قومی اسمبلی کا امریکہ کے نام گرم پیغام
  31  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ قومی اسمبلی بھی جاگ پڑی۔ دیر سے سہی تاہم جنبش میں تو آئی۔ بہت سے ارکان نے امریکہ کو یکساں لہجے میں کھری کھری سنادیںاوراُسے انتباہ کیاکہ ہمیں اُس کی امداد کی کوئی ضرورت نہیں، وہ پاکستان کے بارے میں کوئی اقدام کرنے سے پہلے سوچ لے پاکستان کوئی معمولی ملک نہیں۔ قومی اسمبلی ملک کا سب سے بڑا عوامی نمائندہ ادارہ ہے۔ اس کے بیانیہ کو امریکہ آسانی سے نظراندازنہیںکرسکے گا۔ تاہم بہتر ہوتا کہ پوری پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایاجاتا۔ ٭کوئی شعبہ، کوئی محکمہ ، کوئی وزارت جس میں کرپشن کی کوئی شکائت نہ ملی ہو! گزشتہ کالم میں ریکوڈیک سیکنڈل کی کچھ روداد چھپی تھی۔ آج نیویارک میں قائم پاکستان حبیب بینک کو امریکی حکومت کی طرف سے 66 ارب روپے جرمانہ اور ملتان میٹرو کے فنڈز میں سو ادوارب ( ایک اطلاع تین ارب کی) روپے ایک جعلی کمپنی کے ذریعے چین بھیجے جانے کے بارے میں کچھ باتیں پڑھئے۔ اسی دوران یہ خبربھی کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب پودے لگا نے کے منصوبہ میں ابتدائی طورپر کروڑوں روپے خوردبرد کرلئے گئے۔ 145افسروں اور اہلکاروں کے خلاف تحقیقات ، کچھ برطرف، کچھ معطل...! الزام کے مطابق سات لاکھ پودے لگائے گئے، ریکارڈ میں 10لاکھ دکھا دیئے۔ یہ باتیں پڑھئے:۔ ٭نیویارک میں حبیب بینک طویل عرصے سے قائم ہے۔امریکی ذرائع کے مطابق کچھ عرصے سے امریکی حکام کو اطلاع مل رہی تھیں کہ اس بینک کا نہ صرف القاعدہ اور طالبان کے مالی معاملات سے تعلق ہے بلکہ یہ کہ اس کے ذریعے پاکستان کے سابق وزیراعظم کو کروڑوں کی رقوم بھی بھیجی جارہی ہیں۔ امریکہ کی سرکاری تحقیقاتی ایجنسی ''امریکی فنانس سروسز'' نے تحقیقات کیں تو اس نے مبینہ طورپر دریافت کیا کہ حبیب بینک کا سعودی عرب میں قائم 'الراجی' بینک سے گہرا رابطہ ہے اور الراجی بینک سے حبیب بینک کو بھاری رقوم بھیجی جارہی ہیں جو بعض ذرائع کے مطابق القاعدہ اور طالبان کے استعمال آنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔اس بارے میں ٹھوس شواہد تو معلوم نہ ہوسکے تاہم امریکی فنانس سروسز کے مطابق حبیب بینک سے کسی جگہ بھیجی جانے والی رقوم کی24 فیصد ٹرانزیکشنز مشتبہ پائی گئیں۔ یہ معاملہ تو مشکوک قرار پایامگر حبیب بینک کے ذریعے تین مارچ 2014ء سے 19 جنوری2016ء تک دس مختلف تاریخوں میں جاتی عمرا لاہور کے علاقہ میںواقع سٹینڈرڈ چارٹر بینک کے ذریعے میاں نوازشریف کو 30 کروڑ 45لاکھ57 ہزار 203 روپے بھیجے جانے کا معاملہ نکل آیا۔ ان تاریخوں اور ان کے ذریعے بھی جانے والی رقوم کی تفصیل چھپ چکی ہے۔ سب سے زیادہ رقم سات کروڑ 99 لاکھ 990 روپے 9 مارچ 2015ء کو بھیجی گئی ۔ یہ رقوم کہاں سے آئیں؟ میاں نوازشریف سے ان کا کیا تعلق تھا؟ اس بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں۔ اب ملتان میٹرو کے فنڈز میں سوا دو ارب ( تین ارب!) روپے کی منی لانڈرنگ کا قصہ! اس کی پنجاب حکومت کے علاوہ سکیورٹی ایکس چینج کمشن نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ملتان میٹرو کی تعمیر کے لیے تین رجسٹرڈ فرموں، چائنا فرسٹ ریلوے ، حبیب رفیق اور 'میٹرو کون' کو29ارب روپے کا ٹھیکہ دیا گیا مگر ایک چوتھی کمپنی کیپٹل انجینئرنگ نامعلوم طریقوں سے خود بخود اس معاملہ میں شریک ہوگئی۔ اس کمپنی کی ذیلی کمپنیUBRAITE نے بعض معاملات سنبھال لئے۔یہ کمپنی نہ تو سکیورٹی ایکس چینج کمیشن کے پاس رجسٹرڈ تھی نہ ہی اس کا کوئی سابقہ ریکارڈ موجود تھا۔ اس کامالک خرم شہزاد ہے۔ اس کمپنی کے ذریعے چین کی ایک کمپنی کو سوا دوارب روپے منتقل کردیئے گئے۔ چین کے مالیاتی حکام نے اس رقم کی منتقلی کو غیر قانونی قراردے کر ملتان آکر تحقیقات کیں۔ مبینہ طورپر اس میں اس جعلی کمپنی کے مالک خرم شہزاد نے تسلیم کرلیا کہ اس نے منی لانڈرنگ کے ذریعے چین کو رقم بھیجی ہے۔ چینی حکام نے واپس جاکر متعلقہ چینی افراد کوگرفتار کرلیامگر پاکستان میں سکیورٹی ایکس چینج کمیشن نے معاملہ دبا دیااو ر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب یہ معاملہ کسی طرح سے پھر سامنے آیا ہے تو سکیورٹی ایکس چینج نے خود کوئی کارروائی کرنے کی بجائے مزید دبانے کے لیے اسے وزارت خزانہ کو بھجوا دیاہے کہ اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ یوں یہ معاملہ مزید طویل عرصے کے لیے التوا میں چلاگیاہے۔ ان خبروں کے ساتھ یہ خبربھی پڑھ لیجئے کہ پچھلے ایک سال میں پاکستانی افراد نے دبئی میں سات ارب درہم(196 ارب) روپے کی جائیدادیں خریدی ہیں۔ یہ صرف ایک سال کی بات ہے یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ دبئی کے سرکاری اعدادوشمارکے مطابق دنیا بھرکے بہت سے ملکوں میں سب سے زیادہ جائیدادیں خریدنے والو ں میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایاکہ پاکستانی باشندوں نے کھربوں کی یہ رقوم کس طرح دبئی منتقل کیں؟ ٭ان اذیت ناک خبروں کے درمیان چند دلچسپ خبریں: گوجرانوالہ میں ایک نوجوان سیالکوٹ سے دلہن بیاہ کر لایا۔ رونمائی کے وقت دلہن نے عجب فرمائش کر دی کہ کوئی انگوٹھی روپیہ پیسہ نہیں، بس ایک دُنبہ لا دو۔ دولہا کو فرمائش پوری کرنی پڑی نصف رات کے وقت منڈی میں گیا۔40 ہزارروپے کا ایک دُنبہ خریدا، اسے گھرلایااور رونمائی ہوگئی۔ ٭لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عمارت کے صحن میں ایک بہت پرانا برگد کا پیڑ ہے۔ اس کے نیچے وکیل حضرات بیٹھتے ہیں اور اوپر بہت سے کوّے رہتے ہیں۔ وکیل کالے کوٹ پہنتے ہیں اورکوّوں کا رنگ کالا ہوتاہے۔ گزشتہ روز کسی بات پر کوّوں کا ایک جوڑا وکیلوں سے ناراض ہوکر ان پر برس پڑا۔ حیرت یہ کہ عام لباس والے افراد کوکچھ نہیں کہا مگر کالے کوٹوں پر حملے شروع کردیئے۔ وکیل حضرات میں افراتفری مچ گئی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ برسوں سے وکیلوں کے ساتھ مل جل کر رہنے والے کوّے کس بات پر مشتعل ہو گئے؟ تاہم اگلے روز انہوں نے مفاہمت کرلی اور وکیلوں کوکچھ نہیں کہا۔ ٭ایس ایم ایس: آزاد کشمیر میں2008ء میں ٹیوٹا سکیم کا آغاز ہوا۔ ہم لوگوں نے2010ء میں اس سکیم کے مختلف شعبوں میں کام شروع کیا۔ ہم 228 ملازمین میں سے صرف 30خواتین کو مستقل کیاگیا۔ باقی سب کو فارغ کیاجارہاہے۔ 9 ماہ سے تنخواہ بھی نہیں دی جارہیں۔ سابق وزیراعظم نے مظفر آباد پریس کلب میں تمام ملازمین کو مستقل کرنے کایقین دلایا تھامگر ہم تقریباً100 سب ڈویژن کلرکوں (SDC) کے ساتھ ظلم ہورہاہے۔ ہماری اپیل چھاپ دیں کہ ہمیں بے روزگارنہ کیاجائے۔ٹیوٹا ملازمین(0344-9698983) ٭خیبر پختونخوا کی حکومت نے ملازمت کے لیے پی ٹی سی اورسی ٹی کی شرط ختم کردی ہے۔ اب ہر کوئی درخواست دے سکتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے زیادتی ہے جنہوں نے ہزاروں روپے خرچ کرکے یہ کورس کئے ہیں۔ اس ناانصافی کو روکا جائے۔ خالد شاہ چارسدہ(0344-9747037) ٭ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال باغ ( آزادکشمیر) میں ایک مرد ڈاکٹر خواتین کا بھی الٹرا ساؤنڈ کرتاہے۔ یہ بات ناقابل قبول ہے۔ خواتین کے الٹراساؤنڈ کے لیے کوئی خاتون مقرر کی جائے۔ محمدادریس ASIپولیس (0342-5606009)

( ایک مرد کے ہاتھ خواتین کا الٹراساؤنڈ ناقابل قبول ہی نہیں، ناقابل تصور بھی ہے۔ بہت سی خواتین باپردہ اور بعض اوقات کسی خاص حالت میں ہوتی ہیں۔ ایسا نہ بھی ہوتو یہ بات بالکل نامناسب ہے۔ بتایاگیا ہے کہ ہسپتال جب سے بناہے، یہی نظام چل رہاہے! آزاد کشمیر کا محکمہ صحت کہاں ہے؟ کیا اسے اس بات کا علم نہیں ہے؟ اس سلسلے میں آزاد کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر مجیدنقی اور ڈائریکٹر جنرل صحت چودھری بشیر احمد سے بات کرنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں کے فون بند تھے…!!) ٭پانچ ایسے ایس ایم ایس روک لئے گئے ہیں جن کے نیچے بھیجنے والے کا نام پتہ نہیں تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved