مسلم امہ صلاح الدین ایوبی کی منتظر؟
  10  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

برماکی درندہ صفت فوج اورامن کے درس کالبادہ اوڑھے بدھ مت کے بھکشوؤںکے ہاتھوںایک مرتبہ پھرمیانمار(برما)سے بیکس روہنگیامسلمانوں کے بہیمانہ اجتماعی قتل وغارت کے مناظرنے دلوں کودہلاکر رکھ دیاہے اورانسانیت بھی شرم کے مارے اپنامنہ چھپائے اقوام عالم کے ضمیروں کوجگانے میں ناکام نظرآرہی ہے۔اب تک تین لاکھ سے زائد بدنصیب روہنگیاکے مسلمان اپنی جان بچانے کیلئے بنگلہ دیش کی سرحدپرمددکیلئے سرحدی محافظوں کی منت سماجت کررہے ہیں۔بالآخرترکی کے صدرطیب اردگان اورانڈونیشیاکی خصوصی مداخلت پرتقریباً روہنگیاکے مسلمانوں کوبنگلہ دیش میں عارضی طورپرداخلے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اب شنیدیہ ہے کہ اب بنگلہ دیش کی حکومت نے مزیدروہنگیاکے مسلمانوں کوروکنے کیلئے سرحدوں پربارودی سرنگوں کوبچھادیاہے گویاموت کے خوف سے بھاگنے والوں کیلئے اب یہاں بھی موت استقبال کیلئے تیارہے۔ حال ہی میں ایک بین الاقوامی میڈیاکے نمائندے نے حسینہ واجدکی جب ان اقدامات کی طرف توجہ دلائی توانہوں نے انتہائی بے رخی اورسفاکی سے اپنی موجودہ پالیسیوں کی حمائت کرتے ہوئے روہنگیاکے مظلوم مسلمانوں کوملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکارکردیاجبکہ ترکی کے صدرنے ان تمام مہاجرین کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی ضمانت بھی دی ہے۔بنگلہ دیش میں موجودروہنگیاکے مسلمانوں کیلئے ترکی نے فوری طورپردس ہزارٹن خوراک بھی پہنچادی ہے اورانڈونیشیابھی اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہاہے۔ پچھلی تین دہائیوں سے زائدڈیڑھ لاکھ سے زائدروہنگیاکے مسلمان پاکستان کے بڑے شہرکراچی میں پرامن زندگی گزاررہے ہیں اورایک مرتبہ پھر پاکستان نے ترکی اورانڈونیشیا کے ساتھ اس رفاہی کام میں ہاتھ بٹانے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے میانمارسے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیاہے۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائدنوبل انعام یافتگان نے اقوام متحدہ سے روہنگیاکے مسلمانوں کی مؤثر امداداورمیانمار حکومت کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔میانمارکی سرکاری فوج اوربدھ ملیشیا مظلوم،مقہوراورنہتے مسلمانوں پرحملوں،بوڑھے، بچے،مردوزن میں کسی کاامتیازرو انہیں رکھ رہی، جوسامنے آتاہے اسے بہیمانہ طور پر موت کے گھاٹ اتار دیاجاتاہے۔روہنگیامسلمانوں کے گھروں کو جلانے کاکام بھی اب تھوک کے حساب سے اب تک جاری ہے،اس پرمستزاد بھارتی وزیراعظم مودی نے بھی مسلمانوں کے زخموں پرنمک چھڑکتے ہوئے میانمار کے اس عمل کی حمائت کرتے ہوئے روہنگیاکے مسلمانوں کومجرم ٹھہرادیاہے ۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارے یواین ایچ سی آرکے مطابق ہرطرف ہلاک شدگان کے جسم،دھڑ،بازواور سرنظرآرہے ہیں۔ظلم تھمنے کانام ہی نہیں لے رہا۔برماکی بدنصیب اقلیت کے یہ لوگ سرکاری فوج اوربودھ ملیشیاکے حملوں سے بچ کرپناہ کی تلاش میں خلیج بنگال عبورکرنے کیلئے جن کشتیوں کاسہارالے رہی ہے ،ان میں سے زیادہ تعدادکے نصیب میں کوئی کنارہ ہی نہیں اوروہ سمندرمیں ہی غرق ہوجاتی ہیں اوربے شمار لاشیں بے گوروکفن کناروں پردفن ہونے کی منتظر ہیں۔جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اوربوڑھے مرداور خواتین کی ہیں۔اب سمندکے انہی کناروں پران کواجتماعی قبروں کے سپردکیا جارہا ہے ۔اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے وفدکاکہناہے کہ برمی فوج کی طرف سے روہنگیاکے مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم،ان کے قتل عام اوران کی مساجدکی بے حرمتی پرقراردادپیش کی جائے گی۔سعودی وفدنے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کرکے قراردادکے بارے میں آگاہ بھی کیا۔ سوشل میڈیاپرحکمران جماعت کی لیڈراورامن کانوبل انعام حاصل کرنے والی خاتون آنگ سان سوچی پرشدیدتنقیدکی جارہی ہے۔انسانی حقوق کے لئے سرگرم حلقوں کاکہناہے کہ سوچی اپنی مجرمانہ خاموشی کی بناء پرانعام کی حقدارنہیںرہیں اوراب تک انٹرنیٹ پرجاری اس مہم میں تین لاکھ سے زائدافراد نے ان سے یہ انعام واپس لیناکامطالبہ کیاہے اور ہر آئے دن اس تعدادمیں اضافہ ہوتاجارہاہے۔برطانوی جریدے''گارجین''سے گفتگوکے دوران روہنگیامسلم خواتین نے اپنی جوبپتاسنائی وہ ہردردمندبالخصوص صاحب اولاد کیلئے رنج والم کی ناقابل فراموش داستان ہے۔ستم رسیدہ خاتون نورعائشہ نے بتایا:میری آنکھوں کے سامنے میرے شوہراورمیرے سات لخت جگروں کے ٹکڑے کردیئے گئے اورمجھے رونے اورچیخنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔بنگلہ دیش کے پانیوں میں کشتی پرسواراپنی آخری زندہ بچ جانے والی بیٹی کوسینے سے لپٹائے نورعائشہ بتارہی تھی کہ وہ اپنے پیچھے ایک جلا ہواگھر،بیدردی سے قتل کیاگیاشوہراورسفاکی سے قتل کئے گئے سات بیٹے اوراپنی حرمت پامال کرنے والے فوجی چھوڑکرآرہی ہے۔ایک اورچالیس سالہ مظلوم مسلم خاتون نے بتایا:میرے گھرپربیس فوجیوں نے حملہ کیااورہم سب کوصحن میں جمع کرلیا۔ظالم حملہ آورفوجیوں نے میرے پانچ بیٹے ایک کمرے میں بند کرکے اس کمرے پربم پھینک کرآگ لگادی ،میرے پانچوں بیٹے زندہ جل گئے اوراس کے بعدفوجیوں نے مجھے سامنے ستون سے باندھ دیااورمیری آنکھوں کے سامنے میری دو بیٹیوں کواپنی ہوس کانشانہ بنایااوربعدمیں قتل کردیا۔آخرمیں انہوں نے میرے شوہرکوقتل کردیا۔میری صرف پانچ سالہ بیٹی دلنوازبیگم زندہ بچی جوفوجیوں کے حملے کے باعث ہمسایوں کے گھرجاچھپی تھی۔ایک اوربتیس سالہ مظلوم سعیدہ خاتون نے بتایاکہ وہ پانچ ماہ کی حاملہ ہے اوران کے گاؤں پرحملہ کرنے والے فوجی اسے گن پوائنٹ پر ایک میدان میں لے گئے۔انہوں نے وہاں تقریباً تیس خواتین کوجمع کررکھاتھا۔ان میں سے پندرہ خوش شکل لڑکیوں کوفوجیوں نے الگ کیااورنامعلوم مقام پرلے گئے جبکہ باقی پندرہ خواتین کو اسی صحن میں زیادتی کانشانہ بناکرگولیوں سے بھون دیااورخوش قسمتی سے میں ان خواتین کی لاشوں کے ڈھیرکے نیچے آنے سے بچ گئی۔ایک اورمظلوم عورت نورحسین نے بتایا:برما کے فوجیوںنے بدھ دہشتگردوں کے ساتھ مل کراس کے گاؤں پرحملہ کیااورسوسے زائدخواتین کواپنی ہوس کانشانہ بنایاجس کے بعدپچیس خواتین کوقتل کردیا گیا۔ان کے ٠٥٨گھروں اور چالیس مردوںکے چھریوں سے گلے کاٹ کرزندہ جلادیا۔

بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ وپاسداری کاآج پوری دنیامیں ہمیشہ سے زیادہ غلغلہ ہے مگرنت نئے روزانسانی قوت ہی نہیں انسانی جانوں اوراموال کے اتلاف کی دل دہلادینے والی خبریں آتی رہتی ہیںلیکن ایسے روح فرسامناظردیکھ کرکلیجہ منہ کوآنے لگتاہے۔ یقیناًروہنگیاکے مسلمان دنیاکے مظلوم ترین مخلوق ہیں جوبدھوں کے غیرانسانی مظالم کاشکارہوئے ہیں۔ غیرملکی میڈیاکے مطابق میانمار کے صوبے رخائن میں گزشتہ چندہفتوں سے ایک بارپھرجومسلمانوں کی نسل کشی شروع ہوئی ہے ،اس میں کم وبیش بیش تیس ہزارافرادکے لقمۂ اجل بننے کی تصدیق ہوچکی ہے۔اب دنیابھرکے مسلمان سوچ رہے ہیںکہ کیاآج پوری امت مسلمہ میں ایک بھی صلاح الدین ایوبی جیسانہیں جومسلمانوں کوکھویاہواکردارواپس دلاسکے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved