مسلم اُمہ صلاح الدین ایوبی کی منتظر؟
  12  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیل میانمار کی فوج کو اسلحہ اور تربیت فراہم کررہا ہے۔ صہیونی حکومت نے میانمار کو سرحدی نگرانی کیلئے ٠٠١سے زائد ٹینکس، اسلحہ اور کشتیاں فروخت کرنے کے علاوہ راکھائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی برمی اسپیشل فورسز کو فوجی تربیت فراہم کررہی ہیں۔ اسرائیلی اسلحہ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر تصاویر بھی شائع کی ہیں جس میں اس کا عملہ راکھائن میں آپریشن کرنے والی میانمار کی اسپیشل فورسز کو جنگی تکنیک اور ہتھیاروں کی تربیت فراہم کررہا ہے۔اسرائیل میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے ملکی ہائی کورٹ میں میانمار کو اسلحہ کی فروخت بند کرنے کی پٹیشن دائر کردی ہے جس کی سماعت رواں ماہ ہوگی۔ پٹیشن دائر کرنے والے سماجی کارکن اور وکیل ایٹے میکنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی اسلحہ کمپنیوں کی ویب سائٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ راکھائن ریاست میں سرگرم برمی اسپیشل فورسز کو اسلحہ اور تربیت فراہم کررہی ہیں، اسرائیلی حکام نے میانمار کے دورے کرکے اسلحہ کے سودوں پر بات چیت بھی کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ عدالت کے پاس اسرائیلی حکومت کو اسلحہ بیچنے سے روکنے کا اختیار نہیں اور میانمار کو اسلحے کی فروخت سفارتی معاملہ ہے۔ اسرائیلی سماجی کارکن اوفر نیمین نے کہا کہ اسرائیل اور میانمار کے رشتے کا فلسطین پر قبضے سے بھی تعلق ہے۔ اسرائیلی حکومتیں کئی سال سے میانمار کو اسلحہ بیچ رہی ہیں۔روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کو سامنے والی انسانی حقوق کی کارکن پینی گرین نے کہا کہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی ممالک روہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ملوث ہیں، پچھلے سال برطانیہ نے بھی میانمار کی فوج پر تین لاکھ پاؤنڈز اخراجات کیے اور تربیت فراہم کی۔ مالدیپ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میانمار سے تجارتی تعلقات روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم کے تناظر میں ختم کیے جب کہ مالدیپ نے اقوام متحدہ سے میانمار کی صورتحال کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مالدیپ کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ میانمارمیں مسلمانوں کا قتل عام روکا جائے۔ ادھر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور مسلمانوں کی یہ حالت زار عالمی برداری کے ضمیر کے لیے چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں جب کہ پاکستان کشمیر اور فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں سے تعاون کرتا رہے گا۔خواجہ آصف نے او آئی سی کے فوری اور موثر ایکشن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کی قرار داد کی بھی حمایت کی ہے جب کہ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق میانمارکے مسلم اکثریتی علاقے رخائن میں پرتشددواقعات کے بعدہزاروں روہنگیامسلمان علاقے سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی آئی اوایم کاکہناہے کہ ہفتہ رفتہ میں چھ روزکے اندر٥٤٨٨١ روہنگیا مسلمانوں کاکیمپ میں اندراج کیاگیاہے۔ کیمپ میں آنے والوں میں زیادہ تعدادعورتوں اور بچوں کی ہے۔آئی اوایم کے ترجمان پیپی صادق نے بتایا:ابھی تک ہزاروں افراد سرحد پر موجودہیںجن تک ہماری رسائی نہیں ہے۔دوسری طرف برطانیہ نے غیرانسانی واقعات پربحث کیلئے اقوام متحدہ میں برطانیہ کے مستقل نمائندے ماتھیورک رفٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پراپنے اعلان میں کہاہے کہ ہم میانمارمیں تمام طرفین سے اعتدال سے کام لینے کی اپیل کرتے ہیں۔ ( جاری ہے ) میانمارمیں روہنگیامسلم اقلیت کے ساتھ انسانیت سوزسلوک بتدریج بدسے بدترشکل اختیارکرتاجارہاہے۔دنیاکویہ تسلیم کرنے ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ نسل کشی سے متعلق ٨٤٩١ء کنونشن پرعملدرآمدمیں ناکام ہوچکی ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس کی رابطہ کاررینٹالوک ڈیسالین سے متعلق رواں برس افشاء ہونے والی دستاویزنے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی کہ انسانی حقوق آفس اپنی ذمہ داریوں کے متعلق قریباًمکمل طورپرغیرفعال ہوچکاہے کیونکہ خاتون رابطہ کارنے انسانی حقوق پرمعاشی ترقی کے عمل کوترجیح دی ان کے اپنے عملے نے ان پرالزام لگایاکہ انہوں نے میانمارکی حکومت اورفوجی جنتاکے ساتھ اچھے تعلقات استوارکیے۔روہنگیااوردیگراقلیتوں کے ساتھ مظالم کاایجنڈامکمل طورپرنظراندازکیے رکھا۔ آنک سان سوچی کی وجہ سے جمہوری دورکے آغاز نے امیدپیداکی تھی کہ صورتحال جلدبہترہوجائے گی مگرایسانہیں ہوا۔اقوام متحدہ اورانسانی حقوق آفس خاموشی سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی دیکھتے رہے۔بدترین جبرکے باعث ہزاروں روہنگیااپنی لڑکھڑاتی کشتیوں میں بیٹھ کربنگلہ دیش اورملائشیاکی جانب نقل مکانی کرگئے اورکررہے ہیں جہاں انہیں ویسے ہی حالات کاسامناہے جیسامیانمارمیں ہے۔لگتاہے کہ اقوام متحدہ نے سابق امریکی صدراوبامااسٹرٹیجک تحمل والاڈاکٹرائن اختیارکرلیاہے جس کاسفارتی زبان میں مطلب ہے ''کرناکچھ نہیں ہے''رینٹالوک ڈیسالین سے میانمارمیں انسانی حقوق مشن کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئی ہیں تاہم دیکھنایہ ہے کہ نئے رابطہ کارانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرکس حدتک توجہ دیتے ہیں؟ دنیاکی سب سے بڑی عالمی بین الحکومتی تنظیم نے روہنگیامسلمانوں کے متعلق ابھی تک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیںجبکہ وہ بہترکرداراداکرسکتی تھی۔اب دوسری بڑی عالمی تنظیم اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی)کوذمہ داری نبھانی ہے جس کے وزرائے خارجہ اجلاسوں کے ایجنڈے میں روہنگیامسلمانوں کامعاملہ ہمیشہ سرفہرست رہاہے۔اوآئی سی نے رواں سال بھی روہنگیامسلمانوں کی حالت زارپرغورکرنے کیلئے ملائشیامیں ایک خصوصی اجلاس کااہتمام کیاتھا۔تنازعہ حل کرانے کے معاملے میں اوآئی سی کاریکارڈقابل رشک نہیں کیونکہ تنظیم کے پاس ایسے وسائل نہیںکہ اپنے فیصلوں پرعملدرآمدکراسکے۔اوآئی سی کے اجلاسوں میں منظورکی گئی قراردادوں کامسلم دنیاسے باہرکوئی نوٹس نہیں لیتا۔اکثران قراردادوں کومتاثرہ مسلم آبادی کی تسلی وتشفی کیلئے منظورکیاجاتاہے۔ اس کے باوجوداوآئی سی روہنگیامسلمانوں کیلئے مؤثرکرداراداکرسکتی ہے۔اوآئی سی دنیاکی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے جس کے رکن ممالک کی تعداد٧٥ہے جوکہ چار براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹریوسف مین احمد الغثمین جیسی فعال شخصیت کی قیادت میں اوآئی سی روہنگیامسئلے پرمداخلت کرسکتی ہے جس کیلئے اوآئی سی کودرج ذیل اقدامت کرناہوں گے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اوآئی سی اقوام متحدہ اورمیانمارحکام سے مل کران الزامات کی تحقیقات کرسکتی ہے کہ کچھ شدت پسندمسلح گروہ روہنگیا مسلمانوں کی جدوجہدہائی جیک کرنے کی کوشش میں ہیں،حقائق کے منافی ہونے کے باوجودمیانمارحکومت روہنگیاآبادی کواجتماعی سزا دینے کیلئے ایسے الزامات کوجوازبناکرپیش کرتی ہے تاکہ عالمی برادری اس کی مذموم سرگرمیوں پرچشم پوشی کرتی رہی۔جوصورتحال آج بنی ہوئی ہے اس میں داعش مشرقِ وسطیٰ میں اپنے زیرقبضہ علاقے تیزی سے گنوارہی ہے ۔ان حالات میں اسے نئے علاقوں کی تلاش ہے جہاں بیٹھ کراپنی منفی آئیڈیالوجی کی آبیاری کرسکے۔روہنگیامسلمانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی دوسری وجہ مذہب ہے۔بدھ مت کے فرقے تھیرواڈ کی تعلیمات کی غلط تشریح کے ذریعے سے بعض حلقے روہنگیاآبادی کے خلاف تشددکوہوادے رہے ہیں۔اوآئی سی چونکہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس لئے بین المذاہب ڈائیلاگ کے ذریعے سے اس قسم کے تنازعات حل کرانے میں کرداراداکرسکتی ہے۔ اوآئی سی قائدانہ کرداراداکرنے کیلئے ایسی مسلم شخصیات کوآگے لائے جومیانماربدھ لیڈروں کیلئے قابل قبول ہوں۔آخری کام اوآئی سی یہ کرسکتی ہے کہ ہمسایہ ممالک پرروہنگیاپناہ گزینوں کازیادہ بوجھ نہ پڑنے دے۔بنگلہ دیش،تھائی لینڈاورملائشیااس وقت ہزاروں روہنگیاپناہ گزینوں کابوجھ برداشت کررہے ہیں اوران کاخدشہ ہے کہ ان پناہ گزین کی موجودگی کہیں مستقل نہ ہوجائے۔ان حالات میں اوآئی سی کومنظم عالمی مہم چلانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ ان روہنگیامسلمانوں کاایسامستقل تلاش کیاجائے جس سے آئندہ انہیں ایسی صورتحال کاسامنانہ کرناپڑے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved