ناقابل بیان، لرزہ خیز باتیں
  30  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سمجھ میں نہیںآرہا، حواس گم ہیں ! قوم سے لرزہ خیز خبر چھپائی جارہی ہے کہ عالمی عدالت کے ثالث نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کیس میں معاہدہ شکنی پر پاکستان کو آٹھ ارب ڈالر( 8کھرب 56ارب روپے)جرمانہ کردیا ہے۔ دوسری خبر کہ امریکی حکومت نے پاکستان کے سرکاری اہتمام والے حبیب بینک کو 66ارب روپے جرمانہ کانوٹس دے دیا ہے۔ تیسری خبر: ملتان میٹرو منصوبے میں خاموشی کے ساتھ چین کی ایک نامعلوم ، فرضی فرم کے نام تین ارب روپے منتقل کردیئے گئے۔ پاکستان میں تو کوئی کارروائی نہ ہوئی ، چین میں منی لانڈرنگ کے جرم میں بعض افراد کو گرفتار کرلیاگیاہے۔ ان تینوں واقعات کی تفصیلات اتنی ہولناک اور دل ہلا دینے والی ہیں کہ مرزا غالب کا وہ مصرع بھی چھوٹا پڑ گیا ہے کہ '' حیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو مَیں!''۔ ان خبروں میں سب سے زیادہ ہولناک خبر بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کے بے حد وسیع معدنی ذخائر کے بارے میں اس انداز سے معاہدہ شکنی کی ہے کہ اس انتہائی مالامال منصوبے سے ایک پیسہ بھی نہ حاصل کیاجاسکا مگر ہاتھ سے آٹھ کھرب 56 ارب روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ یہی نہیں، قومی خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر لٹانے والوں نے عالمی عدالت میں کیس لڑنے کے لیے پاکستان کی بجائے لندن کے نہائت مہنگے وکیل 'ہاف مین 'کو کروڑوں بلکہ اربوں کی فیس بھی ادا کی ۔ مزید یہ کہ کروڑوں روپے دے کر ایک فیز یبلٹی رپورٹ بھی بنوائی اور اسے مسترد کردیاگیا۔ اس دھاندلی میں جنرل پرویز مشرف، آصف زرداری اور نوازشریف خود اور ان کی حکومتیں براہ راست پوری طرح ملوث ہیں۔ ان سب کا سخت ترین محاسبہ ضروری ہے۔ اب سمجھ میں آسکتا ہے کہ ان لوگوں نے بیرون ملک اربوں کھربوں کے اثاثے کیسے بنالئے؟ یہ بہت سنگین کیس ہے۔ اس کی مختصر روداد یوں ہے ۔ ٭آج سے40 سال پہلے1978ء میں انکشاف کیا گیا کہ افغانستان اور ایران کی سرحدوں سے صرف چند کلو میٹر دور بلوچستان کے علاقہ چاغی کے ریگستانی علاقے میں ریکوڈک مقام پر سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ چاغی کا ضلع بہت وسیع ریگستان پرمشتمل ہے۔ پورے ضلع کی آبادی تقریباً 26 لاکھ ہے۔ زندگی کے وسائل بہت کم ہیں۔ ایک طرف افغانستان ، دوسری طرف ایران کی سرحد یں ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً 55 ہزار افغان مہاجرین بھی رہ رہے ہیں۔1993ء میں سونے چاندی کے ان ذخائر کو نکالنے کے لیے آسٹریلیا کی ایک کمپنی B.H.P کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ اس نے یہ معاہدہ چلی، کینیڈا اور آسٹریلیا کے ایک کنسوریشم T.T.C کو منتقل کردیا۔ اس کنسورشیم نے کروڑوں روپے کے عوض طویل عرصہ میں ایک فیزیبلٹی رپورٹ تیار کی، اسے بلوچستان کی حکومت نے مسترد کردیا۔اس دوران یہ منصوبہ وفاقی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اربوں روپے کا ٹھیکہ مشترکہ کنسورشیم اور ایک چینی کمپنی کودے دیا۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک کام کرتے رہے۔ اطلاعات عام ہونے لگیں کہ یہ غیر ملکی فرمیں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر اپنے ملکوں کو منتقل کرچکی ہیں۔ ظاہر ہے یہ کام اعلیٰ ترین سطحوں پر موجود مقامی معاونین کی بھاری مالی معاونت کے بغیرنہیں ہوا ہوگا! ان شکایات کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت میں سہ رکنی بنچ نے2013ء میں یہ سارا معاہدہ منسوخ کردیا۔اس پر یہ غیر ملکی کمپنیاں ثالثی کے لیے عالمی عدالت میں پہنچ گئیں۔ عدالت کے جرمنی کے ثالثی ٹربیونل ''کلاس ساچز ''نے طویل سماعت کے بعد پاکستان کے مؤقف کو مسترد کردیااوراسے معاہدہ شکنی کے الزام میں آٹھ ارب ڈالر( آٹھ کھرب56 ارب روپے) جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے! یہ تو تھی اس انتہائی اذیت ناک کیس کی مختصر رود داد، مگر اب ملک وقوم کے ساتھ خود اس کے حکمران کیا رویہ اختیار کررہے ہیں! اس سارے معاملہ میں پرویز مشرف، آصف زرداری اور نوازشریف یکساں شامل رہے مگر قوم کو کسی مرحلے پر آگاہ نہ رکھا گیا۔اب بھی عالمی ثالث کے فیصلے کو قوم سے چھپایا گیا مگر مقدمہ کے مدعی کنسورشیم ٹی ٹی سی نے خبرجاری کی تو اسے بھی عوام تک نہ پہنچنے دیاگیا تاہم سینیٹ کے بعض ارکان کو کسی طرح خبر مل گئی۔ ان کے استفسار پر نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ باتیں صرف نہائت خفیہ اجلاس میں بتائی جاسکتی ہیں۔ ایک کمیٹی کے خفیہ اجلاس میں یہ باتیں بتائی گئیں اور انہیں انتہائی احتیاط کے ساتھ میڈیا تک نہ جانے دیاگیا۔ صرف اتنا بتایاگیا کہ ریکوڈک کامنصوبہ اب بلوچستان کی حکومت کے حوالے کردیاگیا ہے۔اس پر کیا تبصرہ کیاجائے؟ ٭لندن کے تعلیمی اداروں نے جنرل(ر) پرویز مشرف کے لیکچر منسوخ کردیئے۔ پرویز مشرف نے پیسے کمانے کے لیے یہ لیکچر رکھوائے تھے۔ مگر مشرقی اور افریقی علوم کے سکول اور لندن یونیورسٹی کو خبردار کیا گیا کہ اس شخص کے آنے پر شدید مظاہرے ہوسکتے ہیں اس پر لیکچر منسوخ ہوگئے۔ ٭ایک قابل تحسین مثال: آزاد کشمیر کے شہر ہٹیاں بالا میں پولیس کے اے ایس آئی قاری محمد سلیم شیخ نے ہیلمٹ نہ پہننے پر اپنے بیٹے عمر سلیم شیخ کو300 روپے جرمانہ کردیااور انتباہ کیا کہ آئندہ قانون شکنی کی تو اسے تھانے میں بند کردیاجائے گا! زندہ باد قاری محمد سلیم شیخ ! اس دور میں ایسی ایمان افروزی !فرض کی اس دیانت دارانہ انجام دہی پر محترم قارئین کی طرف سے مبارکباد! ٭آئی ایس آئی کے سابق افسر میجر عامر کا سنسنی خیز انکشاف کہ بھارتی حکومت کا قومی سلامتی کا مشیر اجیت دوول سات سال تک لاہور میں ملنگ بنا بیٹھا رہا! ملک کی 16 انٹیلی جنس ایجنسیاں بے خبر رہیں!! ٭اسلام آباد میں نیب کی نئی عمارت بن گئی۔50 کروڑ روپے کا تخمینہ تھا، ایک ارب 70 کروڑ خرچ کردیئے۔ یہ نہیں بتایا گیاکہ نیب کی18 سال کی کارکردگی کیا ہے؟ البتہ یہ کہ نئی عمارت میں نیب کا اپنا تھانہ اور حوالا ت بھی بنائی گئی ہے۔ مزید یہ کہ نیب کے چیئرمین کے دفتر میں دنیا بھر کی جدید ترین سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ٭ایس ایم ایس: میرا چھوٹا بیٹا بہت بیمار ہے۔ اسے آپریشن لکھ دیاگیا ہے جو راولپنڈی میں ہی ہوسکتا ہے۔ میرے پاس تو آنے جانے کا کرایہ نہیں۔ آپریشن کیسے ہوسکے گا؟ میں بہت پریشان ہوں۔ میری اپیل چھاپ دیں ۔ کوئی درد مند لوگ بیٹے کا علاج کرادیں۔ محمد صابر باڑیال ضلع باغ آزاد کشمیر (0344-5439341)(کسی قسم کی امداد سے پہلے ذاتی طورپر پوری تحقیق ضروری ہے۔) ٭ہماراگاؤں پانی جیسی نعمت سے محروم ہے۔ عورتیں کئی میل دور سے پانی لاتی ہیں۔ سڑکیں بھی تباہ حال ہیں۔ اس علاقے کے ایم این اے کیپٹن صفدر اور ایم پی اے ابرارحسین کو کئی بار متوجہ کیاگیا، کوئی اثر نہیں ہوا ۔سجاد احمد بنگش چھٹہ ادگی(CHATA- OGI) مانسہرہ(0343-0927028) (ان ارکان اسمبلی کووٹ کیوں دیئے تھے؟ آئندہ یہ غلطی نہ کریں!) ٭ہماری بستی میں آج تک بجلی نہ لگ سکی۔ کئی مرتبہ جمشید دستی اور ایم پی اے قسور لنگڑیال کو درخواستیں دیں، کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ لوگ ووٹ لے کر پھر کسی کی بات نہیں سنتے۔ ہماری اپیل چھاپ دیں۔ محمد جعفر بھٹہ، بستی روگ والا، موضع تِل جال والا، یونین کونسل حسن پور ہ ترنڈ، تحصیل وضلع مظفر گڑھ این اے 178۔ (0301-5301217)

٭ میرا تعلق بلتستان کے ایک پسماندہ گاؤں داریل سے ہے۔ یہاں بہت سے غریب لوگ بستے ہیں۔ وہ عید کی خوشیاں منانے سے بھی قاصر ہیں۔ممکن ہوتو ان غریب لوگوں کے لیے کسی طرح راشن اور مالی تعاون کاانتظام فرما دیں۔ ثناء اللہ (0355-5304226)( ذاتی طورپر پوری تحقیق ضروری ہے)۔ ٭ملک بھر میں4G سسٹم چل رہا ہے۔ میر پور میں 3G بھی نہیںآیا۔ ایسا کیوں ؟ عاقب کامران (0345-5482210)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved