پاک فوج ، فضائیہ ، بحریہ کو سلام
  7  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭عیدالاضحی کے تینوں دنوں میں عید مبارک کے بہت سے پیغامات آئے۔ تعداد اتنی تھی کہ الگ الگ جو اب دینا مشکل ہوگیا ۔ ان سب قارئین کرام اور احباب کا بے حد شکریہ! ٭اس سال 6ستمبر کو یوم دفاع زیادہ جوش اور جذبے کے ساتھ گزرا۔ آج یوم فضائیہ ہے۔ میں1965ء کی پاک بھارت جنگ کا چشم دیدشاہد ہوں۔ پنجاب یونیورسٹی کے چیف والنٹیر کی حیثیت سے دوران جنگ محاذوں پر فوجیوں کے لئے کتابیں اوردوسرا سامان لے جاتا تھا۔ آج سات ستمبر کو یوم فضائیہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج اور بحریہ نے1965ء کی جنگ میں غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کے ساتھ ملک کو دشمن کے حملے سے بچایا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے دشمن کی پانچ گنا زیادہ بڑی ایرفورس کاجس طرح تیاپانچہ کردیاتھا۔ اس سے دشمن کی فضائی طاقت مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔ 6ستمبر کے پہلے ہی روز واہگہ بارڈر کی دوسری طرف لاہور کی لوٹ مار کے لیے آنے والے بھارتی عوام کے بہت بڑے ہجوم پر پاک فضائیہ کے دو جیٹ طیارے جس طرح ٹوٹ پڑے تھے اوروہ بے شمار لوگ بہت سی لاشیں اور زخمی افراد کوچھوڑ کر جس طرح واپس بھاگے تھے، اسی روزہی اس جنگ کا فیصلہ سامنے آگیا تھا۔ میرے وطن کی آج بھی تینوں مسلح افواج جس طرح حفاظت کررہی ہیں، میں اس پر اپنی اور قارئین کی طرف سے سلام کرتا ہوں! ٭میانمر سے مزید35 ہزارروہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ گئے اب تعداد سوا لاکھ ہو گئی ہے۔ پاکستان کی حکومت تو گول مول الفاظ میں رسمی افسوس کرتی رہ گئی۔ مالدیپ نے میانمر سے تجارتی تعلقات ختم کردیئے( ہم سے یہ بھی نہ ہو سکا)۔ ملائیشیا کی خاتون وزیر خارجہ میانمر اور انڈونیشیا کے وزیرخارجہ ڈھاکہ پہنچ گئے اور ان کی حکومتوں سے روہنگیا مسلمانوں کی صورت حال کے بارے میں بات چیت کی (ہم صرف بیان دیتے رہے)۔ ترکی کے صدر اردگان نے میانمر کی وزیراعظم آنگ سانگ سوچی کو فون کرکے مسلمانوں کے ساتھ ان واقعات کی مذمت کی اور پھر ان مسلمانوں کے لیے ایک ہزار ٹن امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کردیا۔آنگ سانگ سوچی نے یہ اعلان قبول کرلیا۔ یہ امداد اب تک پہنچ چکی ہوگی( ہم یہ بھی نہ کرسکے)۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری انتونیو گروٹس نے بھی ان انسانیت سوز واقعات کی مذمت کی اور انتباہ کیاہے کہ ان واقعات سے اس خطے کا امن تباہ ہو سکتاہے۔ ملائیشیا کی حکومت نے میانمر کے سفیرکو طلب کرکے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم پر سخت ردعمل ظاہر کیا( ہم سوچ بھی نہ سکے)۔ پاکستان میں عوام کی سطح پر ملک گیر مظاہرے ہورہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں مسلمان دشمن وزیراعظم حسینہ واجد نے میانمر کی مذمت کی بجائے مطالبہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں آنے والے مہاجرین کو واپس بلایا جائے، بنگلہ دیش ان کو دیکھ بھال نہیں کرسکتا ( پاکستان نے برسوں تک 30سے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کی ، اب بھی جاری )۔ جماعت اسلامی نے کل اسلام آباد میانمر کی سفارت خانہ کی طرف ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ تو اچھا ہے مگر خدا کرے یہ مظاہرہ پر امن رہے۔ ایک بارجماعت اسلامی نے امریکی سفارت خانہ کو آگ لگا دی تھی اور پاکستان کی حکومت کو کروڑوں کی رقم سے نیا سفارت خانہ بنانا پڑا تھا۔ ٭عمر ان خاں نے کھلے عام تسلیم کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت خیر خواہ نتائج نہیں دکھا سکی۔ میں عمر ان خاں کی صاف گوئی کی داد دیناچاہتا ہوں۔ اصل بہادر اور حوصلہ مند انسان وہی ہوتاہے جو صاف گوئی کے ساتھ اپنی کسی خامی یا کمی کا اعتراف کرلے۔ طویل صحافتی دور میں شائد ہی میں نے کوئی ایسا سیاست دان دیکھا ہو جو دوٹوک انداز میں اپنی ناکامیوں یا کوتاہیوں کا اعتراف کرے۔ بعض لوگ عمر ان خاں کے اس اعتراف پر اس کی سیاست کی ناکامی کے طعنے دے رہے ہیں، مگر مجھے خوش گو ار حیرت ہوئی ہے کہ کوئی سیاست دان تو ایسا ہے جو اپنے بیان کے نتائج کی پروا کئے بغیر اپنی کارکردگی کا دیانت دارانہ جائزہ پیش کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں کسی بھی سیاسی عمل اور نظام کو مکمل طورپر کامیاب نہیں کہا جاسکتا۔ امریکہ کے آئین میں55 اور بھارت کے آئین میں70 سے زیادہ ترامیم ہوچکی ہیں اور مزید ہوتی جارہی ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما ایک قانون کو منسوخ کرکے امریکہ میں مقیم آٹھ لاکھ غیر ملکی نوجوانوں کو ملک بدرکرنے کا حکم دیا ہے۔ عمران خاں نے صاف صاف کہا ہے کہ ان کی پارٹی خیبر پختونخوا میں وہ تبدیلی نہیں لا سکی جووہ لانا چاہتے تھے،اور یہ کہ پختونخوا کا بلدیاتی نظام ملک بھرمیں بہترین ہے لیکن یہ بھی حسب توقع کام نہیں کرسکا اس لئے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اسے چلنے نہیں دے رہے۔ عمر ان خاں کا یہ حقیقت افروز تجزیہ بھی دلچسپ ہے کہ شکر ہے 2013ء میں ہماری پارٹی کو وفاقی حکومت سنبھالنے کا موقع نہیں مل سکاورنہ ناتجربہ کاری کی بناپر ملک کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ مزید کہ ابتداء میں ایک سال تک مجھے پتہ ہی نہیں چل سکا کہ صوبے میں کیا ہو رہاہے؟ ٭افغانستان کے کٹھ پتلی صدر اشرف غنی نے پھر پینترا بدلاہے۔ پاکستان کے ساتھ امن کے قیام کے لیے جامع مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ بظاہر یہ خوش کن بات ہے، مگر یہ شخص اور اس سے پہلے حامد کرزئی مصیبت کے وقت اکثر ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ذراسا وقفہ ہوتا ہے تو پھر پرانی ہرزہ سرائی پر اتر آتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے افغانستان میں دہشت گردی کا طوفان آیاہے۔ طالبان افغانستان کے مزید علاقوں پر قابض ہوگئے ہیں۔ امریکی فوجی ہیڈکوارٹر بھی دھماکوں سے محفوظ نہیںرہا۔ طالبان، داعش اور القاعدہ کے حملے بے قابوہو رہے ہیں۔ اشرف غنی کو حکومت کابل شہر تک محدود تھی، وہاں بھی سُکڑ رہی ہے۔ ایسے میں اسے پھر پاکستان کا تعاون یاد آگیا ہے! ٭راولپنڈی کی لال حویلی والے شیخ رشید نے عید پر قربانی کے لیے دو لاکھ85 ہزارروپے سے دواونٹ خریدے! ایک قاری نے تبصرہ کیا ہے کہ شیخ رشید کوئی کروڑ پتی شخص ہوں گے! میں کچھ کہہ نہیں سکتا مگر اونٹ کے بارے میں ایک دو دلچسپ باتیں کہ مشہور مزاح نگارمحمد خالد اختر کے مطابق زمین اٹھتے وقت اونٹ کے جسم کے مختلف اعضاء گیارہ زاویے بناتے ہیں۔ جنرل شفیق الرحمان کی تحقیق یہ ہے کہ اونٹ کی گردن اس لیے لمبی ہوتی ہے کہ اس کا سر بہت دور ہوتاہے! ٭ایک قاری نے پوچھا ہے کہ 14 اگست کو یوم آزادی پر حکومت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر سول اور فوجی ایوارڈوں کا اعلان کیا کرتی ہے؟ اس سال ایسا اعلان ہواہے؟ ممکن ہے کہ اعلان ہوا ہو مگر تادم تحریر میری نظر سے نہیں گزرا ! میں اس بارے میں بھی کچھ نہیں کرسکتا۔

٭ایک دلچسپ خبر: بھارتی پنجاب میں رہنے والے66 سالہ جیسپیراور اس کی 62سالہ بیوی بھوپندر کوامریکہ کی ریاست فلوریڈا سے ان کے بیٹے دیو پیر نے پیغام دیا کہ اس کی بیوی' سلکی 'ان دنوں اس سے سخت بدتمیزی کررہی ہے۔ اس پر دونوں میاں بیوی نے امریکہ کا ٹکٹ لیا، آٹھ ہزار میل کا فاصلہ طے کیا اور فلوریڈا پہنچتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ بہو کی جی بھر کر پٹائی کردی۔ پولیس نے دونوں ساس سسر اور ان کے بیٹے کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس پر اخبارات میں چھپنے والا ایک پرانا واقعہ یاد آگیاہے۔ لندن میں مقیم ایک پاکستانی والدین سے ان کے نو عمر بیٹے نے بہت بدتمیزی کی ۔ وہاں کے قانون کے مطابق کسی بچے پر ہاتھ نہیں اٹھایاجاسکتا۔اگلے روز اس کے والد نے پاکستان کے لیے بیٹے سمیت ٹکٹ خریدے۔ لاہور کے ہوائی اڈے سے باہر آتے ہی بیٹے کی پٹائی شروع کردی۔ لڑکے نے بہت شور مچایاکہ لندن جاکر پولیس کو رپورٹ کرونگا ۔ والد نے جوا ب دیا کہ ہم لندن واپس جائیں گے تو ایسا کرو گے نا؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved