مدینہ سے برما تک
  11  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مصنوعی خداؤں کے خوف سے کپکپانے والے زندگی کی بھیک مانگتے‘ مانگتے ہی مرجایا کرتے ہیں...تاریخ گواہ ہے جنہوں نے مصنوعی خداؤں کے سامنے گھٹنے ٹیکے‘ دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی ان کا مقدر ٹھہری... مکہ و مدینہ کی مشکبو فضاؤں سے واپسی پر اس خبر نے بھی دل میں اطمینان بھر دیاکہ اس سال تقریباً86ہزار کے لگ بھگ ایرانیوں نے فریضہ حج ادا کیا... اور ایران کی طرف سے بہترین انتظامات پر سعودی عرب کا نہ صرف شکریہ ادا کیا گیا... بلکہ ایران کے حج کے امور کے سربراہ علی گلزار عسکر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کیا جائے‘ اس میں تو رتی بھر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ سعودی عرب نے بیس لاکھ سے زائد حجاج کرام کو سہولتیں فراہم کرنے اور حج کے بہترین انتظامات کرنے کا حق ادا کر دیا... حرم پاک ہو‘ عرفات ہو‘ منیٰ ہو‘ جمرات ہو یا مسجد نبویﷺ... حجاج کرام کے راستے میں کسی رکاوٹ کو حائل نہ ہونے دینا سیکورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔ مکہ و مدینہ میں تشریف لائے حجاج کرام میں ہر رنگ‘ نسل اور خطے کے لوگ موجود تھے... اور اس خاکسار کی مختلف زبانیں بولنے والے متعدد حاجیوں سے جب اس حوالے سے گفتگو ہوئی تو ہر ایک نے حج کے لئے شاندار انتظامات کرنے پر سعودی حکومت کی تعریف کی... اور کہاکہ دنیا کے اس ماحول میں اس سے بہتر اور اچھے انتظامات ہو ہی نہیں سکتے تھے... سعودی عرب اور ایران کے درمیان پگھلتی ہوئی برف مسلمانوں کے لئے اس لئے بھی ... کسی خوشخبری سے کم نہیں کہ اس وقت برما سے لے کر کشمیر تک مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے... مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف میں رنگون سے حج کے لئے تشریف لانے والے ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے میانمار کے مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں سوال کیا تو... بوڑھے پروفیسر کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں... اور انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا کہ ’’صاحب! کچھ نہ پوچھیں... وہاں تو قیامت خیز مناظر ہیں ... وہاں معصوم بچوں کے سر تلواروں اور لمبے لمبے چھروں سے کاٹے جارہے ہیں... اور خواتین سمیت عام لوگوں کو خوفناک تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ اب تو انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برما کے فوجی اہلکاروں نے روہنگیا کے درجنوں مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے ایک بڑی جھونپڑی میں بند کر دیا... اور پھر درجنوں مسلمان قیدیوں سے بھری ہوئی اس جھونپڑی کو آگ لگانے والا کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دی... وہ سارے نوجوان اسی جھونپڑی کے اندر... تڑپ تڑپ کر زندہ جل کر خاک ہوگئے۔ اس بوڑھے پروفیسر نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ ’’ہاشمی صاحب ! امت مسلمہ لاوارث ہوگئی... اس لئے کہ جو ممالک مسلمانوں کی طاقت سمجھے جاتے ہیں... وہ کبھی امریکی اور کبھی چینی اور روسی چھتری تلے جائے پناہ تلاش کرتے ہیں... آپ دیکھ نہیں رہے کہ اقوام متحدہ سمیت... مسلم اور غیر مسلم دنیا میں تقریباً ہر صاحب بصیرت انسان نے روہنگیا کے مسلمانوں کے قتل کی مذمت کی ہے... مگر ان ساری مذمتوں‘ احتجاجی جلسے‘ جلوسوں اور مظاہروں کا روہنگیا کے مسلمانوں کو ذرا برابر بھی فائدہ نہیں پہنچ رہا... برما میں پولیس‘ فوج اور سیکورٹی کے دیگر اداروں کے اہلکار ہزاروں بدھسٹ اس لئے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا خوفناک قتل عام کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ برما کے مسلمان لاوارث ہیں... ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے... ممکن ہے کہ ان کی ہزاروں لاشیں دیکھ کر کچھ مسلمان چند آنسو بہالیں... ممکن ہے کہ روہنگیا کے سینکڑوں معصوم بچوں... ہزاروں ماؤں‘ بہنوں ‘ بیٹیوں کی لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر چند کالم نگار اپنے کالم لکھ دیں... لیکن عملی طور پر برما کے مسلمانوں کی مدد کے لئے کوئی نہیں جائے گا... شاید اسی لئے بدھ مت دہشت گرد اور ان کی ہمنوا فوج مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کئے جارہے ہیں۔ جب اقوام متحدہ اپنی رپورٹ میں خود تسلیم کررہا ہے کہ ... رخائن میں بڑی فوج نے 4لاکھ روہنگائی مسلمانوں کو محصور کر رکھا ہے‘ جن سے ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں خوراک‘ پانی اور ادویات کی قلت کے باعث لوگ موت کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں مسلم امہ کی قیادت کے دعویدار کہاں ہیں؟ رنگون کے (ر) پروفیسر کے کسی سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا... مسجد نبویؐ میں ہی باب السلام کے سامنے دو مسلمانوں سے ملاقات ہوئی... وہ بار بار مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں مگر کہہ نہ پارہے ہوں... جیسے ہی رنگون کے بھائی آگئے بڑھے تو وہ تیزی سے میری طرف آگے معانقے اور مصافحے کے بعد بولے‘ آپ پاکستانی ہیں؟ جی الحمدللہ ‘ میں پاکستانی ہوں... انہوں نے کہا کہ وہ انڈین مسلمان ہیں... اور ان کا تعلق دہلی سے ہے۔ ہندوستان میں ہمارا میڈیا... ہمیں پاکستان کے خراب ہوتے ہوئے حالات کے بارے میں جھوٹی خبریں بتاتا رہتا ہے... گو کہ وہ خبریں جھوٹی ہوتی ہیں... مگر پھر بھی ہم ڈر سے جاتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ کہیں کوئی خبر سچی ہی نہ ہو۔ اس لئے کہ اب ہم ہندوستانی مسلمانوں کی اصل طاقت تو پاکستان ہی ہے... باب السلام کے سامنے بچھے ہوئے مصلوں پر ہم بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک... ایک اور مسلمان بھائی نے صدا لگائی... زم زم پئیں گے؟ اور پھر ہمیں باقاعدہ زم زم پیش بھی کر دیا ... اس بھائی کے لہجے سے لگا کہ وہ بنگالی ہے... وہ واقعی بنگلہ دیش کا عام مسلمان نوجوان تھا... میں نے انڈین مسلمان بھائیوں سے سوال کیا کہ بھارت کے حالات کیسے ہیں؟ بہت خراب... اور مسلمانوں کو مودی حکومت نے تو باقاعدہ دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے... صرف ایک سال میں گائے کے گوشت کے تنازعے اور محض شک و شبے کی بنیاد پر 6سو سے زائد مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا ہے‘ بنگالی نوجوانوں کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں بھی مودی کی ’’روح‘‘ نے اقتدار پر قبضہ جما رکھا ہے... ایسے حالات میں ہم اپنے اپنے ملکوں کے وفادار ضرور ہیں... مگر پاکستان سے بھی ہمیں محبت ہے... ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کسی قسم کے عدم استحکام سے دوچار ہو‘ اچانک بنگال مسلمان نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا کہ آؤ... مل کر دعا کریں کہ اللہ ہندوستان‘ بنگلہ دیش‘ افغانستان کے مسلمانوں کی حفاظت اور پاکستان کو مکمل طور پر استحکام نصیب فرمائے... پاکستان کو مسلم امہ کی طاقت بننے کی توفیق عطا فرمائے... ہندوستانی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت نہ کوئی نکال سکتا ہے اور نہ ہی نکال سکے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved