چین کا پاکستان کی حمایت میںنیا اعلان
  10  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭چین نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں ' ہرقسم کے حالات' میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہنے کااعلان کیاہے۔ بیجنگ میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں بے مثال قربانیاں دیںہیں۔ وہ توخود شدید دہشت گردی کا شکار رہاہے۔ ہم ہر وقت اس کے ساتھ دیں گے اور اسلام آباد اور کابل کے اختلافات دور کرنے میں بھی مدددیں گے۔ چینی وزیر خارجہ کے اس بیان کوبھارتی میڈیا نے نمایاں شائع کیا ہے۔ چند روز قبل چین میں ہونے والی ''برکس'' کانفرنس کے اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کے مطالبہ سے بعض حلقوں میں پاک چین دوستی کے تناظر میں حیرت کا اظہار کیاگیا تھا۔ اس وقت بھی ٹائمز آف انڈیا نے اپنے اداریہ میں واضح کیا تھاکہ چین کی پاکستان کے ساتھ دوستی میں کسی کمزوری کی نشاندہی محض غلط فہمی ہوگی، چین کبھی پاکستان کاساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔ دریں اثناء بھارتی میڈیا نے یوم دفاع کے موقع پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر کے اس حصے کو نمایاں حیثیت دی ہے کہ کشمیر کا تنازعہ مذاکرات کے ذریعے طے کیا جاناچاہئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ بات پاکستان کے کسی آرمی چیف کی طرف سے پہلی بار کہی گئی ہے اورخاص اہمیت رکھتی ہے۔ ٭ ڈھاکہ: ترکی کی خاتون اوّل ایمن( ایمان) نے افسوس کااظہار کیا ہے کہ پوری دنیا ، خاص طورپر عالم اسلام روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر خاموش ہے۔ محترمہ ایمن اپنے سب سے چھوٹے بیٹے بلال( کیسے خوبصورت نام ہیں) کے ساتھ بنگلہ دیش کے سرحدی علاقہ ''کاکسز بازار'' میں مہاجر روہنگیا مسلمانوں میں بھاری امداد تقسیم کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہی تھیں۔ ان کے شوہر ترکی کے صدر اردگان نے ان مہاجرین کے لیے دس ہزار ٹن امداد کا اعلان کیا ہے۔ (پاکستان میں صرف جلسے جلوس ہورہے ہیں)۔ ٭لاہور میں حلقہ120 کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وہی باتیں کہیں جو وہ باربار کہتے رہے ہیں فرق صرف یہ تھا کہ اس بارانہوں نے پہلے جملے سے ہی شدید گرم گفتاری کا مظاہرہ کیا۔ یہ انداز آخر تک قائم رہا۔ تقریر میں اس بات پر باربار زور دیا کہ میں نے 13سال لندن میں بہت محنت کی اور قرض لے کر60 لاکھ روپے کا ایک فلیٹ خرید سکا 'نوازشریف کے بیٹے کیسے راتوں رات ارب پتی بن گئے؟ اور یہ کہ اسحاق ڈار سکوٹر پر پھراکرتاتھا، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے دبئی میں اربوں کی جائیداد کیسے بنالی؟ عمران خاں اس تقریر کے بعد اپنے بیٹوں کے ساتھ لندن چلے گئے( و ہ ہمیشہ سابق سسرال کے پاس قیام کرتے ہیں)۔تحریک انصاف کایہ جلسہ لاہور کی معروف ترین بڑی سڑکوں فیروزپور روڈ، جیل روڈ، کوئنز روڈ اور بہاول پور روڈ کے چوک میں منعقد ہوا۔ اس کے باعث ان پانچوں بڑی سڑکوں پر ٹریفک کئی گھنٹے جام رہی اور سینکڑوں گاڑیاں آخر تک پھنسی رہیں۔

٭ایم کیوایم کے سربراہ فاروق ستار کے اس بیان کو بھارتی میڈیا نے بہت اچھا لا ہے کہ پاکستان میں مہاجروں کے ساتھ وہی سلوک ہورہاہے جو میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا جارہاہے۔ استغفراللہ! اس بیان پر پیپلز پارٹی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آرہاہے۔ فاروق ستار کا یہ بیان کوئی نئی بات نہیں۔ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی سیاست ہی ہر وقت اس سرزمین کے خلاف الزامات اور شکائتوں پر مبنی رہی ہے۔70برس کے بعد بھی خود کو مہاجر قراردیتے چلے جانا مضحکہ خیز ستم ظریفی ہے' جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فاروق ستار اور ان کے گروباوا الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تمام دوسرے رہنما مہاجر ہیں ہی نہیں۔ یہ سب لوگ پاکستان میں ہی پیدا ہوئے اور پیدائشی طورپر پاکستانی ہیں۔ یہ خو د کو کس حوالے سے مہاجر اور مہاجر وں کے رہنما کہلوا رہے ہیں؟ ان کی لُغت میں مہاجر صرف وہ تھے جو اُردو بولنے والے علاقوں سے آئے تھے۔ یہ لوگ پنجاب سے ہجرت کرنے والے لاکھوں افرادکو مہاجر تسلیم نہیں کرتے۔ حالانکہ پیدل سفر کرنے والے ان مہاجروں کا جو قتل عام ہوا ، انہیں جس طرح لوٹاگیااور ان کی خواتین کے ساتھ درندگی کا جو مظاہرہ کیا گیا، اس کے تصور سے ہی دل دہل جاتا ہے۔ ہجرت کرنے والا ہر شخص مہاجر تھا۔ میں نے خود بہت چھوٹی عمر میں لرزتے قدموں کے ساتھ سرحد عبور کی۔ میرے سامنے میرے سگے چچا سید عبدالمجید اوررشتے میں تایا محمد دین گولیاں لگنے سے شہید ہوئے۔خاندان کے کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ مگر ہم نے پاکستان پہنچنے کے بعد آج تک خود کو صرف پاکستانی کہا۔ بھارتی پنجاب سے آنے والے دوسرے لاکھوں افراد نے بھی آج تک مہاجر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ یہ لوگ لاہور اور دوسرے شہروں میں طویل عرصہ تک امدادی کیمپوں میں بے بسی کی زندگی گزارتے رہے مگر کبھی کوئی شکائت نہیں کی۔جب کہ کراچی پہنچنے والے مہاجرین کواُردو بولنے والے ہاشم رضا ، اے ٹی نقوی،علی محتشم اور دوسرے بڑے حکومتی افسروں نے مختصر مدت میں سنبھال لیا۔ عالم یہ ہے کہ ان لوگوں کی ہجرت 1947ء میں ہی ختم نہیں ہوئی۔ بہت سے حضرات کئی برسوں تک پاکستان آتے اور یہاں آباد ہوتے رہے۔ ان سب کی ہمیشہ پر جوش پذیرائی ہوئی۔ جو ش ملیح آبادی نے بھارت میں پدم شری کا اعلیٰ ایوارڈ حاصل کیا اورپھر 1958ء میں پاکستان آکر متعدد اہم عہدہ سنبھالے۔ ایک سینما الاٹ ہوگیا، ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز ہلال امتیاز بھی ملا۔1982ء میں انتقال ہوگیا۔ پاکستان میں بے پناہ عزت ملی مگر گلے شکوے نہ گئے۔ دوسری اہم مثال افتخارعارف کی ہے۔ موصوف 1965ء تک بھارت میں رہے۔ اسی سال لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کیا( بعض لوگ صرف بی اے بیان کرتے ہیں)۔موصوف لکھنؤسے براستہ لندن اسلام آبادآئے۔ آتے ہی ٹیلی ویژن، اکادمی ادبیات ، مقتدرہ قومی زبان وغیرہ کے چیئرمین بن گئے۔ ملک کے اہم ترین اعزازات پر ائڈ آف پرفارمنس ، ستارہ امتیاز ، ہلال پاکستان جھولی میں ڈال لئے۔ (افسوس کہ نشان حیدر کااعزاز زندگی میں نہیں ملتا ورنہ وہ بھی دسترس سے نہ بچ پاتا)۔ میں ڈھونڈ رہاہوں کہ ان دونو ں حضرات ( جوش ، افتخار عارف) نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے لیے کوئی ترانہ لکھا؟ کالم کا بیشتر حصہ فاروق ستار کی 'حب وطن' کی نذر ہوگیامگر بعض اوقات یہ کچھ لکھنا پڑتا ہے۔میرے اُردو بولنے والے بے شمار حضرات کے ساتھ دوستی اور محبت پیار کے رشتے اور رابطے ہیں۔ یہ سارے لوگ بے حد مخلص محب وطن پاکستانی ہیں۔ جمیل الدین عالی نے پاکستان میں جو عزت و تعظیم حاصل کی اور پوری قوم نے ان کے ساتھ جس محبت و احترام کااظہار کیا وہ اپنی جگہ ایک اعلیٰ مثال ہے۔ پاک بھارت جنگ میں سب سے پہلے ان کا لکھا ہواترانہ ''اے وطن کے سجیلے جوانو! ، میرے نغمے تمہارے لیے ہیں ''۔ آج بھی اسی طرح پاکستان اوراس کے جوانوں کی عظمت کی داستان سناتا ہے۔ میں صرف ایک سیاسی جماعت کی قیادت کی بات کررہاہوں۔ فاروق ستار صاحب! آج کے کالم میں میں نے بوری بند لاشوں اور عقوبت خانوں کا ذکرنہیں کیا۔ پھر کبھی سہی ۔ ٭ دلچسپ خبر ہے کہ لاہور کے انتخابی حلقہ120 میں پرویز مشرف کی پارٹی کے امیدوار سید وسیم شاہ نے الیکشن کمیشن کی 'دھاندلی' پر انتخابات کابائیکاٹ کردیا ہے۔ افسوس کہ قوم …! نہیں میں کچھ نہیں کہتا ، قارئین خود کوئی تبصرہ کرلیں۔ ٭ایس ایم ایس :بہت جلد میری بیٹی کی رخصتی ہے۔ میں شدید مشکلات کاشکار ہوں۔ اس سے پہلے بھی اپیل کی تھی۔ ایک بار پھر چھاپ دیں۔ بیٹی کی رخصتی بہت مشکل ہورہی ہے۔( ٹیکسلا کے ان صاحب کا نام، فون نمبر راوی نامہ سے لیا جاسکتاہے۔ کسی امداد سے پہلے ذاتی تحقیق ضروری ہے)۔ ٭تین ماہ پہلے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کشمیری مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں اضافہ کا اعلان کیا تھا۔اس پر کوئی عمل نہیںہوا۔ یہ لوگ سخت کس مپرسی کے شکار ہیں۔ وزیراعظم اور وزیربحالیات تک ہماری اپیل پہنچا دیں، شکریہ!ارشاد احمد بٹ کشمیری(0346-9615898)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved