مدینہ پاکیزہ بستی ہے
  6  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مدینہ منورہ کی گود میں قدم رکھا...تو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے دل تجلیات کے راحت بھرے باغ میں تتلی بن کر اڑنے لگا ہو... پیر کے دن نماز عصر کی ادائیگی کے لئے ... مسجد نبویۖ میں داخل ہوا تو دل روضہ رسولۖ پر حاضری کے لئے مچل اٹھا... بڑی مشکل سے دل کو سمجھایا کہ پہلے فرض نماز کی باجماعت ادائیگی اور پھر سرکارۖ کے دربار میں حاضری۔ ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے ملتا نہیں کیا کیا دوجہاں کو تیرے در سے اک لفظ ''نہیں،، ہے کہ تیرے لب پہ نہیں ہے ہر اک کو میسر کہاں اس در کی غلامی؟ اس در کا تو دربان بھی جبریل امیں ہے رکتے ہیں یہاں آکے قدم اہل نظر کے اس کوچے سے آگے نہ زمان ہے نہ زمیں ہے مدینہ ایسی پاکیزہ بستی ہے کہ جب خاتم الانبیائۖ پر مکہ کی سرزمین تنگ کر دی گئی... تو اس پاکیزہ بستی نے آپۖ کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے... خاتم الانبیاء ۖ کا فرمان عظیم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں دونوں پتھروں والے ٹیلوں کے درمیان والی جگہ یعنی مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں (مسلم) رسول رحمتۖ نے فرمایا مدینہ المنورہ میں طاعون کی بیماری کبھی نہیں پھیلے گی... اور نہ اس میں دجال داخل ہوسکے گا۔ خاتم الانبیائۖ فرماتے ہیں کہ ! یااللہ مکہ کو تو نے جتنی برکت عطا کی... مدینہ منورہ کو اس سے دوگنی برکت عطا فرما (بخاری) آقا مولیٰۖ کا فرمان عالی شان ہے کہ مدینہ بھی مکہ کی طرح حرم ہے... چنانچہ اس میں درخت کاٹنا یا شکار کرنا منع ہے (بخاری) مدینہ وہ پاکیزہ بستی ہے کہ جس کے متعلق نبی رحمتۖ نے ارشاد فرمایا کہ ''مدینہ میں مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنے والوں کے لئے اور مدینہ میں موت تک مستقل قیام کرنے والوں کے لئے میں قیامت کے روز شفاعت کرونگا۔'' اور پھر ''مدینہ'' تو ایسی پاکیزہ بستی ہے کہ جہاں خود میرے حضورۖ موجود ہیں... بارگاہ رسولۖ پر حاضری کے وقت ''لب'' تو درود پڑھ رہے تھے... مگر اندر کا سماں جواربھاٹے کا منظر پیش کر رہا تھا... دل تھا کہ پھٹنا چاہتا تھا... میں احباب کی طرف سے سلام عرض کرنا چاہتا تھا مگر زبان سے بے اختیار نکلا... اے کریم آقاۖ برما کے روہنگیائی مسلمانوں کا سلام قبول فرمائیے۔ بس پھر کیا تھا؟ آنکھیں اشکوں سے تر ایسی ہوئیں کہ جل تھل ہوگئی' کسی نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر زور سے دبایا... دیکھا تو وہ ''شرطہ'' تھا اور مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کر رہا تھا... شاید رکنے کی وجہ سے میرے پیچھے انسانوں کے جم غفیر کو تکلیف ہو رہی تھی؟ سوچا تھا کہ بارگاہ آقا مولیٰۖ میں کھڑا ہو کر ایک لمبی چوڑی عرضداشت پیش کرونگا... خاتم الانبیائۖ کی خدمت اقدس میں دکھڑے پیش کرونگا... مگر برما کے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بے پناہ مظالم نے سب کچھ ہی بھلا ڈالا ۔ کریم آقا ۖ کی امت کا حال ایسا کیوں ہوا کہ ... انڈیا کے ہندو ' دہشت گرد ہوں' امریکہ کے عیسائی دہشت گرد ہوں' اسرائیل کے یہود دہشت گرد ہوں یا برما کے بدھ مت خبیث دہشت گرد سب ہی مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں... سب ہی مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی بستوں کو اجاڑا جارہا ہے... مسلمانوں کی نسلوں کو مٹایا جارہا ہے... مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھا جارہا ہے' کیوں؟ کیوں؟ آخر کیوں؟ 55 اسلامی ملکوں کے حکمران... مگر برما کے بڈھ مت دہشت گردوں کو دہشت گردی سے روکنے والا کوئی ایک بھی نہیں' میرے آقا مولیٰۖ بے شک چودہ سو سال پہلے آپ نے سچ فرمایا تھا کہ ''حب الدنیا'' اور ''کراہت الموت'' یہ دو مرض جب امت مسلمہ کو لاحق ہو جائیں گے تو پھر کافر مسلمانوں کے خلاف ایسے جھپٹیں گے کہ جیسے بھوکا دسترخوان پر چھپٹتا ہے... دنیا کی محبت اور موت سے ڈرنے کی بیماریوں نے امت مسلمہ کی صلاحیتوں کو ایسا زنگ آلود کر دیا کہ مسلمان حکمرانوں نے اپنی زندگیوں کی ''بقائ'' یہود و نصاریٰ کی غلامی میں جانی۔

کاش امت مسلمہ... سنت رسولۖ کی پیروی کرنے والی بن جاتی... اے کاش کہ ہم بحیثیت امہ اپنے کریم آقاۖ کے اسوئہ حسنہ پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ کریم آقاۖ کا روضہ مبارک سامنے تھا... آنکھیں اشکبار تھیں اور سر سے لے کر پائوں تک ... ملال ہی ملال تھا... لیکن جیسے ہی برما کے مظلوم مسلمانوں کا سلام... بارگاہ رسالتۖ میں پیش کیا تو ایسے لگا کہ جیسے اسلام قبول ہوچکا ہو؟ برما کے مظلوم مسلمان ہوں یا کشمیر کے مظلوم مسلمان ' فلسطین کے مظلوم ہوں یا عراق کے مسلمان جب ان کے قتل عام کی خبریں بارگاہ رسالتۖ میں پہنچتی ہوں گی تو گنبد خضراء کا مکین کس قدر دکھی ہوگا؟ یہ سوچ کر ہی انسان شرمندہ ہو جاتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved