روہنگیا مسلمانوں کے بارے ترکی کا مجاہدانہ رویہ!
  5  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ترکی زندہ باد! روہنگیا مسلمانوں پر قیامت خیز ظلم وستم کے بارے پاکستان کی حکومت محض رسمی تشویش ظاہر کرتی رہ گئی اور ترکی کے صدر اردگان نے میانمر حکومت کی شدید مذمت کے ساتھ اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس طلب کر لیا اور بنگلہ دیش کو پیغام دے دیا کہ وہ میانمر سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو اپنے ہاں آنے سے نہ روکے، ان پر سرحد کھول دے، ان کے قیام وغیرہ کے سارے اخراجات ترکی ادا کرے گا۔ زندہ باد! یہ ہے حقیقی مسلمانی! میانمر (سابق برما) میں ایک عرصے سے مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے۔ ان کے مکانات اور کھیت تباہ، روزگار بند، ان پر مسلم دشمن بدھ مسلح تنظیموں کے ساتھ خود سرکاری فوج کے بار بار حملے اور فائرنگ! اب تک ہزاروں مسلمان شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔ اس ظلم و ستم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے دل دہل جاتا ہے مگر عیدالاضحی کے روز تو میانمر کی سفاک فوج اور ایک بدھ فورس نے انتہا کر دی۔ مسلمانوںکے 2500 گھر جلا دیئے اور فائرنگ کر کے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ مزید قیامت یہ کہ یہ لٹے پٹے لوگ خالی ہاتھ بھاگتے ہوئے بنگلہ دیش کی سرحد پر پہنچے تو اس کی بھارت کی کٹھ پتلی وزیراعظم حسینہ واجد نے ان کے داخلہ کو روکنے کا حکم دے دیا۔ بہانہ یہ بتایا کہ پہلے ہی 73 ہزار مہاجرین آ چکے ہیں۔ انہیں سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے، مزید مہاجرین کے اخراجات نہیں دے سکتے۔ اس پر ترکی کا اعلان آ گیا کہ سرحد کھول دو، مہاجرین کے سارے اخراجات ترکی ادا کرے گا۔ دریں اثنا اقوام متحدہ نے بھی اس انسانیت سوز واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ انڈونیشیا اور سعودی عرب نے بھی میانمر میں ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت کی ہے۔ ایک سخت بیان ملالہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ میانمر کی حکمران اور ان واقعات کی نگران آنگ ونگ سوچی سے نوبل انعام کا ایوارڈ واپس لیا جائے ورنہ وہ خود (ملالہ) اپنا نوبل انعام واپس کر دے گی۔ عجیب افسوسناک بلکہ الم ناک بات یہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں پر ٹوٹنے والی اس قیامت پر اقوام متحدہ تو حرکت میں آ گئی مگر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے سوا تا دم تحریر کسی دوسری سیاسی، خاص طور پر کسی مذہبی تنظیم کی طرف سے اس ظلم کے بارے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ سراج الحق صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیم مردہ اسلامی سربراہ کانفرنس کا اس بارے میں اجلاس بلایا جائے۔ اول تو یہ اپیل ہی بے کار ہے۔ اسلامی سربراہ کانفرنس نے اپنے قیام کے بعد تقریباً 48 برسوں میں اب تک عالم اسلامی کی سربلندی اور رفاہ کے لئے کیا کام کیا؟ سعودی عرب اور قطر کے درمیان حالیہ تنازع ختم کرانے میں کیا کردار ادا کیا؟ اب یہ میانمر کے سلسلے میں بھی کیا کرے گی؟ پتہ نہیں زندہ بھی ہے یا نہیں؟ ویسے جناب سراج الحق صاحب! جماعت اسلامی ایسے مواقع پر احتجاجی جلوس وغیرہ کے سلسلے میں پیش پیش ہوا کرتی تھی! اب کیوں خاموش ہے؟ آپ نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ میانمر کے سفیر کو بلا کر احتجاج کیا جائے۔ سراج صاحب! حکومتوں کی تو پھر بھی بین الاقوامی سطح پر کوئی مجبوری ہوتی ہے، آپ کی کیا مجبوری ہے؟ انٹرنیٹ پر Myanmer Embassey فیڈ کریں۔ سفارت خانے کا سارا ایڈریس، بہت سے فون نمبر، ای میل اور فیکس کے نمبر مل جائیں گے۔ کسی بھی نمبر پر اپنی جماعت کی طرف سے مذمت اور احتجاج بھیج دیجئے، کس نے روکا ہے؟ کچھ دوسری باتیں:۔ ٭ایک خبر بلا تبصرہ: کراچی پر طوفانی بارش کی قیامت ٹوٹی۔ سارا شہر ڈوب گیا۔ پانی پر تیرتے ہوئے کچرے سے گھر بھر گئے۔ 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ نے دن رات گہرے پانیوں میں جا کر پانی نکالا، سڑکیں صاف کیں، ہزاروں گھروں میں سینکڑوں من راشن تقسیم کیا۔ سارا کام ہو گیا، شہر کی زندگی نارمل ہو گئی، توصوبائی وزیر اطلاعات نے پرزور اعلان کیا کہ صوبائی حکومت نے صورتِ حال نارمل بنانے کے لئے بہت کام کیا ہے!! ٭سید خورشید شاہ امریکہ پر صحیح برس رہے ہیں۔ کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پانے میں 1250 ارب (12 کھرب50 ارب) روپے خرچ کئے، 60 ہزار پاکستانی باشندے اور 20 ہزار فوجی شہید ہو گئے پھر بھی پاکستان کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے! ٭صدر پاکستان نے پنجاب کے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کو چار سال کے لئے وفاقی ٹیکس محتسب مقرر کر دیا ہے۔ یہ نہیں بتایا کہ کن خصوصیات کی بنا پر یہ بے پناہ نوازش کی گئی ہے؟ مشتاق سکھیرا کی ساری زندگی پولیس سروس میں امن و امان پر قابو پانے ور چوروں ڈاکوئوں کے تعاقب میں گزری۔ ان کا ٹیکس کے پیچیدہ معاملات سے کیا تعلق؟ دوسرے یہ کہ سپریم کورٹ نے کسی اشد ضرورت کے سوا ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ سرکاری ملازمت میں لئے جانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ پھر ایسی کون سی اشد قسم کی ضرورت تھی کہ ساری عمر تھانیداری سے نمٹنے والی شخصیت کو ٹیکس کا محاسب مقرر کر دیا جائے؟؟ ٭شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے۔ اس کے دھماکے سے کوریا کی سرزمین پر6.3 درجے کا شدید زلزلہ آیا۔ اس پر امریکہ سمیت مختلف ممالک اور اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ہائیڈروجن انتہائی تباہ کن ہتھیار ہے۔ امریکہ نے 1945ء میں جاپان کے دوشہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر دو چھوٹے ایٹم بم برسائے تھے ان سے دو لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں دوسرے معذور ہو گئے تھے۔ ان بموں سے پیدا ہونے والی جسموں کو مفلوج کر دینے والی تابکاری کے اثرات 40,30 برس تک محسوس ہوتے رہے۔ایٹم بم کی تیاری انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ ہائیڈروجن بم کی تیاری اس سے بھی کئی گنا پیچیدہ ہے۔اسے چلانے کے لئے ایک ایٹم بم استعمال کرنا پڑتا ہے۔ میں نے ایٹمی سائنس میں گریجویشن کی تھی، جانتا ہوں کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کئی من وزنی ہائیڈروجن بم ایک ایٹم بم کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تک تباہی مچا سکتا ہے۔ ایک سائنسی تجزیہ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے شہر نیویارک پر ایک ہائیڈروجن بم گرایا جائے تو کروڑوں کی آبادی والا یہ پورا شہر نہ صرف ملبہ کا ڈھیر بن جائے گا بلکہ بم کی انتہائی ہزاروں سینٹی گریڈ شدید حرارت سے پورا ملبہ انتہائی گرم دھوئیں اور بخارات کی شکل میں اڑ کر فضا میں شامل ہو جائے گا۔ شمالی کوریا ویسے نہائت غریب ملک ہے، عوام بھوک اور فاقوں کے شکار ہیں۔ اس ملک پر بھی ایک مقامی ٹرمپ سوار ہے۔ ہائیڈروجن بم اگر استعمال ہی نہ ہو سکا تو اس کی تیاری پر کھربوں روپے ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟

٭پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید کے دونوں دن مغربی سرحد اور گوادر، تربت میں اپنے فوجی جوانوں کے ساتھ گزارے۔ اس دوران کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے چری کوٹ سیکٹر میں ایک آٹھ سالہ بچی شہید ہو گئی۔ پاکستان یا آزاد کشمیر کا کوئی حکمران، کوئی سیاسی رہنما اس علاقے میں نہیں گیا۔شاید ان لوگوں کے لئے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ البتہ آئی ایس پی آر نے اس واقعہ پر بھارت کی سخت مذمت کی ہے۔ ٭بھارت کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون، سدھارامن (سِیتارامن!) کو وزیردفاع بنا دیا گیا ہے! ٭موٹر وے پولیس نے انتہائی تیز رفتاری (140 کلو میٹر) پر قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی گاڑی کا چالان کر دیا۔ انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ قانون ساز اسمبلی کے سربراہ سپیکر کی قانون شکنی زیادہ سنگین معاملہ ہے۔ عام کی بجائے زیادہ جرمانہ ہونا چاہئے تھا۔ لندن میں ولی عہد (جلد بادشاہ بننے والیے) شہزادہ چارلس کو گاڑی کی ایسی تیز رفتاری پر عام جرمانہ کی بجائے ڈیڑھ گنا جرمانہ ادا کرناپڑا تھا۔ یہ جرمانہ ایک مجسٹریٹ نے عائد کیا تھا!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved