نیب کے ریفرنس اور امریکی سفیر کاواویلا!
  4  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭قارئین کرام کو عید مبارک! ٭نیب کے ریفرنس: نوازشریف اوراسحاق ڈار کے تمام اثاثے منجمدکرنے، نوازشریف، دونوں بیٹوں اور اسحاق ڈار کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش… امریکہ کے سفیر کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل جنجوعہ سے ملاقات، خطرناک دھمکیاں اور ان کی صفائیاں… بلاول زرداری کا بے نظیر کیس کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار… کراچی گہرے پانی میں ڈوب گیا۔ فوج نے سڑکیں صاف کیں… ٹیکساس میں طوفان سے ایک لاکھ مکانات تباہ، 94افراد ہلاک! ٭ساری باتیں بہت اہم ہیں۔ نیب کو31 اگست تک شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا وقت دیاگیاتھا۔ نیب کے لاہور آفس نے ریفرنس تیار کرکے ہیڈ آفس کوبھیج دیئے، اس نے بھی منظوری دے دی ،اب نیب کا ایگزیکٹو بورڈ حتمی منظوری کا فیصلہ کرے گا۔منظوری کے بعد یہ ریفرنس احتساب عدالت میں بھیج دیئے جائیں گے۔ ان میں لگائے گئے الزامات ثابت ہونے پر14سال تک قید ہوسکتی ہے۔ مجھے تحریک انصاف کے ایک ترجمان کی بات پر افسوس اور دُکھ ہوا ہے کہ لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے میاں نوازشریف سے ملاقات کرکے ان کی اہلیہ کی عیادت کیوں کی؟ یہ اعتراض افسوسناک ہی نہیں ، اسلامی روایات کی بھی نفی کرتا ہے۔ہمارے ہاں تو دشمنوں اور اوپرسے کوڑا پھینکنے والی عورت کی عیادت کی مثالیں موجودہیں۔ ویسے بھی میاں نوازشریف پاکستان کے نمایاںشہری ہیں۔ ان کی بیگم قومی اسمبلی کی امیدوارہیں۔ بزرگ خاتون ہیں۔ ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں۔ دوسرے ملکوں میںسفارت خانے اپنے ہر شہری کے دیکھ بھال کرتے ہیں۔ پتہ نہیں اس قسم اعتراضات کو کیوں اچھالا جاتا ہے؟ ٭پیپلز پارٹی کے ولی عہد بلاول زرداری نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ اس اقدام کی کوئی قانونی توجیہہ نہیں کی بلکہ سیاسی رُخ اختیارکیاہے کہ بے نظیر بھٹو کے قاتل کو کیوں نہیں پکڑاگیا؟ پیپلز پارٹی سندھ کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے تو واضح طورپر جنرل پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو کا قاتل قراردیاہے۔ میں اس موقع پر ان دونوں کو کچھ اہم باتیں یاد کراناچاہتاہوں۔ برخوردار بلاول ! کیا تمہیں علم ہے کہ محترمہ بے نظیر کو27 دسمبر2007ء کو قتل کیاگیا اور صرف تین ماہ بعد، 25 مارچ 2008ء کو پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے محترمہ کے ''قاتل'' اسی جنرل پرویز مشرف کے سامنے باادب کھڑے ہوکر وزیراعظم کے عہدہ کاحلف اٹھایا ۔ پھر مسلسل چھ ماہ، 18 اگست2008ء تک یوسف رضا گیلانی اور ان کی پیپلزپارٹی کی کابینہ اسی جنرل پرویز مشرف کے سامنے حاضر ہوتی رہی، اسے اپنی کارکردگی کی رپورٹیں پیش کرتی رہی… برخوردار! یہ بتاؤ کہ اس 'قاتل' پرویز مشرف نے 18 اگست کو صدر کے عہدہ سے استعفا دیا تو کس حکومت نے اسے سرکاری طورپر باقاعدہ گارڈ آف آنر کے ساتھ الوداع کیا تھا…؟ اس سے پہلے تمہاری والدہ محترمہ نے دبئی میں این آر او جیسا انتہائی نقصان دہ معاہد ہ کس کے ساتھ اور کیوں کیا؟ اس سوال کا جواب بھی آج تک نہیں ملا کہ کس نے موبائل فون پر محترمہ کو گاڑی کی چھت میں سے باہر نکل کر استقبال کرنے والے ہجوم کو دیکھنے کا مشورہ دیا تھا! یہ بتاؤ برخوردار کہ تمہارے والد صاحب نے بے نظیر بھٹو کاپوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہونے دیا؟ … اب اعتراض کیا جارہا ہے کہ عدالت میں زیر سماعت اس کیس میں پیپلزپارٹی کو فریق کیوں نہیں بنایاگیا؟ مگر پیپلز پارٹی کو کس نے فریق بننے سے روکاتھا؟ کسی بھی کیس میں کوئی بھی شخص یا پارٹی فریق بننے کی درخواست دے سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی ( اس کے سربراہ آصف زرداری) نے ایسا کیوں نہ کیا؟ یہ کیس 10برس تک زیر سماعت رہا، آٹھ جج تبدیل ہوئے، بیسیوں سماعتیں ہوئیں۔ کسی ایک موقع پر بھی پیپلزپارٹی کاکوئی نمائندہ، کوئی رہنما، کوئی وکیل عدالت میںنہیں گیا! تم اور آصف زرداری بھی نہیں گئے!کس نے روکا تھا؟ بہت سی اور باتیں بھی ہیں… ہاں ایک بات کا جواب بہت ضروری ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے افسوسناک قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟؟ یہ سوال بہت اہم ہے ، جواب نہ بھی دو توتاریخ بول پڑے گی! ایک بات یہ کہ جب بم پھٹا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اس کی اور فائرنگ کی زد میں آئیں تو پیچھے آنے والی گاڑی میں بیٹھے رحمان ملک اور بابر اعوان محترمہ کو ہسپتال پہنچانے کی بجائے اسلام آباد میں زرداری ہاؤس کی طرف کیوں بھاگ گئے تھے؟ وہاں ان دونوں نے موبائل فون پر کس کو کیاخبردی تھی؟ہاں بلاول برخوردار ! یہ بات بتاؤ کہ تمہارے والد صاحب پانچ سال تک بھرپوراختیارات کے ساتھ ملک کے صدر رہے۔ انہوں نے آپ کی والدہ محترمہ کا قاتل کیوں تلاش نہ کیا؟ انہوں نے بے نظیر صاحبہ کے سانحہ کے وقت بھاگ جانے والے رحمان ملک کو کس 'صلہ' میں وزیر داخلہ بنادیا۔ اس وزیر داخلہ کے ماتحت ایف آئی اے،انٹیلی جنس بیورو اور صوبوں کے آئی جی پولیس بھی تھے۔ ان صاحب نے بے نظر کے قاتل کیوں دریافت نہ کیے ؟ کیا 'کُھرا' ( سراغ) کسی خاص جگہ جارہاتھا ؟ اب تم کہہ رہے ہو کہ حکومت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے خلاف اپیل کرے! تم یا تمہارے والد صاحب اصل متاثرہ لوگ ہیں، تم اپیل کیوں نہیں کرتے؟ یہ تم لوگوں کا حق ہے۔ اور آخری بات کہ والد آصف زرداری اس سارے معاملہ پر خاموش کیوں ہیں؟ اس ملک میں کتنے ایسے سانحے ہوئے، فاطمہ جناح، لیاقت علی خاں ، حیات محمد شیر پاؤ، جماعت اسلامی کے ڈاکٹرنذیر احمد ، غلام حیدر وائیں، مرتضیٰ بھٹو، ضیاء الحق، اکبر بگٹی، رئیس امروہوی، اس سے پہلے ادیب امتیاز علی تاج اور دوسرے اہم افراد قتل وغارت گری کے شکار ہوئے۔ کسی ایک واردات کا کوئی مجرم پکڑا گیا؟ بے نظیر بھٹو کا سانحہ بھی یہی ہے۔

٭امریکی سفیر کا واویلا'' ہم نے تو صرف انگلی لگائی ہے''۔ یہ کہانی آگے چل کر بیان ہوگی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، فوج اور عوام امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پاکستان دشمن تقریر پر جس طرح برافروختہ ہوئے اور تمام سیاسی پارٹیوں نے سارے اختلافات ایک طرف رکھ کرامریکہ کی ایسی تیسی کردی، اس کی نائب وزیرخارجہ کو دورہ کرنے سے روک دیا اورپاکستان کے وزیر خارجہ نے امریکہ کا دورہ منسوخ کردیا۔ اس پر امریکی حکومت کو حیرت زدہ ہونا ہی تھامگر اسمبلی کی ،اس قرارداد سے امریکی حکومت بوکھلا گئی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کو اسلحہ وخوراک پہنچانے کے لیے پاکستان کی راہداری بند کردی جائے۔ گزشتہ روز امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے قومی سلامتی کے مشیر جنرل(ر) ناصر جنجوعہ سے ملاقات کی۔ جنرل جنجوعہ نے ایک صاف گوجرنیل کی طرح کھری کھری سنا دیں،اس پر امریکی سفیر نے کیامؤقف اختیار کیا کہ آپ لوگ ایسے ہی ناراض ہوگئے! یہ بات کہ امریکہ پاکستان کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرسکتا ہے، بہت معمولی سی بات ہے( اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے؟) اور یہ کہ یہ تو پوری پالیسی کاایک چھوٹا جزو ہے۔ قارئین کرام!میں نے محض انگلی لگانے کی جو بات کی ہے وہ ایک آدھ بار پہلے بھی چھپ چکی ہے۔ مختصر یہ کہ ایک بستی میں ایک بزرگ نے شیطان کو بستی سے نکا ل دیا۔ اُس نے جاتے جاتے ایک حلوائی کی دکان پر رکھے ہوئے جلیبیوں کے میٹھے شیرہ میں انگلی ڈبو کراسے دیوارپر لگا دیا۔ اس پر ایک مکھی آئی، اس پرایک چھپکلی جھپٹ پڑی، چھپکلی پر بلی نے حملہ کردیا اور بلی پر باہر بیٹھا ہوا کتا جھپٹ پڑا۔ اس ناگہانی آفت پر حلوائی گڑبڑا کر اٹھا تو شیر ے اور دودھ کی کڑاہیاں اُلٹ گئیں۔ اس بزرگ نے شیطان کو بلا کر سرزنش کی تو اس نے جواب دیا کہ حضورمیں نے کوئی گڑبڑنہیں کی، صرف انگلی لگائی تھی !


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved