پاکستان:امن کاضامن
  1  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب سے ٹرمپ نے افغان پالیسی کااعلان کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے،خودامریکامیں سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکاکی جنگ ہنسائی میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ٹرمپ نے اپنی تقریرمیں امریکی فوج کی بے حدستائش بلکہ خوشامدکرتے ہوئے اپنی افواج کے سابقہ طرزِ عمل کی نفی کی ہے۔اپنی فوج کی قربانیوں کاذکر کرتے ہوئے اگر ان کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے یہ سوال کرنابھی ضروری تھاکہ آخردنیاکی سب سے بہترین ٹیکنالوجی اورجدیدترین ہتھیاروں سے لیس پچھلے سولہ سال سے اب بھی شکست سے کیوں دوچارہے؟دنیابھرسے اتحادی ممالک کی زمینی افواج کی بھرپورمدد اورآسمان سے بارش کی طرح خطرناک بموں کی بارش کے باوجودطالبان کی فتوحات کاسلسلہ درازہی ہوتاجارہاہے ۔خودامریکی اطلاعات کے مطابق صرف افغانستان میں دس کھرب ڈالرسے زائدکے جنگی اخراجات کے علاوہ ۷۸۴۳ /امریکی اوراتحادی افواج کے تابوت اورپندرہ ہزار سے زائدزخمیوں میں آٹھ ہزار مستقل معذورفوجیوں کی گراں قدرقیمت اداکرنے کے باوجودجاری جنگی جنون کوپاگل پن کے سواکیانام دیاجائے؟ ٹرمپ نے پاکستان پرتوقع کے مطابق دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ ترجیحی سلوک کاواضح تاثردیاہے۔ٹرمپ نے بھی اپنے پیشروؤں کی طرح پاکستان پراس لزام کودہرایاکہ ۰۲ دہشتگردوں کی تنظیمیں نہ صرف کام کررہی ہیں بلکہ ان کی محفوظ پناہ گاہیں بھی موجودہیں جوافغانستان کے علاوہ دنیابھرمیں دہشتگردی میں مطلوب ہیں۔اس دوران لیپاپوتی کرتے ہوئے اس دہشتگردی کے خلاف پاکستانی قوم کی قربانیوں کابھی اعتراف کیا لیکن ضربِ عضب اورردّالفساد ایسے کامیاب آپریشنزکے ذکرسے گریزکرتے ہوئے ’’ڈومور‘‘کافوری مطالبہ کر دیا۔ٹرمپ نے پاکستان پردہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی اوردہشتگردوں کے ساتھ پاکستان کے مبینہ نرم سلوک کاالزام تولگادیامگرپوری دنیاجانتی ہے کہ امریکابہادربرسوں سے عالمی سطح پرانسداد دہشتگردی کے نام پرسب سے بڑے دہشتگرد کا کرداراداکررہاہے۔ اس حقیقت کوہرمتوازن اورسنجیدہ فکرمبصرتسلیم کرتاہے کہ صد رٹرمپ خودایک عالمی دہشتگردہے جواقوام متحدہ کی قراردادوں کوردکرتے ہوئے بھارت کومقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں کوحق خودارادیت کامطالبہ کرنے کی بجائے ان کودہشتگردقرار دے رہاہے جومودی سرکارسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمدکامطالبہ کررہے ہیں۔امریکاکی جانب سے کشمیری عسکری کمانڈرسیدصلاح الدین کے بعدکشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کودہشتگردتنظیموں میں شامل کرنے کے خلاف مقبوضہ کشمیراورآزادجموں وکشمیر میں احتجاج،اضطراب اور اشتعال کی جونئی لہراٹھی ہے ،وہ بھی ٹرمپ دہشتگردی کا ردِّعمل ہے۔صدر ٹرمپ نے قیام امن کیلئے پاکستان،بھارت اور افغانستان سے مددکی اپیل کی ہے۔انہوں نے پاکستان سے مزیدتعاون(ڈومور)کامطالبہ کیاہے توبھارت اور افغانستان کو بھی غیرمبہم الفاظ میں یہ تاثردے دیاہے کہ انہیں’’جنگ‘‘میں مالی امدادکیلئے تمام ترانحصار امریکاپرنہیں کرناہوگاْافغانستان کے بارے میں انہوں نے کہاکہ اسے ہماری طرف سے بلینک چیک کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ پاکستان اوربھارت کاذکرکرتے ہوئے صدر ٹرمپ بھارت سرکارکی ستائش کرنانہیں بھولے کہ یہ دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔اسے افغانستان میں پاکستان کے مقابلے میں اہم تراورنسبتاً زیادہ کرداراداکرناہوگا۔پوری دنیااس حقیقت سے آگاہ ہے کہ افغانستان میں بھارت پہلے ہی اپنے مکروہ پنجے گاڑچکاہے،وہاں’’را‘‘پوری طرح مصروفِ عمل ہے اور۸۱سے زائدبھارتی سفارت خانوں کاقیام سفارت کاری کی بجائے کھلم کھلاجاسوسی ہے اوریہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ جاسوسی پاکستان کے خلاف ہورہی ہے۔پاکستان بھرمیں بالخصوص بلوچستان میں دہشتگردی براستہ افغانستان ’را‘‘کی کارستانیوں کازندہ ثبوت ہے جس کی تائیدوتصدیق بھارت کے رسوائے زمانہ جاسوس کلبھوشن اعلانیہ کرچکا ہے، صدرٹرمپ کی طرف سے افغانستان کوباضابطہ اتھارٹی دے دینے پرہرامن پسنداورذی شعورشخص پریشان ہے،اس اتھارٹی کے تحت بھارت کوبھی افغانستان میں مکمل مداخلت کا اذن مل گیاہے۔ٹرمپ نے بھارت کوجورول دیاہے اس پرعمل توپہلے ہی ہو رہاہے مگراب بھارت پاکستان کازیادہ خطرناک دشمن بن کرسامنے آئے گا۔سچ یہ ہے کہ صدرٹرمپ کی افغان حکمت عملی پرتقریرپاکستان کیلئے واضح طورپرخطرے کی علامت ہے۔جہاں تک اس کایہ کہناہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کامقابلہ کرتے ہوئے پریشانیاں اٹھائی ہیں،یہ محض اشک شوئی کی بھونڈی کوشش ہے جسے پر پاکستان بخوبی جانتاہے۔ٹرمپ کی تقریرسے ایک اوربات واضح ہوگئی ہے کہ امریکاکی پالیسی میں تبدیلی(Shift)آئی ہے جس کے تحت امریکی فوج کومقامی سطح پرآزادانہ کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔قبل ازیں افغانستان وغیرہ میں لڑنے والی امریکی فوج کوواشنگٹن سے ملنے والی ہدایات کے مطابق کام کرنا ہوتاتھا،اب بیرون ملک کارفرماامریکی فوج کاسربراہ ہرقسم کافیصلہ واشنگٹن سے ہدائت حاصل کیے بغیرخودہی کرلیاکرے گا،جوبے حدخطرناک ہے کیونکہ فوج کامخصوص ذہن ہوتاہے جسے متوازن بنانے کیلئے حکومت سے مشاورت بلکہ حکم کی تعمیل ضروری ہوتی ہے۔اب توواضح طورپرنظرآرہاہے کہ امریکی فوج مرضی کے مطابق کھیلیں گے اوردوسری اقوام کے قتل عام میں اسے ذرّہ بھردریغ نہیں ہوگا۔ امریکی حکومت فوج کی عملاًنگران رہتی تواسے سیاسی صورتحال بھی مدنظررکھناہوتی تھی،اب امریکی فوج سیاست کے مصالح نظراندازکرتے ہوئے محض غارت گری ہی کی ’ ’خد ما ت ‘ ‘ انجام دیاکرے گی۔افغانستان وجنوبی ایشیاکے خطے کیلئے نئی پالیسی کے اعلان کے موقع پرامریکی صدرنے پاکستان کے خلاف بڑھ چڑھ کرہرزہ سرائی کیلئے غنی اورمودی کی زبان استعمال کی اوربھارت سے اپنا اشتراک عمل بڑھانے کی بات کی۔امریکی ریاست ورجینیاکے فورٹ مائرآرلنگٹن میں فوجی اڈے پرتقریب کے دوران کہاکہ امریکاپاکستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں پرخاموش نہیں رہے گا۔پاکستان اورافغانستان کے معاملے کیلئے امریکی اہداف واضح ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں دہشتگردوں اوران کی پناہ گاہوں کا مکمل صفایاہو ۔ہماری پوری کوشش ہے کہ جوہری ہتھیاریاان کی تیاری میں استعمال ہونے والاموادبھی دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگے۔دنیاکی بیس غیرملکی دہشتگردتنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں ہیں۔پاکستان کیلئے ہم سے شراکت داری بہت سودمندرہے گی لیکن اگروہ مسلسل دہشتگردوں کاساتھ دے گاتواس کیلئے مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔ماضی میں پاکستان ہمارابہت اہم اتحادی رہاہے اورہماری فوجوں نے مل کرمشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کی ہے۔پاکستانی عوام نے بھی دہشتگردی کی اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایاہے۔ ہم ان کی قربانیوں اورخدمات کوفراموش نہیں کرسکتے ۔اب وقت آگیاہے کہ پاکستان ان تمام فسادیوں کاخاتمہ کرے جووہاں پناہ لیتے ہیں اورامریکیوں کونشانہ بناتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کوایک کھرب ڈالرسے زیادہ کامعاشی نقصان پہنچانے والے امریکی صدرنے مونگ پھلی کے برابردی جانے والی امدادکوبڑھاچڑھاکرپیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستان کواربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انہی دہشتگردوں کوپناہ دیتاہے جوہمارے دشمن ہیں۔ہم افغانستان میں عراق والی غلطی نہیں دہرائیں گے جس کے نتیجے میں داعش پیداہوئی ۔وریں اثناء عالمی میڈیاکاکہناہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کے امکانات بہت کم ہیں۔امریکی حکام پاکستان کی رائے واسٹرٹیجک اندازوں کوتبدیل کرنے میں ناکام رہیں گے تاہم امریکانہیں چاہے گاکہ وہ پاکستان کوکھودے۔ بھارت کوساتھ ملانے کی کوشش کے نتائج خواہش کی نسبت برعکس نکلیں گے۔اوبامادورمیں نیشنل سیکورٹی سے وابستہ جوشووائٹ کاکہناہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے میں رویے پرخودٹرمپ انتظامیہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکاکی جانب سے پاکستان کودہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے چین نے پاکستان کادفاع کرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کودہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی کوششوں کوتسلیم کرناچاہئے۔چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوچن ینگ کاکہناتھاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اوّل میں کھڑاہے اورامن دشمنوں سے جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوعالمی برادری کواعتراف کرنا چاہئے ۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ پاکستان نے علاقائی اورعالمی سلامتی اوراستحکام کیلئے عظیم قربانیاں دیں جبکہ جنوبی ایشیامیں امن کے قیام کیلئے پاکستانی کردارکاادراک کیاجانا چاہئے ۔ امریکی صدرکے الزامات پرچینی وزیرخارجہ وانگ ای نے پاکستان کی بھرپور حمائت کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے پاکستان سے چینی محبت کے رشتے کودوام بخشاہے۔ادھرپاکستان کی قومی اسمبلی اورسینٹ کے اجلاس میں ٹرمپ کے بیان پرمتفقہ قرارداد ، مکمل یکجہتی کااظہاراورامریکی سفیرکوبلاکر احتجاجی مراسلہ دینے کی تجویزمنظورہوئی ہے۔پوری قوم نے واضح پیغام دیاہے کہ پاکستان کو ویت نام یاکمبوڈیا نہ سمجھا جائے۔ قومی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا افغانستان میں استحکام کی کوششوں کیلئے مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved