جب ٥٦٩١ کی جنگ شروع ہوئی
  7  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) یہ اتفاق تھا کہ چند ماہ قبل پرانے قلعہ کے قریب پرانی فوجی بیرکوں میں بکھرے ہوئے، پاکستان ہائی کمیشن کے دفاتر چانکیہ پوری میں نئی عمارت میں جو ابھی زیر تعمیر تھی منتقل ہو گئے تھے۔ہائی کمشنر میاں ارشد حسین کو جون سن پینسٹھ ہی میں خطرہ تھا کہ اپریل میں رن آف کچھ کے معرکہ میں ہندوستانی فوجوں کی شکست کے بعد ہندوستان ، پاکستان کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گا،چنانچہ انہوں نے آدھی زیر تعمیر عمارت میں ہائی کمیشن کے دفاتر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ستمبر کی جنگ کے بعد میاں ارشد حسین نے مجھے بتایا تھا کہ در اصل لال بہادر شاستری نے تین جولائی کو انتقامی حملہ کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا تھا۔ اس ملاقات میں میاں ارشد حسین نے رازداری کے وعدہ پر یہ انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے چار ستمبر کو دلی میں ترکی کے سفارت خانہ کے توسط سے پاکستان کے دفتر خارجہ کو خبردار کردیا تھا کہ ہندوستان چھ ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ بہرحال صبح ساڑھے دس بجے ،میں ، اسلم شیخ اور محبوب العالم ، لوک سبھا پہنچ گئے۔ مارننگ نیوز کے ٹونی مسکرہنس بھی ہانپتے کانپتے وہاں آگئے۔ ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کے ویت نام، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سنگا پور اور نہ جانے کہاں کہاں سے امریکی اور دوسرے غیر ملکی صحافیوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ وزیر دفاع وائی بی چوان نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج پنجاب پر پاکستان کے حملہ کے خطرہ کے پیش نظر سرحد پار کرکے لاہور سیکٹر میں داخل ہو گئی ہے۔ اس اعلان پر پورے ایوان میں ہر طرف سے تالیوں کا ایسا شور اٹھا کہ جیسے ہندوستان نے جنگ جیت لی ہو۔ اس اعلان کے فورا بعد ہم سب چانکیہ پوری میں پاکستان ہائی کمیشن کی طرف دوڑے۔ ہم میں سے ایک جہاں دیدہ صحافی نے بالکل مختلف سمت پارلیمنٹ اسٹریٹ میں اپنے بنک کی راہ لی۔ ان کا یہ اقدام بڑا بروقت اور دانشمندانہ تھا کیونکہ اسی روز سارے پاکستانیوں کے بنک اکائونٹ منجمد کر دیے گئے تھے۔ جب ہم پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو وہاں سخت ہل چل مچی ہوئی تھی اور ریڈیو پر ایوب خان کی تقریر سننے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ ایوب خان کی تقریر کے بعد میاں ارشد حسین نے سب صحافیوں سے کہا کہ اگر وہ باہر اپنی جان کو خطرہ محسوس کریں تو ہائی کمیشن میں پناہ لے سکتے ہیں۔ خلیل بٹالوی تو پہلے ہی اپنے بیوی بچوں سمیت ہائی کمیشن کی عمارت پہنچ چکے تھے۔ ٹونی مسکرہنس اور محبوب العالم نے بھی ہائی کمیشن منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب رہ گئے اسلم شیخ اور میں۔ ہم نے کہا کہ صحافی ہوتے ہوئے یہ مناسب بات نہیں ہوگی کہ جنگ کے پہلے ہی دن ہم چانسری کی عمارت میں چھپ کر بیٹھ جائیں۔ چنانچہ ہم ہائی کمیشن سے واپس آگئے۔ دوسرے دن جب ہم لوک سبھا گئے تو دیکھا وزیر دفاع چوان ایوان میں نہیں ہیں۔ ہندوستانی صحافی دوستوں سے پوچھا کہ چوان کہاں ہیں تو ان میں سے کچھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور گئے ہیں جہاں وہ جنرل چودھری کے ساتھ لاہور فتح کرنے والے ہندوستان کے فوجی دستوں کی سلامی لیں گے۔ آٹھ ستمبر کی دوپہر کو جب میں اور اسلم شیخ ہائی کمیشن کی عمارت سے نکلے تو ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ ہم دو رویہ ہیج میں چھپتے چھپاتے رائے سینا ہوسٹل کے قریب پہنچے تو راستہ میں اخبارات کے ضمیمے فروخت ہو رہے تھے۔ شہہ سرخیاں تھیں 'لاہور فتح ہوگیا اور ہندوستانی فوج کراچی سے پچیس میل کے فاصلہ پر پہنچ گئی۔ ہمارے حواس باختہ ہو گئے، اسلم شیخ نے سوالیہ انداز سے میری طرف دیکھا اور میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم نے فیصلہ کرلیا کہ ہم ہائی کمیشن ہی کا رخ کریں۔ اسلم شیخ ہوسٹل میں میرے کمرے میں آئے اور اپنے ملازم کو ٹیلیفون کیا کہ ایک بیگ میں ان کے کپڑے رکھ دے اور یہ کہہ کر نیچے ٹیکسی لے کر اپنے مکان روانہ ہوگئے۔ اسلم شیخ کے روانہ ہوئے دو منٹ بھی نہیں گزر ے تھے کہ دروازہ پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا سی آئی ڈی کے دو افسر کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیے۔ میں نے محسنہ سے کہا کہ تم ہائی کمیشن میں پریس قونصلر انصاری صاحب کو ٹیلی فون کرکے وہاں چلی جاؤ۔ سی آئی ڈی کے افسر مجھے اپنے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کے دفتر لے گئے۔ جہاں انہوں نے مجھے انٹرنمنٹ آڈر دیا۔ یہ آرڈر دراصل سن باسٹھ میں چین کے ساتھ جنگ کے دوران تیارکیا گیا تھا جس کے تحت ہندوستان میں رہنے والے چینی باشندوں کو نظر بندی کیمپوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔ مجھے جو حکم دیا گیا تھا اس پر چین کا نام کاٹ کر پاکستان لکھ دیا گیا تھا۔

میں سمجھا کہ اس حکم کے تحت مجھے گھر میں نظربند کر دیا جائے گا لیکن مجھے فورا تہاڑ جیل لے جایا گیا اور جیلر کے حوالہ کر دیا گیا جس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس انٹرنمنٹ آرڈر کے تحت وہ مجھے کس کلاس میں رکھے۔ اتنے میں جیل کے قریب پالم ائیر پورٹ پر بلیک آوٹ کا سائرن بجا۔ جیلر نے ہڑبڑا کر کہا کہ اسے قصوری چکیوں میں ڈال دو۔ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ یہ قصوری چکیاں کیا ہوتی ہیں۔ جب دور جیل کے ایک کونے میں ایک دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے ایک سینیر قیدی' کے حوالہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ جیل میں خطرناک ترین قیدیوں کو قید تنہائی میں رکھنے کی کوٹھریاں ہیں۔ان میں،قاتل قیدی بیڑیاں پہنے سلاخوں کا سہارالئے سورہے تھے وہ ہڑبڑا کر جاگ اٹھے ۔ کسی کو علم نہیں تھا کہ میں کون ہوں۔ اس وقت میں پشاوری چپل پہنے تھا۔ کسی قیدی نے یہ چپل دیکھ کر شور مچا دیا کہ پاکستانی کمانڈو پالم ایرپورٹ پر پکڑ کر لایا گیا ہے۔ بہر حال یہ لمبی داستان ہے کہ تہاڑ جیل میں قصوری چکیوں، سی کلاس اور بعد میں بی کلاس میں اکتوبر کے آخر تک دن کیسے گزارے ۔بی کلاس میں پورے ہندوستان کے چین نواز کمیونسٹ رہنما قید تھے جن میں اے کے گوپالن، نمبودری پد اور سرجیت سنگھ بھی شامل تھے۔ انہوں نے چین کے دوست پاکستان کے قیدی کی کیسے پیار سے آؤ بھگت اور خاطر تواضع کی، وہ میں آج تک نہیں بھولاہوں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved