بیت اللہ تو طاقت و رحمت کا اصل مرکز ہے
  30  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اللہ کا گھر آباد تھا' آباد ہے اور تاقیامت یونہی آباد رہے گا... اللہ کے گھر یعنی بیت اللہ کو جس نے بھی بے آباد کرنے کی کوشش کی... وہ اور اسکی ابلیسی فوج کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ہوگئی... بیت اللہ اور حرمین شریفین کے تحفظ کی بات کرنا سیاست نہیں عبادت ہے... جس بیت اللہ کے گرد ہر وقت عقیدتوں 'مال اور محبتوں سے سرشار انسانوں کا عظیم اجتماع حرکت میں رہتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دیکر اپنے دل کی سیاہی دھونے کی کوشش کرتا ہے... ملتزم سے لپٹ کر اپنے مولیٰ کریم کو راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے... ''رکن یمانی،، کی طرف ہاتھ بلند کرکے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتا ہے... مقام ابراہیم پر پہنچ کر دو نفل ادا کرنے کے لئے تڑپتا رہتا ہے... اس بیت اللہ اور اس کے خادموں کی بات کرنا جزو و ایمان ہونا چاہیے۔ بیت اللہ میں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں عشاق رسولۖ خود یہاں پہنچ کر اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلب گار ہوتے ہیں... ''حرمین،، میں آکر دلوں کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں... یہاں پر کبھی طواف کرتے ہوئے اپنی دعائوں میں اللہ کی مدد اور نفرت مانگتے ہیں اور کبھی سر بلند و عزت مند صفا مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے اپنے' اپنے گھر والوں اور ملک و ملت کے تحفظ کی التجائیں کرتے ہیں ... جو بیت اللہ پوری امت مسلمہ کے اتحاد کی علامت ہو' جو بیت اللہ... دنیا میں اللہ کی رحمتوں کا مرکز و محور ہو... جس بیت اللہ شریف کے حوالے سے قرآن میں ارشاد خداوندی ہے۔ ترجمہ: ''اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت و ہدایت والا ہے جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں' مقام ابراہیم ہے اس میں جو آجائے امن والا ہو جاتا ہے' اللہ تعالیڈ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پاسکتے ہوں' اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے' اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے) بلکہ تمام دنیا سے بے پرواہ ہے،، (آل عمران) جس کعبہ شریف کو پہلی مرتبہ فرشتوں نے دوسری مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا ہو... جس کعبہ شریف کو تیسری مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا... جبکہ چوتھی مرتبہ قریش مکہ نے جس وقت آقا مولیٰۖ کی عمر مبارک ابھی صرف 25 تھی۔ حضرت علی بن حسین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے نیچے ایک گھر تیار کیا اس کے زمرد کے چار ستون ہیں... ان سب کو ایک سرخ یاقوت سے ڈھانپا گیا ہے... اس کو بیت المعمور کہتے ہیں جس کا باقاعدہ قرآن میں ذکر موجود ہے' اس گھر کا ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا کہ زمین میں میرا گھر تیار کرو... فرشتوں نے بیت المعمور کے نیچے اسی ہیت یعنی طول و عرض کا گھر بنایا' پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ میرے اس گھر کا طواف کریں۔ اسی بیت المعمور کے نیچے تعمیر کیا گیا گھر کعبہ شریف ہے ... جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعمیر کعبہ کا حکم ہوا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پائوں مار کر زمین کے نیچے سے بنیاد ظاہر کر دی... اس میں فرشتوں نے اتنے بڑے بڑے پتھر پھینکے تھے کہ جن کو 30آدمی مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہ پتھر پانچ پہاڑوں سے لئے گئے تھے... -1 طورسینا-2زیتون-3لبنان-4جودی -5حرا... ان پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے حضرت آدم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی' جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت سیدہ ہاجرہ علیہ السلام کو بے آب و گیاہ وادی میں قیام کرایا گیا تو ایک دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے... اسماعیل اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے... وہ کہنے لگے... ٹھیک ہے جو حکم ملا ہے اسے بجالائیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتایا کہ ''مجھے اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے گھر کی تعمیر کا حکم دیا ہے... پھر انہوں نے مل کر بیت اللہ کی بنیادوں کو اٹھایا' بیٹے اسماعیل علیہ السلام پتھر لائے تھے اور باب ابراہیم علیہ السلام مستری بن کر عمارت بناتے تھے... حتیٰ کہ جب عمارت اونچی ہوگئی تو سیدنا اسماعیل علیہ السلام مقام ابراہیم والا پتھر لائے... اور اپنے بابا ابراہیم علیہ السلام کے پاس رکھ دیا... تاکہ اس پر چڑھ کر عمارت بنا سکیں۔ دونوں انبیاء تعمیر کعبہ کے وقت بیت اللہ کے گرد گھومتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے ''اے اللہ! یہ کام ہماری طرف سے قبول فرما' یقینا تو خوب سننے اور جاننے والا ہے۔ اس کعبہ شریف... اور مکہ مدینہ کے تحفظ کی بات کرنا... حرمین شریفین کے دشمنوں کے خلاف بات کرنا... اور لکھنا ایمان تھا'ایمان ہے اور ایمان رہے گا' انسانوں کا بے پناہ رش بیس لاکھ کے لگ تھگ زائرین پہنچ چکے... میں نے یہاں پر ایرانی بھی ' قطری بھی ' انڈین بھی' بنگلہ دیشی بھی' صومالیہ والے بھی ہیں... افریقہ کے صحرائوں میں بسنے والے بھی دیکھے' امریکہ کے شہروں میں رہنے والے بھی دیکھے... یہاں پر صرف پاکستان سے ایک لاکھ اکتہر ہزار کے لگ بھگ عشاق پہنچے ہوئے ہیں۔

مگر کائنات کے مختلف کونوں اور حصوں سے مختلف رنگ و نسل... کے لوگوں کو ایک لباس میں لبیک اللھم لبیک کے ترانے پڑھتے ہوئے دیکھا بھی... اور کانوں سے سنا بھی... یہاں فرقہ واریت کا دور دور تک وجود ہی نہیں ہے... لسانیت' صوبائیت' قومیت کے چکروں سے نکل کر... ہر کوئی اپنے آپ کو ''مسلمان،، اور محمد کریمۖ کا امتی سمجھتا ہے... یہاں کے ''شرطے،، یعنی مقامی پولیس والے... ظالم' جابر یا رشوت خور نہیں... بلکہ اپنے آپ کو فرزاندان توحید کا حقیقی خادم سمجھتے ہیں... سعودی عرب نے دنیا بھر سے تشریف لانے والے فرزندان توحید کی ریلیف کے لئے جو بہتر سے بہتر انتظامات ہوسکتے ہیں وہ کئے ہیں۔ کچھ ''روسیاہ،، کہتے ہیں کہ حرمین شریفین پر قبضہ کرلیا جائے گا' نعوذ باللہ... ان ''روسیا،، شیطانوں کو کوئی بتائے کہ یہاں کسی کے 5مرلے کے گھر پر کوئی مافیا کا ڈان قبضہ کرلے' تو اس 5مرلہ گھر کا مالک... قبضہ گروپ کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگانے سے گریز نہیں کرتا' بیت اللہ تو فرشتوں اور انبیاء کا تعمیر کردہ اللہ کا گھر ہے... حرمین شریفین تو ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کا روحانی مرکز و محور کے طور پر جانا جاتا ہے... جس دن حرمین شریفین کی طرف ناپاک ہاتھ بڑھے وہ دن دشمنان حرمین شریفین کی سیاہ بدبختی کا آخری دن ہوگا۔ ان شاء اللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved