میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
  8  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

دس سال کے طویل انتظار کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا فیصلہ ہوگیا اور عوام کیلئے عموماً اور پی پی پی کے نظریاتی کارکنوں کیلئے خصوصاً نا امیدی کا باعث بنا، پانچ افراد جن کے نام پولیس کی طرف سے عدالت میں پیش کئے گئے متعدد چالانوں میں شامل تھے اور جنھوں نے کسی نے کسی طرح مبیّنہ قاتلوں کی مدد کی تھی وہ سب کے سب عدم ثبوت کی بناء پر بری ہوگئے، کسی عدالت نے آج تک پولیس پراسیکیوٹر کو اس بناء پر سزا نہیںدی کہ اُس نے کیس کمزور کیوں بنایا، سی پی او سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد صرف17 سال کیلئے جیل گئے، جنھوں نے واقعہ کے ایک گھنٹہ چالیس منٹ بعد جائے وقوعہ کو فائر برگیڈ کے ذریعے دُھلواکر وہ شہادتیں ضائع کردیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی تھی، اندازہ لگائیے کہ واقعے کے کئی ہفتوں بعد اقوام متحدہ کا تلاش حقائق مشن جائے وقوعہ پر پہنچا تو انھوں نے گندے پانی کی نالی میں سے ایک گولی کا خول اور ایک قریبی عمارت کی چھت سے خود کش بمبار کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا برآمد کرلیا۔ جبکہ جگہ کی دھلائی کے بعد جو شہادتیں پولیس نے جمع کرائیں ان کی تعداد صرف23 تھی۔ اگر آپ واقعے کی ویڈیو دیکھیں تو پورے سین میں آپ کو صرف ایک پولیس انسپکٹر نظر آئے گا جو دُور کھڑا ہے، ان پولیس افسران کا یہ کہنا کہ بی بی گاڑی میں کھڑی ہوئیں تو ہم حیران رہ گئے اس لئے غلط ہے کہ لیاقت باغ کے گیٹ پر پہنچنے سے پہلے بی بی بیس منٹ تک اسی طرح گاڑی میں کھڑی رہیں تھی، واپسی پر جب بی بی کی کار گیٹ سے باہر نکلی اور روٹ پلان کے مطابق بائیں طرف مُڑی تو حیرت انگیز طورپر پوری سڑک پولیس کی گاڑیوں نے بلاک کی ہوئی تھی، نتیجاً گاڑی کو دائیں طرف موڑنا پڑا اسی اثناء میں گاڑی کو پارٹی کے ورکرز(؟) نے گھیر لیا اور ان کے نعروں کا جواب دینے کیلئے بی بی کھڑی ہوگئیں۔ ناہید خان اُن کے ساتھ اس لئے نہیں کھڑی ہوئیں کہ بی بی نے کھڑے ہونے سے پہلے اُنہیں نواز شریف کو فون ملانے کا کہا تھا۔ جو شخص بی بی کی طرف بازو اٹھاکر پستول تانے ہوئے ویڈیو میں نظر آرہا ہے وہ گاڑی کے بائیں طرف سے دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکہ کے فلیش سے دو تہائی سیکنڈ پہلے بی بی کا دوپٹہ ہوا میں ہلا اور بی بی گاڑی میں گرگئیں۔ لہذا بی بی نہ تو اس شخص کی گولیوں سے اور نہ ہی خود کش دھماکے سے شہید ہوئیں، ناہید خان، شیری رحمان، پروفیسر مصدّق، لیڈی ڈاکٹر سعیدہ اور لیڈی ڈاکٹر قدسیہ انجم قریشی نے کہا کہ بی بی کے سرکا زخم دائیں طرف تھا( بائیں طرف نہیں) ٹی وی چینلز کی یہ فوٹیج بی بی کی شہادت کے دو تین گھنٹے بعد ٹی وی کے اسکرینوں سے غائب ہوگئی اور آج تک غائب ہے۔ لیاقت باغ کا جلسہ ختم ہونے کے فوراً بعد جو بلٹ پروف مرسڈیز کار باغ سے نکلی وہ نکلنے والی پہلی کار تھی اور بی بی کی گاڑی سے پہلے ہی بھاگ پڑی حالانکہ بی بی کو بم پروفSUV کے ناکارہ ہونے کی صورت میں یہی گاڑی استعمال کرنا تھی اور جس کی فوری ضرورت اس وقت پڑی جب بی بی کیSUV تھوڑی دور ڈگمگاکر چلنے کے بعد کھڑی ہوگئی کیوں کہ اُس کے چاروں ٹائر پھٹ چکے تھے، مگر یہ نمبر دو سپورٹ کار غائب تھی اور اسلام آباد کی طرف سر پٹ دوڑ لگارہی تھی، مجبوراً چندمنٹ کے جان لیوا انتظار اور تلاش کے بعد شیری رحمان کی گاڑی آئی اور بی بی کو اُس میں شفٹ کیا گیا، یاد رہے کہ یہ نمبر دو سپورٹ گاڑی تھی جس کے ذریعے کارساز حملے کے بعد بی بی بم پھٹنے کے بارہ منٹ تیس سیکنڈ کے بعد بلاول ہائوس کلفٹن کے گیٹ پر پہنچ چکی تھیں۔ پولیس کا یہ شیطانی کھیل جس کے مرکزی کردار یہی اوپر بیان کردہ افسر تھے راولپنڈی جنرل اسپتال میں بھی جاری رہا، ڈاکٹروں کی بار بار درخواستوں کے باوجود سی پی او سعود عزیز نے پوسٹ مارٹم کیلئے اجازت نہیں دی۔ یاد رہے کہ پوسٹ مارٹم کی درخواست پولیس کی طرف سے اسپتال کو کئے جانے کے بعد ہی پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے، پھر یہ کہا گیا کہ بی بی کی فیملی دبئی سے آرہی ہے ان سے اجازت لینا ضروری ہے، یہ بھی ایک کمزور عذر تھا کیوں کہ قانون کے مطابق ہر وہ میّت جس کو قتل کیا گیا ہو یامخدوش حالات میں وفات پائی ہو پولیس کواسپتال سے اس کا پوسٹ مارٹم کرانا لازمی ہے اور اس میں فیملی کی اجازت ضروری نہیں، اگر فیملی پوسٹ مارٹم نہ کرانا چاہے تو اسے عدالت سے تحریری اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے یہ کہنا کہ آصف زرداری نے اجازت نہیں دی اس لئے غلط ہے کہ بی بی کی فیملی چکلالہ ایئر بیس پر رات ایک بجے کے بعد پہنچی اور اس وقت تک بی بی کو غسل دے کر کفن پہناکر تابوت میں بند ایئر بیس پر پہنچایا جاچکا تھا۔ سی پی او سعود عزیز اور ایس پی خرّم شہزاد نے پولیس سیکیورٹی پلان کو نظر انداز کیا، بی بی کی گاڑی کو پولیس کی گاڑیوں کے باکس فارمیشن کے درمیان ہونا تھا، ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا نہ لیاقت باغ جاتے ہوئے اور نہ واپسی پر جائے وقوعہ کوCordon Off ہی نہیں کیا گیا، بی بی کی تباہ شدہ گاڑی کو پولیس لائنز میں کھلی جگہ پر کھڑا کردیا گیا، ان کی جوتیاں نکال کر دھوئی گئیں اور پھر واپس گاڑی میں رکھ دی گئیں، گاڑی کو اندر باہر سے صاف کردیا گیا اور اس طرح ڈی این اے اوردوسرے ٹیسٹوں کے سارے امکانات ختم ہوگئے، بی بی کا دوپٹّہ ابھی تک غائب ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے اے آئی جی کی قیادت میں جے آئی ٹی تشکیل دی وہ محض خانہ پری تھی، جے آئی ٹی کے سربراہ سارا وقت ٹیم کے جونئیر ممبران سے محو گفتگو رہے اور احتجاجاًسندھ سے آنے والے آفیسر دو دن بعد ہی گھر لوٹ گئے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ڈرامہ کرنے کے بعد جو کمیشن پاکستان آیا اس کی رپورٹ حیران کن ہے، کمیشن نے صاف لکھا ہے کہ ہمارا کام صرف حقائق معلوم کرنا تھا جو ہم نے کردئیے، اب کریمنل انوسٹی گیشن ہونا چاہئے۔ پی پی پی کی پانچ سالہ حکومت اور نواز شریف کے دور حکومت کے چار سالوں میں کبھی بھی کرمنل انویسٹی گیشن کی بات ہی نہیں کی گئی، اب پی پی پی اور شہید محترمہ کے بچّے مگر مچھ کے آنسو بہاکر عدالت کے فیصلے پر احتجاج کررہے ہیں، شاید شاعر نے یہ شعر شہید بی بی کیلئے ہی کہا تھا ۔ ''میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے''


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved