قربانی کی کھالوں کا مسئلہ
  10  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) چونکہ ملک کے عام شہری اس ساری صورتحال کو دیکھ اور سمجھ رہے ہیں اس لیے دینی مدارس کی کردارکشی اور ان کے خلاف منفی پراپیگنڈا کی اس وسیع تر مہم کے باوجود عوام کی طرف سے دینی مدارس کے تعاون میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ چنانچہ اب قانونی ذرائع سے اسے روکنے کی نئی پالیسی اختیار کی گئی ہے جس کے تحت گزشتہ تین چار سال سے قربانی کی کھالوں تک دینی مدارس کی رسائی ختم کرنے کے لیے حکومتی اداروں کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ چمڑے کے بڑے تاجروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے عید قربانی کے موقع پر کھالوں کی قیمت کو نصف سے بھی کم سطح پر گرا دینے کی پالیسی اپنائی گئی ہے جو گزشتہ دو تین سال سے جاری ہے۔ لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کیونکہ قربانی کی کھالیں دینی مدارس کی آمدنی کا ایک حصہ ہیں لیکن صرف اسی پر ان کا انحصار نہیں ہے، اس مد میں ہونے والی کمی کو دینی مدارس کے معاونین دوسری مدات میں پوری کر دیتے ہیں۔ چنانچہ اس سال اس سلسلہ میں ایک اور حرکت بھی کی گئی کہ عید سے دو روز قبل مختلف علاقوں کے پولیس افسران نے چمڑے کے تاجروں کو دینی مدارس سے کھالیں خریدنے سے منع کر دیا۔ مبینہ طور پر لاہور میں مصری شاہ تھانے کے ایس ایچ او نے چمڑا منڈی سے تاجروں کو بلا کر دھمکایا کہ دینی مدارس سے کھالیں لینے والے اس کے نتیجے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ گوجرانوالہ میں چمڑے کے تاجروں کو بلا کر کہا گیا کہ چھوٹی کھال کی قیمت ایک سو روپے اور بڑی کھال کی قیمت دو ہزار روپے سے زیادہ ادا نہیں کرنی۔ جبکہ راولپنڈی کے ایک قومی اخبار میں ستمبر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق وہاں بھی یہ دونوں حربے اختیار کیے گئے کہ دینی مدارس سے کھالیں نہ لی جائیں اور کھالوں کی قیمت بہت کم ادا کی جائے۔ اسی طرح دیگر شہروں سے بھی اسی قسم کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ بعض مقامات پر دینی مدارس کے لیے کھالیں جمع کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم مفتی محمد عثمان جتوئی بھی شامل ہیں جن کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں حوالات میں بند کیا گیا اور اگلے روز عدالت نے اڑھائی ہزار روپے جرمانہ وصول کر کے انہیں رہا کیا۔ عید الاضحی کے موقع پر دینی مدارس کو پابند کیا گیا کہ وہ کھالیں جمع کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر سے باقاعدہ اجازت نامہ لیں۔ عید سے کئی روز قبل پنجاب کے وزیراعلی میاں شہباز شریف سے جمعی علما اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان اور وفاق المدارس کے ناظم اعلی مولانا قاری محمد حنیف جالندھری خود ملاقات کر کے بات کی تو انہیں یقین دلایا گیا کہ درخواست دینے والے مدارس کو اجازت دے دی جائے گی۔ لیکن جب درخواستیں دی گئیں تو انہیں عید سے ایک دو روز قبل تک ٹال مٹول میں رکھا گیا اور عین وقت پر بہت سے دینی مدارس کو اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں جامع نصر العلوم، مدرسہ اشرف العلوم اور مدرسہ انوار العلوم جیسے قدیمی اداروں کو بھی اجازت دینے سے انکار کیا گیا۔ مدرسہ انوارالعلوم شہر کا سب سے قدیمی مدرسہ ہے اور 1926 سے کام کر رہا ہے۔ جامع نصر العلوم 1952 سے مصروف عمل ہے جبکہ مدرسہ اشرف العلوم بھی لگ بھگ اسی وقت سے قائم ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے دینی مدارس شہر اور ضلع میں اس انکار کی زد میں آئے ہیں جنہیں اس کی کوئی وجہ باضابطہ طور پر نہیں بتائی گئی۔ البتہ مدرسہ انوارالعلوم کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہاں سیاسی لوگ بہت آتے ہیں اور جلسے ہوتے ہیں۔ مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے ساتھ ملحق ہے جہاں گزشتہ نصف صدی سے راقم الحروف خطابت کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہے۔ میں نے گزشتہ جمعہ کے خطاب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھئی! ہم تو یہ کام سوا صدی سے زیادہ عرصہ سے کر رہے ہیں۔ مرکزی جامع مسجد 1301 ہجری میں تعمیر ہوئی تھی تب سے یہ دینی و قومی تحریکات کا مرکز چلی آرہی ہے۔ 1919 میں برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت سے لے کر شہر میں ہر دینی و قومی تحریک کا مرکز یہ مسجد چلی آ رہی ہے۔ ہم دینی، قومی اور شہری مسائل پر تمام مکاتب فکر اور طبقات کو جمع کر کے مشترکہ اجلاس کرتے ہیں، عوامی جلسے کرتے ہیں، حسب ضرورت جلوس نکالتے ہیں اور اجتماعی معاملات میں جدوجہد کرتے ہیں۔ بحمد اللہ گزشتہ نصف صدی سے ان کاموں کا اہتمام میرے ذریعہ ہو رہا ہے جو آئندہ بھی اسی طرح جاری رہے گا، ان شا اللہ تعالی۔ اسی طرح مدرسہ انوارالعلوم کے مہتمم مولانا مفتی عبد الواحد نے 1970 میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا اور جنرل مشرف کے دور میں اسی مدرسہ کے مہتمم مولانا قاضی حمید اللہ خان شہر سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ اس مسجد کے خطیب کی حیثیت سے میں اس سے قبل قومی و دینی تحریکات میں بحمد اللہ تعالی چار دفعہ جیل جا چکا ہوں اور قومی و صوبائی سطح پر متعدد سیاسی محاذوں اور تحریکوں کی قیادت میں شامل رہا ہوں۔ اس لیے حکومتی حلقے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے وہ ہمارے اس قومی اور تحریکی کردار کو ختم کر سکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے، ہمارا یہ تحریکی کردار ان شا اللہ تعالی جاری رہے گا کیونکہ یہ ہمارا دینی و ملی فریضہ ہے۔

بعض دوست یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس سال اتنی سختی کیوں کی گئی ہے؟ میں ان سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ پنجاب حکومت زکوٰةصدقات کے حوالہ سے چیریٹی بل لا رہی ہے جس کے تحت دینی مدارس کو پابند کیا جائے گا کہ وہ زکوٰة صدقات کی وصولی کے لیے ڈپٹی کمشنر سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کریں ورنہ وہ زکو وصول نہیں کر سکیں گے۔ یہ بل دینی مدارس کے ذرائع آمدنی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی لایا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل اس کے موثر ہونے کے امکانات چیک کرنے کے لیے ٹیسٹ کیس کے طور پر قربانی کی کھالوں کے حوالہ سے یہ کھیل کھیلا گیا ہے۔ مگر حکومتی حلقے اس معاملہ میں غلط فہمی کا شکار ہیں، وہ مصنوعی ماحول پیدا کر کے یورپ کی ٹھنڈی زمین کا بیج برصغیر کی گرم زمین میں کاشت کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ برصغیر کا ماحول بہت مختلف ہے اور رقبہ بہت وسیع ہے جس کا احاطہ ان کے مصنوعی انتظامات نہیں کر سکتے۔ ان وقتی پریشانیوں کے باوجود ماضی کی طرح اب بھی دینی مدارس کا نظام چلتا رہے گا، ان شا اللہ تعالی۔ البتہ اس کا ایک اور پہلو بھی توجہ کا طالب ہے جس پر سنجیدہ ارباب دانش کو غوروخوض کی دعوت دے رہا ہوں کہ عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ دینی طبقات، مدارس اور اقدار و روایات کے خلاف یہ ہمہ جہتی اور ہمہ نوعی مہم مغربی ایجنڈے کا حصہ ہے جو اپنے آخری رانڈ میں داخل ہو چکا ہے۔ لیکن یہ مغربی ایجنڈے کا آخری آئیٹم ہونے کی بجائے مشرقی ایجنڈے کا نقطہ آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارا رخ دھیرے دھیرے مغرب سے مشرق کی طرف مڑ رہا ہے اس لیے دینی اقدار و روایات اور طبقات کے بارے میں مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق کے مزاج، نفسیات اور طریق کار پر بھی ہماری مسلسل نظر رہنی چاہیے۔ آخر مشرقی ایجنڈے کی پیش رفت سے پیدا ہونے والے دینی، علمی، تہذیبی، معاشی اور فکری مسائل پر قوم کی راہنمائی دینی قیادتوں نے ہی کرنی ہے اس لیے ابھی سے اس کے امکانات، اثرات اور نتائج کا جائزہ لے لینا چاہیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved