دینی پڑی۔ادھرانتخابی مہم کے دوراان ٹرمپ نے امریکی عوام سے جہاں اورکئی بے شماروعدے کئے وہاں افغانستان اور دنیابھرمیں موجودامریکی افواج کوواپس بلانے کاوعدہ کیاتھالیکن اقتدارسنبھالتے ہی وہ نہ صرف اب تک اپنے کسی بھی وعدے کو پوراکرنے سے قاصرہیں بلکہ سابقہ صدورکی پالیسیوں پرگامزن ہیں اوربالخصوص اوباماکی طرف سے ہرحال میں اافغانستان سے اپنی افواج کونکالنے کے وعدے کوبھی بری طرح پامال کررہے ہیں۔موصوف کواب جن مسائل کااندرونِ ملک سامناہے ،ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے اورامریکی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے اب انہیں کوئی بیرونی ایشوکی ضرورت ہے تاکہ اندرونی درگت سے گلوخلاصی ہوسکے جس کیلئے انہوں نے افغانستان میں سولہ سال جاری شکست کاپاکستان پرملبہ ڈالنے کی ناکام کوشش شروع کردی ہے۔ تاریخ شاہدہے کہ امریکانے دنیابھرمیں ٨٣ممالک پراپنی بھرپورفرعونی طاقت سے ظالمانہ یلغارکرکے ان کوتاراج توکیالیکن فتح حاصل کرنے کی بجائے بالآخررسواہوکرنکلناان کا مقدررہااورہمیشہ اپنی ناکامی اورشکست کاملبہ پڑوسی ملک پرڈالناان کاشیوہ رہا۔ویت نام سے ہاراتوالزام کمبوڈیاپر،عراق سے رسواہواتوالزام ایران پراوراب افغانستان میں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں توتمام ترناکامیوں اورشکست کاملبہ پاکستان پرڈال کرڈومورکامطالبہ کردیا ہے۔ابھی ان دھمکیوں کے ابتدائی خدو خال ہی سامنے آئے ہیں اورٹرمپ کی تقریرکاپہلی مرتبہ ان کی امیدوں کے برعکس جواب دیاگیاہے کہ پاکستان کوکسی مدد کی نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان قربانیوں کے اعتراف کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کوموردِ الزام ٹھہراتے ہوئے جس مددکا تذکرہ کیاہے دراصل امریکانے افغان جنگ میںپاکستان کے ہوائی اڈوں،فضائی اورزمینی حدودکواستعمال کرنے کے عوض عالمی ضابطوں اورقوانین کے مطابق کہیںکم رقم اداکی جبکہ پاکستانی فاسق کمانڈوپرویزمشرف کے غلط فیصلے کی سزا کے طورپرپاکستان اب تک ایک سوبیس ارب ڈالرسے زیادہ معاشی نقصان اور٠٧ہزارافراد جس میں چھ ہزارسے زائدسیکورٹی فورسزکے افرادجان سے ہاتھ دھوچکے ہیں،اس لئے امریکی امدادکی بندش کی گیدڑبھبکی کایقیناکوئی اثرنہیں لیاگیا۔ اوردوسری طرف شمالی کوریا کے مقابلہ میں پاکستان کامعاملہ کئی گناگھمبیرہے۔ پاکستان کی ملٹری اور ایٹمی طاقت کسی بھی مس ایڈونچر کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اورپہلی مرتبہ پاکستان کوجواب دینے سے قبل چین کھل کرمیدان میں اترآیاہے اوراس نے امریکاکوایک ہی دن میں دومرتبہ اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے رابطہ کرکے ہوش کے ناخن لینے کامشورہ دیاہے اورروس نے بھی پاکستان کی حمائت میں بیان دیتے ہوئے امریکاکوزمینی حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے۔یادرہے کہ پچھلے ایک سال سے روس،پاکستان اور چین کے اس خطے میںباہمی مفادات کے کئی میدانوں میں تعاون تیزی سے جاری ہے،یوں پاکستان پرحملہ ان تینوں ملکوں پرتصورکیاجائے گاجس کیلئے امریکامیں کئی سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں نے ٹرمپ کی تقریرکے بعداپنے شدیدردّ عمل کااظہارکرتے ہوئے اسے ٹرمپ کی تہہ بر تہہ حماقتوں والی مثال سے تشبیہ دی ہے جس سے امریکی قوم کی جگ ہنسائی کا موجب بنے گی۔اس لئے یہاں بھی امریکا کے پاس شمالی کوریاکی طرح کوئی ملٹری آپشن موجود نہیں ہے۔ دراصل چین کی ترقی کرتی ہوئی معیشت نے تیزی نے اقوام عالم کی نہ صرف توجہ بلکہ عالمی منڈیوں پربھی دسترس اوربرتری حاصل کرلی ہے اورامریکاکی بگڑتی ہوئی معیشت اور اندرونِ خانہ مسائل کے انبارسے وقتی طورپرچھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے حسبِ معمول ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی سطح پرخوف وہراس پھیلانے کی دھمکی آمیز پالیسی کاسہارالیتے ہوئے سازشوں کایہ نیاسلسلہ شروع کیاہے۔دوسری طرف مودی سرکاربھی اندرونِ خانہ عروج پرپہنچی ہوئی ہندوانتہاء پسندی کی وجہ سے سول سوسائٹی کے بحران اورمقبوضہ کشمیرمیں بڑھتی ہوئی جدوجہدآزادی کی تحریک سے نجات حاصل کرنے کیلئے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے بالآخرٹرمپ کے گھٹنوں کوچھوکرمددکے طلب گارہیں۔امریکانے اپنے مفادکیلئے اس خطے میںبھارتی کانگڑی پہلوان کی ڈھیلی اورکانپتی ٹانگوں کاسہارادینے کی احمقانہ کوشش توکی لیکن مودی سرکارکو''سرمنڈاتے ہی اولے پڑے''کے مصداق ڈوکلام میں چینی افواج کاسامنا کرتے ہوئے اوقات یادآگئی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی نفرت اورتعصب کے طوفان کونشیبی علاقوں میں منتقل کرنے کی بھونڈی کوشش توضرورکی ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ہرقسم کاطوفان ہمیشہ نشیبی علاقوں میں غرق ہوکرفناہوجاتاہے۔ اس دورِ جدیدمیںجنگ کی خواہش خودکشی سے کم نہیں اوراب توجنگ کی ہولناکی کے چندلمحات ہی اس دنیاپرہرذی روح کاصفایا کرنے کیلئے کافی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب جارحیت کامقابلہ اورجنگ سے بچنے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کوبطوردفاع ضروری ہوگیاہے۔ چین کاٹرمپ کے بیان پر فوری ردعمل اورامریکی اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطہ بھی سامنے آچکا ہے،اس سے اگلے دن روس نے بھی اپنے خدشات اورتشویش کااظہارکیاہے۔آج امریکا اور اسکی افواج شکست خوردہ حالت میں ہیں اور امریکہ کی معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے۔ ( جاری ہے ) ٠١جولائی ٥١٠٢ء کوپاکستان چین اور روس کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے دفاعی اتحاد میں شامل ہوچکا ہے جبکہ دوسری طرف تمام تر جنگوں کے باجود حیران کن انداز میں پاک فوج نے اپنی طاقت بڑھائی جس نے پاکستان کوبھرپوراعتمادسے سرشارکیاہے۔نائن الیون کے وقت بش نے جب پاکستان پر حملے کی دھمکی دی تھی اس وقت پاکستان کے پاس آپشنز محدود تھے۔ ہماری میزائل رینج محض چند سو کلومیٹر تک تھی۔ چین اس وقت نہ اتنی بڑی معاشی طاقت بنا تھا نہ اس کی دفاعی طاقت کی یہ حالت تھی۔ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات خراب تھے اور اس وقت امریکا اپنے جوبن پر تھا۔ افغان اور عراق جنگ کی رسوائی کاسامنابھی نہیں ہواتھا لیکن اب زمینی حقائق میں زمین آسمان کافرق آچکاہے۔اب جہاںپاکستان کا تیمورمیزائل ٧١ہزار کلومیٹر کی پرواز کر سکتا ہے جو براہ راست واشنگٹن ڈی سی، نیویارک اور پینٹاگان کو نشانہ بنا سکتا ہے وہاں ابدالی بیلسٹک میزائل ایک ہی وقت میں بھارت اوراسرائیل کے درجن سے زائدٹھکانوں کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خطے میں موجود تمام امریکن فورسز اور ان کے اڈے پاکستانی میزائلوں کے براہ راست نشانے پر ہیں جہاں ان کے پاس کوئی میزائل ڈیفنس شیلڈ بھی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکانے پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی کی صلاحیت کومحدودکرنے کابھی مطالبہ کیاہے۔ جب امریکا نے سٹیلتھ ہیلی کاپٹروں سے دنیا کو ڈرایا جو ریڈار پر نظر نہیں آتے تو پاکستان نے جہاں حتف (٧بابر)میزائل کا تجربہ کیا جو سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور ریڈار پر نظر نہیں آتا وہی اس نے چین سے جے١٣ سٹیلتھ فائٹرجہازوں کاایک بیڑہ کے ساتھ اس کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرلی ہے۔ امریکا نے غالبا ٹنگسٹن کاربائٹ (دنیا کی سخت ترین دھات )سے بنے ٹینک اتار کر عراقی افواج کو حیران کر دیا جس پر عراقی افواج کے تمام ہتھیار غیر موثر ثابت ہوئے تھے ۔پاک فوج کے انجینئرز نے جواباً تھوڑے ہی عرصے میں اسی دھات کے ایسے گولے بنا لیے جو ان امریکن ٹینکوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ امریکا نے پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی دینے سے انکار کیا تو پاکستان نے اگلے ایک سال میں براق نامی اپنے ڈرون تیار کر لیے جو نہایت درستگی کے ساتھ دشمن کو نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔ امریکانے پاکستان سے ایف ٦١طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے باوجود معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طیارے دیئے نہ ہی رقم واپس کی توپاکستان نے اپنے وفاداردوست چین کے تعاون سے نہ صرف اس سے کہیں بہتر ''جے تھنڈر''تیارکرلیابلکہ دنیاکے کئی ممالک کوفروخت بھی کررہاہے۔حال ہی میں پاکستان نے جدیدترین ٹیکنالوجی سے مزین مزیدپچاس ''جے ایف٧١''فائٹرطیارے خریدکراپنی فضائی قوت کومزیدمضبوط کرلیاہے۔ ٹرمپ شائد اس کو کوئی ریسلنگ کا نقلی میچ سمجھ رہا ہے۔چاہے انڈیا سے جتنی مرضی پینگیں بڑھا لے، اس کو اندازہ ہی نہیں پاکستان کے بغیر اس خطے میں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔آج تک امریکانے دنیا بھر میں حملے کیے لیکن اس کی اپنی عوام ہزاروں میل دور بیٹھ کر چین کی بانسری بجاتی رہی لیکن اگر پاکستان پر جنگ مسکط کرنے کی کوشش کی گئی تو ان شاء اللہ امریکی عوام اور خواص براہ راست اس جنگ کا مزہ چکھیں گے۔ ٹرمپ نے اپنی تقریرمیںجس (دس ارب ڈالر کی امداد)کاطعنہ دیاہے ،اس سے کہیں زیادہ تو ہر سال صرف سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں ہاں البتہ پاکستان کے پاس شواہد ہیں کہ امریکانے ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کی ہے جس نے پاکستان کو کم از کم پچاس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اورمجموعی طورپراس پرائی جنگ میں ہمیں اب تک سترہزارسے زائدجانی قربانیوں کے ساتھ ایک سوبیس ارب ڈالرسے زائدکانقصان پہنچ چکاہے اوراب وقت آگیاہے کہ پاکستان اس کا تاوان طلب کرے۔ پاکستان فورا ًشنگھائی تعاون تنظیم میں شامل اہم ترین شق " مشترکہ دفاع " کو ایکسرسائز کرے جس کے مطابق پاکستان پر حملہ روس اور چین پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان روس اور چین کے ساتھ ملکر " دہشت گردی " کی ایک عالمی تعریف وضع کرنے کی کوشش کرے تاکہ اصل دہشت گردوں کا تعئن ہوسکے اور جنگ آزادی اور دہشت گردی میں فرق واضح ہوسکے۔ حکومت پاکستان اعلان کرے کہ پاکستان میں کوئی ڈرون داخل ہوا تو نہ صرف گرایا جائے گا بلکہ جوابی حملہ بھی کیا جائے گا۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریرکے جواب میں یقیناقومی سلامتی کاایک طویل اجلاس منعقدہوچکاہے جس کے جواب میں پاکستانی وزیرخارجہ کامتوقع امریکی دورۂ مؤخرکردیاگیاہے اوراپنے قریبی دوستوں روس اورچین سے مشاورت جاری ہے۔پاکستان کوفوراً شنگھائی تعاون تنظیم کی اہم ترین شق''مشترکہ دفاع''کوایکسرسائزکیاجائے کہ کسی بھی متوقع حملے کو پاکستان،روس اورچین پرحملہ تصورکیاجائے گااور''دہشت گردی''کی عالمی تعریف بھی وضع کی جائے تاکہ اصل دہشت گردوں کاتعین کیاجاسکے،جنگ آزادی اوردہشت گردی میں فرق واضح کیاجائے۔اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق کشمیرمیں جاری آزادی کی جدوجہداور اقوام عالم کی طرف سے کئے گئے وعدے حق خودارادیت کے حصول کیلئے ان کی مددکی جائے۔جہاں تک افغانستان کاتعلق ہے تو جب تک امریکی کٹھ پتلی حکومت افغانستان میں براجمان ہے ور امریکی فوج وہاں تعینات ہے ،افغانی اس کے خلاف برسرپیکار رہیںگے کہ یہ افغانیوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ بیرونی جارحیت کا مقابلہ کریں۔امریکایہ کیوں بھول گیاہے کہ اس نے بھی اپنی تاریخ میں انگلینڈ سے آزادی کیلئے یہی کچھ کیاتھا۔

صہیونی اورہندو لابی کے ساتھ ساتھ امریکاکویہ واضح پیغام دیناہوگاکہ امریکا پاکستان کو فتح کرنے کا موقع ضائع کر چکا ، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔جنگ کسی بھی مسئلے کاحل نہیں اورزمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے بالآخرمذاکرات کی میزپرہی آناہوگا۔جب دو لاکھ کے قریب نیٹو فورسز مل کر افغانستان میں فتح حاصل نہ کر سکیں تو اب نیٹو کی مدد کے بغیر چند ہزار امریکی آکر کون سا تیر مار لیں گے؟جب کراچی سے خیبر تک بکھرے ہوئے کوئی لاکھ کے قریب ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ اور ایم کیو ایم کے دہشت گرد مل کر پاکستان کو کمزور نہ کر سکے تو اب ان کے بچ جانے والے چند سو کارندے کیا کر لیں گے؟ضربِ عضب اورردّالفسادکے جاری آپریشنزمیں کامیابیاںاورقربانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان تاقیامت ، تا ابد قائم رہے گا ان شاء اللہ!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved