مدینہ سے جدائی
  7  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اسلام اور مسلمانوں کو کوئی نہیں مٹاسکتا … یہود و مجوس' ہنود و نصاریٰ اور ان کے فکری غلام کان کھول کر سن لیں … اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے … اور انشاء اللہ غالب ہوکر رہے گا … اُمت مسلمہ کی بقاء کا ضامن صرف اور صرف مسئلہ ''جہاد'' ہے … جس دن بحیثیت ''امت'' مسئلہ جہاد و قتال کی سمجھ مسلمان نوجوانوں کو آگئی … اس دن کے بعد پھر کوئی بدھ مت' کوئی ہندو' کوئی عیسائی اور کوئی یہودی کسی مسلمان بچے' بوڑھے یا جوان کو گولی مارنا تو درکنار … ہاتھ اٹھانے کی بھی جرات نہیں کرے گا۔ مرزا غلام قادیانی کی قبر پر آگ برسے' اس نے فرنگی سامراج کے کہنے پر جہاد کو حرام قرار دینے کا فتویٰ جاری کیا تھا … مرزا قادیانی ملعون اور فرنگیت زدہ ذہنوں نے بھی … فریضہ ''جہاد'' کے خلاف کمر کس لی … کوئی بتائے تو سہی کہ برما کے مسلمانوں کو کس جرم میں مارا جارہا ہے … کہاں ہیں وہ یہودیت زدہ ذہن… جو کہتے ہیں کہ جیش محمدۖ' لشکر طیبہ یا دیگر کشمیری مجاہدین کی وجہ سے پاکستان عالمی سختیوں کی زد میں ہے … برما میں نہ تو جیش محمدۖ ہے اور نہ ہی حزب المجاہدین … پھر وہاں مسلمانوں کو ہزاروں کی تعداد میں کیوں شہید کر دیا گیا؟ اس موضوع کو یہیںپر چھوڑتے ہوئے آپ کو ایک دفعہ پھر مدینہ منورہ لیئے چلتا ہوں … وہ مدینہ کہ جہاں روضہ رسول ۖ ہے … روضہ اطہر کی جنوبی سمت میں جو کہ ریاض الجنتہ کی طرف ہے … اور جہاں زائرین بارگاہ رسالتۖ میں سلام عرض کرتے ہیں … تین جالیاں ہیں … درمیان والی جالی کو مواجہہ شریف کہتے ہیں … یہاں حضور اکرمۖ' حضرت ابوبکر صدیق ' سیدنا عمر فاروق آرام فرما رہے ہیں … مسجد نبوی میں شامل مقامات میں ریاض الجنتہ بھی شامل ہے … اسی کے متعلق آپۖ نے ارشاد فرمایا تھا ''میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ (مسلم) اسی ریاض الجنتہ میں آپۖ امامت کروایا کرتے تھے ' اسی جگہ ایک محراب بنی ہوئی ہے جسے محراب نبوی ۖ کہا جاتا ہے … مسجد نبویۖ میں منبر رسول ۖ ہے … جس پر کھڑے ہوکر آپۖ خطبہ ارشاد فرمایا کر تے تھے … منبر کے بارے میں آپۖ کا فرمان ہے کہ ''میرا منبر حوض پر ہے ۔ (مسلم) مسجد نبویۖ میں حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء کا حجرہ' اصحاب صفہ کا چبوترہ بھی ہے' ریاض الجنتہ میں … ستون تہجد' ستون مقام جبرائیل ' ستون سریر' ستون حرس یا ستون علی' ستون وفود' ستون توبہ یا ستون ابو لبابہ' ستون منانہ اور ستون عائشہ بھی موجود ہیں ' صبح ہو یا شام … روضہ رسول ۖ پر درو و سلام پڑھنے والے فرزندان توحید میں ذرا برابر بھی کمی واقع نہیں ہو رہی' ریاض الجنتہ میں صرف دو نفل ادا کرنے کے لئے عشاق گرے پڑتے ہیں ' مسجد قبا' جامع محمد خندق' مسجد قبلتین' جامع مسجد احد …مقامات شہداء احمد' جنت البقیع' ایسے لگتا ہے کہ جیسے مدینہ منورہ کے گلی کوچے اور بازار ایک عاشق صادق سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہوں کہ عمارتیں جتنی مرضی جدید ہو جائیں … بلڈنگیں جس قدر چاہیں بلند و بالا ہوجائیں اسکے باوجود تمہیں مدینہ کی خاک سے بھی اسلام کی خوشبو مہکتی ہوئی ملے گی۔ جو مرزا غلام قادیانی ملعون کے فکری طبلچی بن کر ''جہاد و قتال'' والی مقدس عبادت کے خلاف بولتے یا لکھتے ہیں … انہیں چاہیے کہ وہ ایک سفر مدینہ منورہ کا ضرور کریں … مدینہ آکر وہ ایک نماز جامع مسجد خندق میں ادا کریں … مسجد خندق کے در دیوار انہیں بتائیں گے کہ یہ خندق وہی مقام ہے کہ … خاتم الانبیاء ۖ کدال کے ساتھ خندق کی کھدائی فرما رہے تھے کہ ایک صحابی نے بھوک کی شدت سے آگاہ کرنے کے لئے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو وہاں ایک پتھر بندھا ہوا تھا … خاتم الانبیاء ۖ نے جواباً اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو وہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے … مسجد خندق کے در دیوار پوچھتے ہیں کہ آقا و مولیٰۖ نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھ کر بھی جس جہاد کوچھوڑنا گوارا نہ کیا تھا … آج امت مسلمہ کے اکثر خاص و عام اس ''جہادو قتال'' والی عبادت کا نام بھی آجائے تو آئیں ' بائیں ' شائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں تو کیوں؟ مکہ اور مدینہ وہ پیاری بستیاں ہیں کہ جہاں اسلام کے ابتدائی لمحات' ماہ و سال کی ایک ' ایک نشانی محفوظ و مامون ہے … مکہ اور مدینہ وہ پاکیزہ شہر ہیں کہ جو خاتم الانبیاء ۖ کی 63 سالہ مبارک زندگی کے عینی گواہ ہیں۔ جب خاتم الانبیائۖ کے گرد صدیق و فاروق ' عثمان و علی پروانوں کی طرح منڈلایا کرتے تھے … تو سرزمین مکہ و مدینہ وہ نظارے دیکھ دیکھ کر مسکرایا کرتے تھے ۔ احد کے میدان کے ستر شہیدوں کے جنازے ' ان کے کفن دفن کا بندوبست کیسے ہوا تھا؟ وہ ایک صحابیہ کہ جسے بتایا گیا کہ تیرا باپ شہید ہوگیا' تیرا خاوند شہید ہوگیا' تیرا بیٹا شہید ہوگیا… وہ سنتی رہی اور پھر بولی کہ میرے نبی ۖ کا کیا حال ہے؟ بتانے والے نے بتایا کہ آپۖ ٹھیک ہیں … خاتون صحابیہ کو حضور ۖ کی خیریت کی جیسے ہی اطلاع ملی تو بے خودی میں آکر یوں گویا ہوئی۔ میں بھی' باپ بھی' خاوند بھی ' بیٹا بھی ' برادر بھی فدا اے شاہ اُممۖ ' تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم وہ دو معصوم بچوں سیدنا معو ذ اور سیدنا معاذ کا ابوجہل جیسے کافر کو پھڑکانا' ہجرت کے موقع پر سراقہ بن مالک کا تعاقب کرنے کی کوشش میں زمین میں دھنس جانا … وہ خاتم الانبیائۖ کے مبارک رخساروں کا کافر کی تلوار سے زخمی ہو جانا … پھر رخسار مبارک سے خون کے قطرے ٹپکنا… وہ آقا و مولیٰ ۖ کے دندان مبارک کا شہید ہو جانا … بدر ہو' احد ہو' یا خندق… وہ صحابہ کرام کا آگے بڑھ بڑھ کر خاتم الانبیائۖ کے اشارے پر جانیں نچھاور کرنا … ان سب مناظر کو سرزمین مکہ و مدینہ نے ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا … اسلام کی ساری نشانیاں محفوظ ہیں۔ حضور اکرمۖ کی 63 سالہ زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہے' قرآن و حدیث کا ایک ایک حکم محفوظ و مامون ہے … مشرق و مغرب' شمال و جنوب میں بسنے والے کافر مل کر بھی میرے نبی محترم ۖ کی مسواک والی سنت بھی ختم نہیں کرسکے اور نہ ہی کرسکیں گے۔

جو کافر مسواک والی سنت ختم نہیں کرسکتے و ہ اسلام کیا ختم کریں گے' بس ہمیں مسلمان بننے کی ضرورت ہے … مجھے بتایا گیا کہ بدھ کی رات کے آخری پہر ہمیں مدینہ سے جدا ہونا پڑے گا … روضہ رسول ۖ' مسجد نبوی شریف' سے جدائی کے تصور نے دہلانا شروع کر دیا … لیکن دل مطمئن تھا کہ مدینہ سے جدائی اس حالت میں ہو رہی ہے کہ دل کی ساری باتیں کھول کر اپنے آقاء مولیٰۖ کے حضور پیش کر دی ہیں … مدینہ سے جدا ہوکر اگر زندہ پاکستان پہنچے تو اسلام کی سربلندی کے لئے یہ قلم مزید شدت سے وقف رہے گا۔ (انشاء اللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved