جنگ کسی بھی مسئلے کاحل نہیں
  31  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ٠١جولائی ٥١٠٢ء کوپاکستان چین اور روس کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے دفاعی اتحاد میں شامل ہوچکا ہے جبکہ دوسری طرف تمام تر جنگوں کے باجود حیران کن انداز میں پاک فوج نے اپنی طاقت بڑھائی جس نے پاکستان کوبھرپوراعتمادسے سرشارکیاہے۔ نائن الیون کے وقت بش نے جب پاکستان پر حملے کی دھمکی دی تھی اس وقت پاکستان کے پاس آپشنز محدود تھے۔ ہماری میزائل رینج محض چند سو کلومیٹر تک تھی۔ چین اس وقت نہ اتنی بڑی معاشی طاقت بنا تھا نہ اس کی دفاعی طاقت کی یہ حالت تھی۔ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات خراب تھے اور اس وقت امریکا اپنے جوبن پر تھا۔ افغان اور عراق جنگ کی رسوائی کاسامنابھی نہیں ہواتھا لیکن اب زمینی حقائق میں زمین آسمان کافرق آچکاہے۔اب جہاںپاکستان کا تیمورمیزائل ٧١ہزار کلومیٹر کی پرواز کر سکتا ہے جو براہ راست واشنگٹن ڈی سی، نیویارک اور پینٹاگان کو نشانہ بنا سکتا ہے وہاں ابدالی بیلسٹک میزائل ایک ہی وقت میں بھارت اوراسرائیل کے درجن سے زائدٹھکانوں کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خطے میں موجود تمام امریکن فورسز اور ان کے اڈے پاکستانی میزائلوں کے براہ راست نشانے پر ہیں جہاں ان کے پاس کوئی میزائل ڈیفنس شیلڈ بھی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکانے پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی کی صلاحیت کومحدودکرنے کابھی مطالبہ کیاہے۔ جب امریکا نے سٹیلتھ ہیلی کاپٹروں سے دنیا کو ڈرایا جو ریڈار پر نظر نہیں آتے تو پاکستان نے جہاں حتف (٧بابر)میزائل کا تجربہ کیا جو سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور ریڈار پر نظر نہیں آتا وہی اس نے چین سے جے١٣ سٹیلتھ فائٹرجہازوں کاایک بیڑہ کے ساتھ اس کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرلی ہے۔ امریکا نے غالبا ٹنگسٹن کاربائٹ (دنیا کی سخت ترین دھات )سے بنے ٹینک اتار کر عراقی افواج کو حیران کر دیا جس پر عراقی افواج کے تمام ہتھیار غیر موثر ثابت ہوئے تھے ۔پاک فوج کے انجینئرز نے جواباً تھوڑے ہی عرصے میں اسی دھات کے ایسے گولے بنا لیے جو ان امریکن ٹینکوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ امریکا نے پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی دینے سے انکار کیا تو پاکستان نے اگلے ایک سال میں براق نامی اپنے ڈرون تیار کر لیے جو نہایت درستگی کے ساتھ دشمن کو نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔ امریکانے پاکستان سے ایف ٦١طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے باوجود معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طیارے دیئے نہ ہی رقم واپس کی توپاکستان نے اپنے وفاداردوست چین کے تعاون سے نہ صرف اس سے کہیں بہتر ''جے تھنڈر''تیارکرلیابلکہ دنیاکے کئی ممالک کوفروخت بھی کررہاہے۔حال ہی میں پاکستان نے جدیدترین ٹیکنالوجی سے مزین مزیدپچاس ''جے ایف٧١''فائٹرطیارے خریدکراپنی فضائی قوت کومزیدمضبوط کرلیاہے۔ ٹرمپ شائد اس کو کوئی ریسلنگ کا نقلی میچ سمجھ رہا ہے۔چاہے انڈیا سے جتنی مرضی پینگیں بڑھا لے، اس کو اندازہ ہی نہیں پاکستان کے بغیر اس خطے میں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔آج تک امریکانے دنیا بھر میں حملے کیے لیکن اس کی اپنی عوام ہزاروں میل دور بیٹھ کر چین کی بانسری بجاتی رہی لیکن اگر پاکستان پر جنگ مسکط کرنے کی کوشش کی گئی تو ان شاء اللہ امریکی عوام اور خواص براہ راست اس جنگ کا مزہ چکھیں گے۔ ٹرمپ نے اپنی تقریرمیںجس (دس ارب ڈالر کی امداد)کاطعنہ دیاہے ،اس سے کہیں زیادہ تو ہر سال صرف سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں ہاں البتہ پاکستان کے پاس شواہد ہیں کہ امریکانے ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کی ہے جس نے پاکستان کو کم از کم پچاس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اورمجموعی طورپراس پرائی جنگ میں ہمیں اب تک سترہزارسے زائدجانی قربانیوں کے ساتھ ایک سوبیس ارب ڈالرسے زائدکانقصان پہنچ چکاہے اوراب وقت آگیاہے کہ پاکستان اس کا تاوان طلب کرے۔ پاکستان فورا ًشنگھائی تعاون تنظیم میں شامل اہم ترین شق " مشترکہ دفاع " کو ایکسرسائز کرے جس کے مطابق پاکستان پر حملہ روس اور چین پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان روس اور چین کے ساتھ ملکر " دہشت گردی " کی ایک عالمی تعریف وضع کرنے کی کوشش کرے تاکہ اصل دہشت گردوں کا تعئن ہوسکے اور جنگ آزادی اور دہشت گردی میں فرق واضح ہوسکے۔ حکومت پاکستان اعلان کرے کہ پاکستان میں کوئی ڈرون داخل ہوا تو نہ صرف گرایا جائے گا بلکہ جوابی حملہ بھی کیا جائے گا۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریرکے جواب میں یقیناقومی سلامتی کاایک طویل اجلاس منعقدہوچکاہے جس کے جواب میں پاکستانی وزیرخارجہ کامتوقع امریکی دورۂ مؤخرکردیاگیاہے اوراپنے قریبی دوستوں روس اورچین سے مشاورت جاری ہے۔پاکستان کوفوراً شنگھائی تعاون تنظیم کی اہم ترین شق''مشترکہ دفاع''کوایکسرسائزکیاجائے کہ کسی بھی متوقع حملے کو پاکستان،روس اورچین پرحملہ تصورکیاجائے گااور''دہشت گردی''کی عالمی تعریف بھی وضع کی جائے تاکہ اصل دہشت گردوں کاتعین کیاجاسکے،جنگ آزادی اوردہشت گردی میں فرق واضح کیاجائے۔اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق کشمیرمیں جاری آزادی کی جدوجہداور اقوام عالم کی طرف سے کئے گئے وعدے حق خودارادیت کے حصول کیلئے ان کی مددکی جائے۔جہاں تک افغانستان کاتعلق ہے تو جب تک امریکی کٹھ پتلی حکومت افغانستان میں براجمان ہے اور امریکی فوج وہاں تعینات ہے ،افغانی اس کے خلاف برسرپیکار رہیںگے کہ یہ افغانیوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ بیرونی جارحیت کا مقابلہ کریں۔امریکایہ کیوں بھول گیاہے کہ اس نے بھی اپنی تاریخ میں انگلینڈ سے آزادی کیلئے یہی کچھ کیاتھا۔ صہیونی اورہندو لابی کے ساتھ ساتھ امریکاکویہ واضح پیغام دیناہوگاکہ امریکا پاکستان کو فتح کرنے کا موقع ضائع کر چکا ، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔جنگ کسی بھی مسئلے کاحل نہیں اورزمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے بالآخرمذاکرات کی میزپرہی آناہوگا۔جب دو لاکھ کے قریب نیٹو فورسز مل کر افغانستان میں فتح حاصل نہ کر سکیں تو اب نیٹو کی مدد کے بغیر چند ہزار امریکی آکر کون سا تیر مار لیں گے؟جب کراچی سے خیبر تک بکھرے ہوئے کوئی لاکھ کے قریب ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ اور ایم کیو ایم کے دہشت گرد مل کر پاکستان کو کمزور نہ کر سکے تو اب ان کے بچ جانے والے چند سو کارندے کیا کر لیں گے؟ضربِ عضب اورردّالفسادکے جاری آپریشنزمیں کامیابیاں اور قربانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان تاقیامت ، تا ابد قائم رہے گا ان شاء اللہ!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved