فوج، فضائیہ اور بحریہ کے ایمان افروز اعلانات
  8  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭جنرل قمر جاوید باجوہ کا ایمان افروز بیان … آئی جی پولیس سندھ 12مارچ2019ء تک اس عہدہ پر برقرار رہیں گے، انہیں مکمل اختیارات حاصل ہوں گے، سندھ حکومت مداخلت نہیں کرسکتی، سندھ ہائی کورٹ… بھارت کے وزیراعظم مودی اورمیانمر کی وزیراعظم سوچی کایکساں اعلامیہ، روہنگیا مسلمانوں کو قصور وارقراردے دیا… ترکی کے صدر اردگان کاروہنگیا مسلمانوں کے لیے 10ہزار ٹن (28 لاکھ من) امداد بھیجنے کااعلان… مریم نواز کی سیاسی تقریر پر کتھیڈرل ( گرجاگھر) لاہور کی انتظامیہ کو معافی مانگنا پڑ گئی۔ مریم نواز نے ہمیں دھوکہ دیا، وہ صرف والدہ کی صحت یابی کی دعا کے لیے آئی تھیں۔چرچ انتظامیہ… برکس کے اعلامیہ میں پاکستان کا کوئی ذکرنہیں، چین کا اعلان۔ ٭بہت سی اہم خبریں اور بھی ہیں۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع پاکستان کی ولولہ انگیز تقریب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مجاہدانہ تقریر کی تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ ساری باتیں اتنی اہم ہیں کہ ہر بات پر شہ سرخی بن سکتی ہے۔ چند باتیں: ''بہت ڈُومور کرلیا، اتنا ہی کافی ہے، اب دنیا ڈُومورکرے… عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں … افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی … دشمن جان لے، کٹ مریں گے مگر ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے… جمہوریت کی مضبوطی سب کی مضبوطی ہے… چین کے تعاون سے ہر حالت میں سی پیک راہداری کا منصوبہ مکمل کیاجائے گا… دشمن کی پسپائی کا وقت آپہنچاہے… مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کی انتہا ہوگئی ہے، ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں… تمام ملکی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے…'' وغیرہ وغیرہ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ہر قسم کے تمام قومی سیاسی و غیر سیاسی معاملات پر جنرل باجوہ نے سیر حاصل تبصرہ کردیا، امریکہ ، افغانستان، چین اور بھارت تک واضح پیغامات چلے گئے، اگلے روز فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل انور نے بھی ایسی ہی تقریر کی ہے۔اب وزیر خارجہ خواجہ آصف اقوام متحدہ میں کیا بات کریں گے؟ محض آناجانا ہی ہوگا! ٭عمران خاں کا بی بی سی کے حوالے سے ایک انٹرویو چھپا اس کے مطابق عمران خاں نے اعتراف کیا کہ خیبر پختونخوا میں ان کی حسب منشا اصلاحی وترقیاتی کام،خاص طورپر بلدیاتی نظام کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ انہوں نے مبینہ طورپر یہ بھی کہا کہ خود ان کی پارٹی کے ارکان اسمبلی بلدیاتی نظام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ انٹرویو ایک سے زیادہ ٹیلی ویژنوں نے دکھایا۔ میںنے اپنے کالم میں عمران خاں کی اس دلیرانہ صاف گوئی پر اظہار تحسین کر دیا۔ مگرتحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود نے اس انٹرویو کو من گھڑت قراردے دیاہے۔ اس پر ایک ٹیلی ویژن نے بی بی سی والا انٹرویو حرف بحرف اسی تحریر میں پیش کر دیا ہے۔ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرناچاہتا۔ غالباً شاہ محمود قریشی کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہر طرف شہد اور دودھ کی نہریں بہ رہی ہیں، کوئی شخص بے روزگار نہیں رہا، پورے صوبے میں لوگ ہاتھوں میں زکوٰة اٹھائے پھر رہے ہیں۔ زکوٰة لینے والا کوئی شخص نہیں مل رہا! ٭سندھ ہائی کور ٹ نے صوبے کے آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ کو تبدیل کرنے اور ان کے اختیارات سلب کرنے کے بارے میں سندھ حکومت کے دواحکام منسوخ کردیئے اور فیصلہ دیا ہے کہ صوبائی حکومت آئی جی کی تین سال کے لیے ہونے والی تقرری کو ختم نہیں کرسکتی۔وہ قانون کے مطابق 12مارچ 2019ء تک اس عہدہ پر برقرار رہیں گے۔ مزید کہ صوبائی حکومت پولیس میں تقرریوں تبادلوں کے بارے میں ان کے اختیارمیں دخل نہیں دے سکتی۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ واضح طورپر ایک عرصے سے سادات کے زیر سایہ چلنے والی صوبائی حکومت کی واضح شکست ہے( سید قائم علی، سید مراد علی، سیدنا صر حسین، سید خورشید شاہ!) ۔ سندھ حکومت کے مطابق وہ سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی۔ میں ایک دوسری بات کرناچاہتا ہوں ۔ ایک قاری نے پوچھا ہے کہ آئی جی اے ڈی خواجہ کا اصل نام کیا ہے؟ یہ نام اللہ ڈینو ہے۔ پنجاب میں اللہ دین یا الہ دین کہاجاتا ہے۔ اے ڈی الفاظ والے دوسرے نام علاء الدین، اللہ دوایا بھی ہوسکتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک ڈائریکٹر اے ڈی اظہر کا اصل نام اللہ دتا اظہر تھا۔ اسی طرح ساہیوال کے ایک معروف ادیب و شاعر ا۔د۔ نسیم لکھا کرتے تھے۔ ان کا نام بھی اللہ دتا ہی تھا۔ نسیم ان کا تخلص تھا۔ ہاں ایک دلچسپ بات کہ اے ڈی خواجہ کا تعلق سندھ کے شہر ٹنڈو محمدخاں سے ہے۔ وہ ضلع دادو کے ایس پی بنے تو جرائم پیشہ افراد کی کثرت سے شکایات ملیں۔ خاص بات یہ کہ زیادہ جرائم کے مرتکب خود پولیس کے نچلے درجے کے افسر اور اہلکار پائے گئے۔ اے ڈی خواجہ نے ایس پی کی وردی الماری میں رکھی ۔ ایک دودھ فروش کا حلیہ بنایا، ایک سائیکل پر دودھ سے بھرے دو برتن لٹکائے اور گلیوں میں دودھ فروخت کرنے کی آواز لگانے لگے۔ پھر ایک سبزی فروش کا روپ بھر ااور ایک ریڑھی پر سبزیاں بیچنے کے لیے نکل پڑے۔ اس طرح حلیہ بدلنے کے ساتھ انہوں نے مختلف علاقوں میں عام لوگوں اور دودھ اور سبزی خریدنے والی عورتوں سے وہاں ہونے والے جرائم کی کیفیت معلوم کی۔ انکشاف یہ ہوا کہ سب سے زیادہ پولیس کے تھانیداراور سپاہی عوام کو مختلف طریقوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اے ڈی خواجہ نے وردی پہنی اور کثیر تعداد میں ایس ایچ او ، انسپکٹر ، حوالداراور سپاہی معطل کردیئے۔ اس سے پورے ضلع کی پولیس میں دہشت پھیل گئی۔ داستان کے مطابق اے ڈی خواجہ کا دادو سے تبادلہ ہوا تو وہاں کے عوام کی کثیر تعداد احتجاج کرتی ہوئی سڑکوں پر جمع ہوگئی ۔اس دیانت دارانہ سخت مزاج افسرکو کسی بھی آمر سے زیادہ آمرانہ مزاج رکھنے والی سندھ حکومت کیسے برداشت کر سکتی تھی! اس حکومت نے خود ہی ان کا نام آئی جی پولیس کے لیے بھیجے جانے والے تین ناموں میں شامل کیاتھا۔ شائد اس وقت اے ڈی خواجہ کے مزاج کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ان کا تقرر 12 مارچ 2016ء کو ہوا۔ عہدہ سنبھالتے ہی انہیں شکائت ملی کہ آصف زرداری کے نہائت قریبی دوست اور کئی شوگر ملوں کے مالک انو ر مجید کی ملوں کے لیے کسانوں سے زبردستی گنا حاصل کیا جا رہا ہے۔ اے ڈی خواجہ نے ایسا کئے جانے پرپابندی عائد کر دی۔ ظاہر ہے انجام کیا ہونا تھا! سندھ حکومت نے ایک روز 15روز کے لیے جبری چھٹی پربھیج دیا۔ پھرایک حکم کے ذریعے انہیں ان کے عہدہ سے تبدیل کردیا۔ عدالت نے حکم پر عمل درآمد رو ک دیا۔ یہ وار خالی گیا تو صوبائی وزیر داخلہ نے پولیس میں تقرریوں و تبادلوں کے بارے میں ان کے اختیارات اپنی ذات میں منتقل کرلیے( ہائی کورٹ نے یہ حکم بھی منسوخ کردیاہے)۔ اے ڈی خواجہ نے ایک کام یہ کیا کہ پولیس میں سیاسی بھرتیوں سے چھٹکارے کے لیے فوج کے ریٹائرڈ20ہزار اہلکاروں کو پولیس میں بھرتی کرلیا۔ ان کو فوج نے ہی دہشت گردی وغیرہ سے نمٹنے کی تربیت دی۔ یہ کارروائی سندھ حکومت کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی۔ یہ داستان کچھ طویل ہوگئی۔ قارئین کو پہلے سے ہی اندازہ ہے کہ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی، وہ اپنی آمریت میں رخنہ ڈالنے والے کسی شخص کو برداشت نہیں کرسکتی۔

٭چین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ برکس کانفرنس کے اعلامیہ میں پاکستان کاکوئی ذکرنہیں ہے۔ اس اعلامیہ میں جیش محمد اورلشکر طیبہ کی سرگرمیوں پرپابندیوں کے ذکر پر پاکستان کے بعض حلقوں نے تشویش ظاہرکی تھی۔ ان دونوں تنظیموں پر تو پاکستان پہلے ہی پابندیاں لگا چکاہے۔ چین کے وضاحتی بیان کی تائید بھارتی اخبارٹائمز آف انڈیا کے اداریے سے بھی ہوتی ہے، جس میں کہاگیا ہے کہ برکس کانفرنس کے اعلامیہ پر بھارت میں بلاوجہ جشن منایا جا رہا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں چین کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیںآئی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved