روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار'دنیا بھر میں احتجاج
  6  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بات بڑھ گئی ہے ۔ بالآخر مسلم دنیا جاگ پڑی۔ پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، چیچنیا ، ترکی، حتیٰ کہ خود میانمر کے شہر ینگون( سابق رنگون) میں یونیورسٹی کے طلباء سڑک پر آگئے اور مسلمانوں کے ساتھ میانمرفوج اور بدھ دہشت گردوں کی درندگی کے خلاف شدید مظاہر ہ کیا۔ پاکستان کے متعدد شہروں میں مظاہر ے ہورہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے سات ستمبر( کل) کو جماعتی سطح پر بڑے مظاہر ے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کی وزارت خارجہ کے علاوہ تقریباً تمام بڑے سیاسی رہنماؤں، عمران خاں ، شاہ محمود قریشی، سراج الحق، میاں شہبازشریف، آصف زرداری ، بلاول زرداری، سید خورشید شاہ،ڈاکٹر طاہر القاری، خواجہ محمد آصف ، فاروق ستار اور دوسرے افراد نے میانمر کی حکمران وزیراعظم آنگ سانگ سوچی کی شدید مذمت کی ہے جس کی نگرانی میں مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی جارہی ہے۔25اگست کے بعد اب تک بنگلہ دیش میں 90 ہزار سے زائد اور بھارت میں40ہزار مسلمان مہاجرین پہنچ چکے ہیں۔ انہیں انتہائی ابتر بلکہ بدتر حالت میں زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔ ان لوگوں کے تقریباً20ہزار اہل خانہ کو شہید کیاجاچکاہے، دوسروں کو ناقابل اذیتیں دی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش نے پہلے تو عذر پیش کیا کہ 73 ہزار مہاجرین کو سنبھالنا مشکل ہورہاہے ، مزید مہاجرین قبول نہیں کئے جائیں گے مگر ترکی اور اقوام متحدہ کی معاونت پر مزید17 ہزارافراد کو قبو ل کرلیا ہے۔ دوسری طرف بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر آنے والے40 ہزار روہنگیا مہاجرین کو واپس میانمر دھکیل دیاجائے گا۔ اس معاملہ کا دوسرا رخ یہ ہے کہ میانمر کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کررہی ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں کا تعلق اراکان کے علاقہ سے ہے جو برما کے ہمسایہ میں سینکڑوں برسوں سے ایک آ زاد مسلم ریاست چلی آرہی تھی۔1784ء میں اس پر برمانے اور1884ء میں برطانوی فوج نے قبضہ کرلیا۔ 20ویں صدی کے وسط میں برما کو آزادی ملی تو اراکان کے مسلمانوں نے اپنی آزاد ریاست کی آزادی کی جدوجہد شروع کردی۔ اس پر برما ( اب میانمر) کی حکومت نے سختی شروع کردی ۔ پچھلے تقریباً80 برسوں میں وقفہ وقفہ سے اراکان کی آزادی کی تحریک جاری رہی ہے۔ ہر باراسے خونریز تشدد کے ذریعے دبا دیا گیا۔ اب تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں مسلمان اس تشدد کے باعث شہید ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصے سے آزادی کی مہم نے قدرے واضح رخ اختیار کر لیا۔اس دوران فوجی حکومتوں نے سیاسی اپوزیشن لیڈر آنگ وانگ سوچی کو تقریباً 20 سال تک گھر میں نظر بند رکھا۔ اس نے اس دوران تین کتابیں لکھیں ان پر اسے نو بل انعام بھی دیاگیا۔ فوجی حکومتوں کے خاتمہ کے بعد آنگ وانگ سوچی کی قائم کردہ سیاسی پارٹی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آگئی۔ سوچی نے آکسفورڈ یونیورسٹی و لندن یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کررکھی ہے۔ اس نے برطانیہ میں ایک انگریز شخص سے شادی کرلی۔ اس سے دو بچے پیدا ہوئے۔ شوہراور بچوں کی برطانوی شہریت کے باعث آنگ واگن سوچی کے لیے آئینی طورپر ملک کا صدر بنناممکن نہیں۔ اسے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے وزیر خارجہ کے ساتھ سٹیٹ کونسلر بنادیاگیا جو وزیراعظم کے عہدہ کے برابر ہے۔ آنگ وانگ سوچی کو امن کا نوبل انعام ملاتھا اس نے وزیراعظم بننے کے بعد مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرلیا۔ ان سے ان کی زمینیں چھین لی گئیں۔ اعلیٰ عہدوں اور بڑے کاروبار پر پابندی لگادی گئی، انہیں میانمر کی شہریت نہیں دی گئی جس کی بناپر وہ سرکاری ملازمت نہیں کرسکتے۔ (سوچی نہایت کمزور، نحیف سی عورت ہے۔72 سال عمر ہے دوآپریشن ہو چکے ہیں اور وزن صرف58 کلو گرام ہے)۔دوسری طرف مسلمانوں میں احساس محرومی و محکومی نے شدت اختیار کرلی اور آزادی کے لیے مختلف تنظیمیں وجود میں آگئیں۔ ان میں 'حزب الیقین' تنظیم زیادہ پرجوش ہے۔ سوچی کی حکومت نے تقریباً 10روز پہلے الزام لگایا کہ ' حزب الیقین' کے عسکری جنگجوؤں نے اراکان ( روہنگیا) کے علاقے میں متعدد تھانوں اور ایک فوجی سنٹر پر حملہ کرکے10اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کوزخمی کردیا ہے۔25اگست کو اس اعلان کے ساتھ میانمر کی فوج کو مسلمانوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم دے دیاگیا۔ فوج نے اندھا دھند فائرنگ کے ساتھ سینکڑوں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید کردیئے اور ایک نجی بدھ تنظیم کے ساتھ مل کر اس علاقے کے تقریباً2500 سے زیادہ گھروں کو سامان سمیت جلا دیا ۔ ان سینکڑوں گھروں کے جلنے کا منظر دنیا بھر میں دیکھاگیا۔ اس پر پوپ فرانسس اوردوسرے غیر مسلم حلقوںاور تنظیموں نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیاہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی سخت بیانات دیئے ہیں۔ ملک کی قومی وصوبائی اسمبلیوں میں سخت قرارداد یں پیش کردی گئی ہیں۔ اب کچھ دوسری باتیں :۔ ٭آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر واقع قصبہ عباس پور سے خواجہ شریف نے ایک اندوہناک خبر بھیجی ہے کہ عید کے روز کنٹرل و لائن کے ساتھ واقع چری کوٹ مقام پر بھارتی فائرنگ سے ایک آٹھ سالہ بچی مونا خضر شدید زخمی ہوگئی۔ اس علاقہ میں کوئی ہیلتھ سنٹر بلکہ کوئی سڑک ہی نہیں ۔ اس بچی کو ایک ہمدرد شخص اٹھا کر ایک میل دور تروٹی کی جگہ پر اپنے موٹرسائیکل تک لایا اور بڑی مشکل کے ساتھ اسے عباس پور کے ہیلتھ سنٹر میں پہنچایا۔ مگر خون زیادہ بہہ جانے کے باعث بچی راستے میں ہی انتقال کر گئی۔ یہ کوئی پہلی مثال نہیں۔ اس سے پیشتر بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ان سرحدی علاقوںمیں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہورہاہے کہ ہجیرہ قصبہ میں روزنامہ اوصاف کے نمائندہ شوکت بٹ کے مضافاتی علاقہ دھرم سال کے گاؤں میں ان کا مکان بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے دو بار تباہ ہوچکاہے۔ اس علاقے کے سینکڑوں مکین سخت مشکل سے دوچار ہیں۔ اس علاقہ کے ساتھ والے پہاڑ پر صرف چند سو فٹ کی بلندی پر کنٹرول لائن گزر رہی ہے۔ اس سارے علاقہ کے لوگ کئی روز سے گھروں میں محصور ہو کررہ گئے ہیں۔ کوئی شخص باہرنکلے تواوپرسے بھارتی فوج فائرنگ کردیتی ہے۔ یہ مسئلہ پہلے بھی چھپ چکا ہے مگر ان بہت سے دیہات کی مشکلات دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ خواجہ شریف نے بتایا ہے کہ معصوم بچی مونا کے سانحہ کو چار روز گزر چکے ہیں مگر کوئی اہم سیاسی شخصیت یا محکمہ صحت کاافسر نہیں آیا۔

٭ ایک نوکھی خبر: جمشید دستی نے ڈی جی خاں میں اپنے استقبال کے لیے آنے والوں کے جوتے صاف کئے۔ سکھ دھرم میں کسی خاص شخص کو خاص سزا دینی ہوتی ہے تو اسے امرتسر کے بڑے گورد وارے 'گولڈن ٹمپل 'میں آنے والے یاتریوں کے جوتے صاف کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ دو بڑے سکھ رہنماؤں ماسٹر تاراسنگھ اور سنت بھنڈارا سنگھ کو یہ سزامل چکی ہے۔ پتہ نہیں جمشید دستی نے کسی سزا کے طورپر یا محض اپنے حامیوں کی پذیرائی کے لیے ایسا کیاہے! ٭ایک قاری نے نہایت پریشانی میں فون کیا کہ سنا ہے آسمان سے 20مردہ ستارے تیزی سے زمین کی طرف آرہے ہیں۔ان کے ٹکرانے سے زمین مکمل طورپر تباہ ہو جائے گی! کیا یہ خبر درست ہے! اس عزیز نوجوان کی خبر تو درست ہے مگر اس خبر کا اگلا حصہ یہ ہے کہ یہ واقعہ تقریباً32لاکھ نوری سالوں کے بعد پیش آئے گا۔روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر فاصلہ طے کرتی ہے۔ سورج کی روشنی ہم تک پہنچنے میں9 منٹ لیتی ہے۔ روشنی پورے سال میں تقریباً 10 کھرب کلومیٹر کا سفر کرتی ہے۔ اسے ایک نوری سال قراردیا جاتا ہے۔ آسمان پر نظر آنے والی کہکشاں 15 لاکھ نوری سال کے فاصلہ پر ہے۔ میں نے اس نوجوان دوست کو یقین دلایاہے کہ فی الحال ایسا کوئی خطرہ نہیں وہ اپنی تعلیم جاری رکھے! ٭ایس ایم ایس: آزاد کشمیر کی جیلوں کا حال ابتر ہے۔ نہ کوئی ڈاکٹر نہ دوا،پینے کے پانی کی سہولتیں بھی نہیں۔ سماجی تنظیموں سے درخواست ہے کہ جیلوں کا دورہ کرکے قیدیوں کے مسائل اور شکایات سنیں۔ زاہدان گورسی کوٹلی آزاد کشمیر (0346-9299092) ٭سدھن گلی آزاد کشمیر کے گرلز ہائی سکول کی عمارت بارہ سال پہلے زلزلہ سے تباہ ہوئی تھی، اب تک نہیں بن سکی، باربار اپیلیں کی ہیں۔ کوئی اثر نہیں ہورہا۔ طالبات سخت پریشان ہیں۔ نعیم الیاس (0341-8847313)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved