اسلامائزیشن کو درپیش خطرات اور آل پارٹیز کانفرنسیں
  1  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) 27 اگست کو منصورہ لاہور میں ملی مجلس شرعی پاکستان کا ایک اہم اجلاس مولانا مفتی محمد خان قادری کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں جسٹس خلیل الرحمان خان، مولانا عبد المالک خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا عبد الرف ملک، مولانا عبد الرف فاروقی، علامہ خلیل الرحمان قادری، مولانا مفتی شاہد عبید، مولانا قاری محمد رمضان، مولانا عبد الغفار روپڑی، مولانا غضنفر عزیز اور دیگر علما کرام کے علاوہ راقم الحروف اور ہائیکورٹ کے چند سرکردہ وکلا بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیملی کورٹس میں اس وقت خلع کے کیسوں کے حوالہ سے جاری صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلہ میں عدالتی نظم اور طریق کار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے علما کرام اور وکلا کی کمیٹیاں قائم کی گئیں جو پوری صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں رپورٹ اور سفارشات پیش کریں گی۔ اجلاس میں کرپشن کے بارے میں بحث و مباحثہ کا جائزہ لیا گیا اور اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ کرپشن، بد دیانتی اور نااہلی کے بارے میں ملک میں موجود قوانین کا تمام طبقات اور افرد پر یکساں اطلاق اور اس کا عملی اظہار ہونا چاہیے۔ اور کسی طبقہ یا گروہ کے خلاف امتیازی رویہ کا تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے۔ اجلاس میں دستور میں مجوزہ ترامیم کا بھی تذکرہ ہوا اور اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ دفعہ 62/63 سمیت ملک کے دستور کی اسلامی دفعات میں کوئی ایسی ترمیم قبول نہیں کی جائے گی جس سے اسلامائزیشن کا عمل متاثر ہوتا ہو۔ اجلاس میں پاکستان میں طلاق و خلع کے مروجہ قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ 1964 میں 2002 میں ہونے والی ترامیم میں سے دفعہ 10 (5) پر گفتگو ہوئی۔ اس میں مصالحتی کاروائی کی ناکامی کی صورت میں فوری طور پر اسپیشل فیملی جج کے اختیار کہ فوری طور پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کی جائے گی کو خلع و طلاق کے شرعی قوانین کے خلاف محسوس کیا گیا۔ اس سلسلہ میں یہ طے پایا کہ علما کرام اور وکلا کے مختلف گروپ اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے، جبکہ مندرجہ ذیل دفعات کا بطور خاص جائزہ لیا جائے گا اور درج ذیل سوالات پر آرا پیش کی جائیں گی: () مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 دفعہ 8۔ () ڈسولوشن آف مسلم میرج ایکٹ 1939 دفعہ 2۔ () ڈائیوورس ایکٹ 1869 دفعہ 10۔ () آیا جج کا یہ اختیار کہ بنا کوئی شہادت لیے خلع کی ڈگری جاری کرنے کا اختیار شرعی دائرہ کار میں آتا ہے؟ () کیا جج کا یہ اختیار کہ خاتون کے دعوی کے بعد دورانِ مصالحت اس کی جانب سے آبادی سے انکار پر تنسیخ نکاح کی ڈگری کا یکطرفہ اجرا درست اقدام ہے؟ ۔۔۔۔۔ 28 اگست کو اسلام آباد میں جمعیت علما اسلام (س) پاکستان کے امیر مولانا سمیع الحق کی دعوت پر ایک بھرپور آل پارٹیز کانفرنس تحفظ دستور پاکستان کے عنوان پر منعقد ہوئی جس میں جناب سراج الحق، مولانا شاہ اویس نورانی، پیر اعجاز احمد ہاشمی، مولانا عبدالرف فاروقی، مولانا بشیر احمد شاد، مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر، مولانا سید کفیل شاہ بخاری، مولانا حافظ عبد الرحمان مکی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، پیر سید ہارون گیلانی، پیر خواجہ جمال احمد گوریچہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، جناب عبد اللہ گل، جناب حامد میر، علامہ ابتسام الہی ظہیر، علامہ سید ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا زاہد محمود قاسمی، شیخ رشید احمد اور دیگر سرکردہ زعما نے شرکت کی اور راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں۔ کانفرنس میں درج ذیل اعلامیہ منظور کیا گیا۔ * آئینِ پاکستان ایک ایسی دستاویز ہے جو قومی وحدت، ملکی استحکام اور ملی وقار کی علامت ہے اور ملک کی تمام اکائیوں کے درمیان زنجیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ * 1973 کی پارلیمنٹ اور اس کے تمام معزز اراکین یہ متفقہ آئین دینے پر قوم کی طرف سے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ * دستور میں اب تک کی ترامیم کے ذریعے قوم کی امنگوں، امیدوں اور نظریات کی ترجمانی اور قانون سازی کے لیے بہترین بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ صوبائی خودمختاری اور قوم کے حقوق کی پاسداری کی ضمانت آئین میں موجود ہے۔ * کرپشن، نا انصافی، لاقانونیت اور اداروں کی توہین آئینِ پاکستان سے انحراف ہے۔ (جاری ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved