وزیراعظم اپوزیشن رہنماؤں کو بھی ساتھ لے جائیں
  1  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

* دس سال بعد بالآخر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اصغرخاں نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنادیا۔ سابق ڈی آئی جی پولیس سعود عزیز اور ایس پی اسلام آباد خرم شہزاد کو 17,17 سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ، دونوں کوعدالت میں گرفتار کرلیاگیا۔ پانچ دوسرے ملزم بری کردیئے گئے! ان دونوں پولیس افسروں نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد تمام ضروری نشانات ختم کرادیئے تھے۔ *سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی بھی گرم ہوگئی۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو کھری کھری سنادیں۔ سیدھا مطالبہ کردیا کہ افغانستان میں امریکہ کی فوج کوپاکستان کی زمین اور فضا میں سے ہر قسم کی سپلائی روک دی جائے، اس کا دماغ ٹھکانے پر آجائے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تمام سیاسی پارٹیوں نے سارے اختلافات ایک طرف رکھ کر ملک وقوم کی سلامتی کے تحفظ کے لیے جس انداز میں متفقہ قرارداد منظور کی ہے، اس نے امریکی حلقوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ اس قوم کو دھمکانا آسان بات نہیں۔ اس سے پہلے ایک بارتقریباً دو ہفتے کے لیے نیٹو کو سپلائی بند کی گئی تھی تو امریکی حلقوں کی حالت دیکھنے والی تھی۔ ہاتھ جوڑنے لگے تھے۔ یہاں ایک اہم بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ 18ستمبر کو وزیراعظم پاکستان مختلف وزیروں کی فوج ساتھ لے جانے کی بجائے اپوزیشن رہنماؤں سید خورشید شاہ ، عمران خاں اور سراج الحق کو ساتھ لے جانے کی کوشش کریں۔ یہ ملک وقوم کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ان حضرات سے اچھے انداز میں بات کی جائے تو یہ بخوشی ساتھ دے سکتے ہیں۔ ماضی میں اپوزیشن لیڈر کے طورپر حسین شہید سہروردی اور بے نظیر بھٹو بھی ملک کے مفاد میں حکومت کے ساتھ ایسا تعاون کرچکی ہیں۔ یہ وقت کسی برتری یا کم تری کے اظہار کا نہیں۔ پاکستان کوخطرناک دھمکیاں دی گئی ہیں، ان کا ٹھوس جواب دینے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ میں9/11 کے بعد امریکہ کے قدموں میں بیٹھنے والی لال حویلی کوبھی ساتھ لے جانے کاکہہ سکتا تھا مگر اپنی قدم بوسی کے باوجود امریکی آقاؤں نے ایک امریکی ایئر پورٹ پر جس طرح اس کے جوتے اتروا کر چار گھنٹے تک حراست میں رکھا اوربالآخر اُسی حکومت کے سفارت خانہ نے امریکی حراست سے نجات دلائی جس کیخلاف انتہائی سخت کلامی کا شوق سرپر سوار رہتا تھا۔اُسے دیکھ کر امریکی لوگ پھرنہ مشتعل ہو جائیں! *کراچی پرطوفانی بارشوں کی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ یہ بدنصیب شہر پہلے ہی بے شمار سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ پینے کا پانی غائب، بجلی غائب، جگہ جگہ لاکھوں من کچرے کے ڈھیر، سڑکیں تباہ حال، ٹرانسپورٹ خستہ حال، شدید بے روزگاری اور ہر سڑک اور ہر گلی میں قدم قدم پر جرائم !آسمانی آفات کا تو کوئی توڑ نہیں ہوسکتا مگر شدید بارش کے دوران کراچی کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی مین پائپ لائن کیسے ٹوٹ گئی؟ یہ واقعہ باربارہورہاہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کہنے کو کراچی صوبائی صدر مقام ہے، اس میں صوبائی حکومت کے علاوہ ایک بلدیاتی کا رپوریشن بھی ہے، بجلی کی فراہمی کی ایک کمپنی، پانی فراہم کرنے کا ایک واٹر بورڈ۔۔۔ ان سب کے سروں پر بیٹھی وزراء کی فوج! اور اس حکومت کے سربراہ و مالک ایک باپ بیٹا جو کراچی اور سندھ کے شہروں کو چھوڑ کر پختو نخوا اورپنجاب کے شہروں کوفتح کرنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ واپس آئیں گے تو دبئی چلے جائیں گے۔ کراچی جانے اور اس کے عوام جانیں! یہ شہر نگاراں کبھی صاف ستھری کھلی سڑکوں اور روشنیوں کا شہر ہوا کرتاتھا۔ میں نے اس میں دو پرسکون سا ل گزارے ہیں۔ ادبی وثقافتی محفلیں ، رات کو بلاخوف و خطر اکیلے گھومنا۔۔۔! اب یہ سب کچھ خواب دکھائی دیتا ہے۔ میں ٹیلی ویژن پرروح فرسا خبریں دیکھ رہاہوں۔ طوفانی بارشوں کے باعث گیارہ افراد جاں بحق، سینکڑوں گاڑیاں گہرے پانی میں ڈوبی ہوئی، کچرے سے بھرے گندے نالے ،ان کاپانی بپھر کر گھروں میں داخل ہو رہاہے اور ’ذمہ دار‘ حلقے عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں!! اورحسب معمول پھرفوج اور بحریہ ہی خدمت کے لیے نکل آئی ہیں۔ *سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب کے دانت اور کاٹنے والی چھری کند ہو چکے ہیں! دوسری طرف نیب کے ڈپٹی چیئرمین ( چیئرمین کہاں ہیں؟) اور ڈائریکٹر جنرل نے پریس کانفرنس میں اپنی کارکردگی کے گُن گائے ہیں۔ یہ نہیں بتایاکہ 16 برسوں میں کیا کارکردگی دکھائی ہے، کسی ایک بڑی شخصیت کا نام بتادیں جس کے خلاف کوئی کارروائی کی ہو؟ آصف زرداری کے خلاف گیارہ کیس کیسے ختم ہو گئے ؟ کوئی گواہ ہی تلاش نہ کیاجاسکا! مونس الٰہی کے خلاف منشیات کیس میں استغاثہ کے تمام13 چشم دید گواہ کس طرح منحرف کرائے گئے ! اب نوازشریف کے خلاف ریفرنسوں کا شور مچا ہواہے! ان کا انجام کیا ہوگا؟ وہی جو آصف زرداری ، عاصم حسین اورمونس الٰہی کے خلاف طویل عرصہ تک زیر التوا رکھنے والے کیسوں کا ہواہے! اوپر سے پلی بار گیننگ کا مکروہ دھندا کہ رشوت لے کر پھنس گیا ہے، رشوت دے کر چھوٹ جا! اربوں کے گھپلے ، پلی بارگیننگ کی سود ا بازی میں چند کروڑ لے کر اربوں معاف! خود ہی قانون بنوالیا کہ اس وصولی میں بھی نیب کا حصہ ہوگا! اب بھی جو ریفرنس آئیں گے انہیں بھی قانونی طورپر اتنا کمزور کردیا جائے گا کہ بالآخر سب ختم ہوجائیں گے!! * مختصر عرصہ کے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خاں جمالی نے انکشاف کیا ہے کہ غداری کے مقدمہ کے ملزم ،سابق خود ساختہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کی ایٹمی تیاریوں کے سرکردہ قائد ڈاکٹر اے کیوخاں کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ میں نے سخت مخالفت کی۔ کسی ملکی باشندے کو ملک بدر کرنے کے لیے وزیراعظم کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔میں نے دستخط کرنے سے انکارکردیا( وزارت عظمیٰ ہاتھ سے نکل گئی)۔ میر ظفر اللہ خاں جمالی نہایت سچے محب وطن رہنما ہیں۔ ان کی بات بالکل درست ہوگی ! اور ملک وقوم کا دشمن، غداری کا ملزم کس ڈھٹائی کے ساتھ باہر بیٹھ کر ملک کے اندر سیاسی جماعت چلا رہاہے! *میاں نوازشریف بھی لندن چلے گئے۔ پیچھے ضعیف بزرگ والدہ اور بیٹی مریم نواز رہ گئی ہیں۔ خبر یہ ہے کہ لندن سے فوری واپسی کا امکان نہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کے گلے میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں شوہر کا پاس ہونا فطری تقاضا بلکہ فرض بھی ہے۔ میاں نوازشریف کو تو اس مرض کا پتہ چلنے پر پہلے روزہی لندن چلے جاناچاہئے تھا۔ چلیں تاخیر سے ہی سہی ۔۔۔ مگر یہ کیا خبر ہے کہ ان کے ساتھ 30بریف کیس بھی لندن گئے ہیں! پتہ نہیں یہ خبر درست ہے یا اڑائی گئی ہے لیکن درست ہے تو ؟؟ خدا تعالیٰ ان کی اہلیہ کو جلد از جلد شفا عطا فرمائے! *کسی نے ق لیگ والوں کو بھی بتادیا کہ تقریباً دس روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو خطرناک دھمکیاں دی ہیں۔ اور اس پر ملک بھرکے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ اس پر ق لیگ نے بھی ایک ریلی نکالی لی اور امریکہ کو دھمکیاں دے دیں! چلیں فرض پورا ہوگیا۔ *ملتان میٹرو کیس کا معمہ الجھتا جارہاہے۔ یہ حقیقت تو تسلیم کی جارہی ہے کہ چین کے حکام اس معاملہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔ خود پاکستان کے سکیورٹی ایکس چینج کمیشن نے بھی تحقیقات کے لیے وزارت خزانہ کو مراسلہ بھیجا ہے۔ ایکس چینج کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ کسی قسم کی کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی نہ ہی چین سے کوئی تحقیقاتی ٹیم آئی ہے مزید یہ کہ کمیشن یا کسی سرکاری محکمے نے چین کے حکام کو کوئی مراسلہ نہیں بھیجا اور یہ کہ چین کو بھیجے جانے والے مبینہ مراسلے جعلی اور بے بنیاد ہیں۔اتنے بڑے پیمانے پر کیا چکر چل رہے ہیں! *ایس ایم ایس: والد ہیپاٹائٹس اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ والدہ کی بھی یہی حالت ہے۔ میں نے بی ایس سی کیا ہے مگر کوئی کام نہیں مل رہا۔ ٹیچر بننے کے لیے بی ایڈ کرنا ضروری ہے۔ بی ایڈ میں داخلے کی آخری تاریخ 5ستمبر ہے۔اس کے لیے 13ہزار روپے چاہئیں۔ قرض حسنہ کی اپیل چھاپ دیں۔ سارا قرض واپس کردونگا۔ میرا نام پتہ نہ چھاپیں۔ ( کسی مدد کے لیے ذاتی تحقیق ضروری ہے۔ نام پتہ راوی نامہ ’ 0333-4148962‘ سے لیا جاسکتا ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved