ناکام امریکی خارجہ پالیسی
  8  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) دنیا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور مزید خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ شمالی کوریا کسی اور کو نہیں، امریکا کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ مشرق وسطی میں اب تک شدید عدم استحکام ہے، اسے جو آگ لگائی گئی تھی وہ بظاہراب تک بجھائی نہیں جاسکی۔ وینزویلا تیزی سے انتشار کے گڑھے میں گرتا جارہا ہے جبکہ امریکاومغرب کی بالادستی کوچیلنج کرنے والے گروپ بھی اپنی قوت میں اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ بہت سے معاملات میں ناکامی سے دوچار روس بھی اب اپنی شکست کا بدلہ لینے کا بھی سوچ رہا ہے۔ چین تیزی سے علاقائی بالا دستی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین کو شکست و ریخت کے خطرے کا سامنا ہے۔ تجارت کو زیادہ سے زیادہ آزاد بنانے کی کوششیں تھمی ہوئی سی دکھائی دے رہی ہیں۔ ترکی حالیہ فوجی بغاوت پر قابو پانے کے بعدامریکا اورمغرب کی پالیسیوں کے خلاف سینہ ٹھونک کرمخالف میدان میں موجودہے اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اب تک اس نکتے پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا کہ امریکی خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیے؟ ادھرشمالی کوریاسے معاملات سنبھل نہیں رہے کہ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں افغانستان میں اپنی ناکام پالیسیوں اورشکست کاملبہ پاکستان پرڈالتے ہوئے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکااب پاکستان میں دہشتگردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتالیکن دوسری طرف اقوام عالم بیک زبان اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کر چکا ہے اور اب بھی ضرب عضب کی کامیابی کے بعدردالفسادآپریشنزجاری ہیں جبکہ امریکاکی اس جنگ میں پاکستان اب تک ہزارسے زائدفوجیوں اور عام شہریوں کی قربانیاں بھی دے چکاہے۔ٹرمپ نے اپنی تقریرمیں اپنی ناکامیوں پرپردہ ڈالتے ہوئے اپنی عوام اور دنیاکوگمراہ کرنے کیلئے پاکستان کواربوں ڈالرکی مالی امدادکابھی ذکرکیاجبکہ حقیقت یہ ہے کہ اربوں ڈالرز کی امداد کا دعوی بھی گمراہ کن ہے اورپاکستان کو کے بعد سے ہونی والی ادائیگیوں کا تعلق افغانستان میں آپریشن کے لیے زمینی اور فضائی حدود کے استعمال سے ہے نہ کہ کسی مالی امداد سے، اب ضرورت اس امرکی ہے کہ مادی یا مالی امداد کی بجائے پاکستان کی کوششوں، تعاون اور ہزاروں پاکستانیوں کی قربانیوں کو سراہا جائے۔۔ افغانستان کے سب سے قریبی پڑوسی ہونے کی وجہ سے وہاں امن اور استحکام پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے اور وہ ماضی میں امریکا اور افغانستان کے ساتھ مل کر سیاسی بات چیت کے ذریعے اس جنگ زدہ ملک میں امن اور استحکام لانے کے لیے کام کر چکا ہے لیکن ہمیشہ امریکی سازشوں کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی تقریرمیں ایک خطرناک چال کاسہارالیتے ہوئے پاکستان کودھمکی اوربھارت کوتھپکی دیکرخطے کے ممالک کواشتعال بھی دلایاہے جبکہ پاکستان اورچین نے فوری طورپراپنے ردعمل میں خطے بھارتی پالیسیوں کو خطے میں امن کے لیے خطرناک قرار دے کر اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی کرنے کے لیے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی میں بطور آلہ کار استعمال کرتا ہے پھرجنوبی ایشیا میں سلامتی یقینی بنانے والا کیسے ہو سکتا ہے؟اب وقت آگیاہے کہ امریکی فوج افغان سرزمین پر قائم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ٹھکانوں سمیت پاکستان میں دہشت پھیلانے والوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ہم دیگر ممالک کے شہریوں کی جانوں کو بھی اتنا ہی مقدم سمجھتے ہیں جتنا کہ اپنے شہریوں کی، اسی لیے پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسری ملک میں فساد پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم اپنے پڑوسیوں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں،اب ہرگزافغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی۔ اسلام آباد میں قومی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہاس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا افغانستان میں استحکام کی کوششوں کے لیے مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکی خارجہ پالیسی کو کامیاب ہونا ہے تو لازم ہے وہ امریکی عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ پالیسی میں تبدیلیاں کس طور لائی جائیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو پہلا کام یہ کرنا چاہیے کہ عوام کی بہبود کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ جب تک امریکی عوام کی حالت بہتر نہیں ہوگی تب تک معاملات درست نہیں ہوں گے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر جو جنونی امریکی اور یورپی لبرل ڈیموکریسی کو پوری دنیا پر تھوپنے نکلے تھے انہیں لگام دی جائے اور ان کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے۔ ان کے ہاتھوں پہلے ہی بہت خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ انہیں لگام نہ دینے سے خرابیاں صرف بڑھیں گی، کم نہیں ہوں گی۔دنیا بھر میں بہت کچھ کرنے کیلئے سب کچھ داؤ پر لگانے کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ کو اب امریکی شہریوں کی بہبود کیلئے بھی سوچنا چاہیے۔ امریکیوں کی عمومی صحت، روزگار، بہتر بنیادی سہولتیں اور دیگر امور فوری توجہ چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں امریکی عوام کو یہ بات سمجھائی جاسکے کہ کہاں کہاں کس حد تک امریکا کا مصروف رہنا لازم ہے۔ امریکی عوام کے ذہنوں میں خارجہ پالیسی اور عسکری مہم جوئی کے حوالے سے جو شکوک پائے جاتے ہیں انہیں دور کرنا لازم ہے۔

ربع صدی کے دوران امریکی اسٹیبلشمنٹ سے خارجہ پالیسی کے میدان میں جو حماقتیں سرزد ہوئی ہیں ٹرمپ کو ان کا نتیجہ سمجھنا چاہیے، سبب نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی خامیوں اور خرابیوں کا رونا روکر امریکی اسٹیبلشمنٹ دراصل اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، معاملات درست نہیں ہوں گے۔ امریکا میں قیادت کے بحران کو سمجھنے کیلئے خامیوں اور خرابیوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور یہی نہیں بلکہ انہیں دور کرنے پر بھی توجہ دینا پڑے گی۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا تب تک اندرونی خرابیاں بڑھتی رہیں گی اور بیرونی خرابیاں تو خیر بڑھتی ہی جارہی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved