آج قائداعظم ہوتے تو…!
  12  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭11 ستمبر کا دن قائداعظم کا یوم وفات، نیویارک میں ورلڈ ٹاورز کی تباہی کا دن اور اس دن 11 ستمبر 1948ء کو قائداعظم کی رحلت کی خبر سنتے ہی بھارت کی حکومت نے پولیس ایکشن کے ذریعے حیدرآباد دکن پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ تینوں موضوعات بہت اہم ہیں۔ قائداعظم کی شخصیت اور کردار پر سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ میں نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ کیسی شخصیت تھی کہ کابینہ کے اجلاس میں صرف پانی پینے کی اجازت تھی، سرکاری خرچ پر چائے نہیں دی جا سکتی تھی۔ اس شخصیت کے جانے پر چھوٹے چھوٹے بونے کیسے دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی جاگیردار اور ملک کے حاکم بن بیٹھے۔ راتوں رات ملک کے اندر اور باہر اربوں کھربوں کے اثاثے بنا لئے! قائداعظم زندہ ہوتے تو یہ لوگ چھوٹی چھوٹی دکانوں میں سودا بیچ رہے ہوتے! اور کیا لکھوں؟ ٭مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔ سپریم کورٹ اور نیب کی طرف سے آنے والی مصیبتیںہی کیا کم تھیں کہ لاہور ہائی کورٹ نے شریف خاندان کی دو شوگر ملوں کو وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب میں منتقل کرنے کی کارروائی غیر قانونی قرار دے دی۔ یہ ملیں منتقل کرنے کی ابتدائی کارروائی پر ہی مختلف سیاسی و کاروباری حلقوں نے قانونی اعتراضات کئے تھے مگر ملک کے سیاسی جاگیر دار حکمران مالکوں نے کوئی پروانہ کی۔ اب ہائی کورٹ نے اس منتقلی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اسے کہتے ہیں ''مرے کو مارے شاہ مدار!'' پتہ نہیں ابھی کتنی اورمصیبتیں چھپی پڑی ہیں! ٭میں غم زدہ دل کے ساتھ ایک بڑی بہت بڑی شخصیت کا ذکر کر رہا ہوں جو جتنی بڑی تھی اتنی ہی خاموشی کے ساتھ 87 سال کی عمر میں ایسی منزل کی طرف روانہ ہو گئی جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا۔ دُنیا بھر میں سب سے پہلے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے مکہ معظمہ میں کعبة اللہ اور پھر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی اور روضہ رسول کریمۖ کی تصویریں بنانے والے درویش صفت عاشق رسولۖ عظمت شیخ!! سعودی عربی میں مٹی کھود کر مزدوری کرنے والا نوجوان عظمت شیخ جو پاکستان سے 13 روپے کا ایک معمولی کیمراخرید کر سعودی عرب گیا، کعبة اللہ کے دروازے کی تصویر اتارتا ہوا پکڑا گیا، اس کا کیمرا چھین لیا گیا، فلم ضائع کر دی گئی کہ ان دنوں کعبہ اور رسوہ رسولۖ کی تصویریں اتارنا جُرم تھا۔ مگر شوق اور لگن ایک روز اس انداز میں رنگ لائی کہ سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل کے حکم پر اسے سرکاری ہیلی کاپٹر میں حرمین شریفین کی تصویر بنانے کی اجازت دی گئی اور پھر 1967ء میں پہلی بار کعبة اللہ کی ایسی تصاویر سامنے آئیں کہ پہلی تصویر ہی دنیا بھر کے مسلمانوں میں کروڑوں کی تعداد میں پھیل گئی! تہجد گزار پانچ وقت کے نمازی عظمت شیخ کی زندگی کی یہ روح پرور داستان بہت ولولہ انگیز مگر دلگداز بھی ہے۔ اس پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ جلال پور سے تعلق رکھنے والی اس بزرگ شخصیت سے میری کوئی 30 برس پہلے ملاقات ہوئی۔ اس وقت خاصے صحت مند اور ہشاش بشاش تھے۔ گلبرگ لاہور میں غالب مارکیٹ کے ساتھ کوٹھی بنوائی تھی۔ صحافی دوستوں کو بلا کر پرتکلف ضیافتیں دیا کرتے۔ غالب مارکیٹ کے ساتھ واقع جامع مسجد کے سارے اخراجات کے علاوہ غریب افراد کے مفت علاج والے حجاز ہسپتال کے اخراجات میں بھی بھرپور حصہ ڈالتے۔ نوجوانی سے ہی تصویریں اتارنے کا شوق تھا۔ ایک معمولی کیمرہ خرید رکھا تھا۔ اپنے آبائی بستی میں ایک چھوٹی سی دکان کھول رکھی تھی۔ ایک رات چوری ہو گئی۔ چور دکان کی ہر چیز چرا کر لے گئے۔ سخت غریبی کا سامنا تھا۔ سعودی عرب کی ایک تعمیراتی کمپنی کا مزدوروں کی بھرتی کا اشتہار آیا یہ 13 روپے کا ایک کیمرہ لے کر مزدور بھرتی ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ کمپنی نے ایک عمارت کے لئے زمین کھودنے پر لگا دیا۔ اس وقت تک دنیا بھر میں خانہ کعبہ کی باقاعدہ اور باضابطہ تصاویر سامنے نہیں آئی تھیں۔ تصویریں اتارنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ ایک روز کیمرہ اٹھا کر خانہ کعبہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ابھی باہر کے دروازے کی تصویر بنائی تھی کہ شُرطہ (سپاہی) پکڑ کر عدالت میں لے گیا۔ قاضی نے فلم سمیت کیمرہ ضبط کر لیا، پھر کیمرہ واپس کر دیا۔ خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک بے حد دولت مند عربی شیخ نے اپنی تصویر بنوانے کے لئے بلوایا۔ بھاری معاوضہ ملا۔ پاکستان واپس آئے۔ یہاں وزیراطلاعات سے واقفیت تھی۔ انہوں نے سعودی وزیر اطلاعات سے انہیں خانہ کعبہ کی تصویریں بنانے کی اجازت کی سفارش کی۔ یہ اجازت صرف شاہ فیصل دے سکتے تھے۔ یہ اجازت کیسے ملی، یہ الگ داستان ہے۔ پھر سعودی حکومت کے ہی ہیلی کاپٹر پر خانہ کعبہ اور اس کے بعد روضہ رسولۖ کی جو تصویریں بنائیں ان کی دنیا بھر میں دھوم مچ گئی۔ خانہ کعبہ اور روضہ رسولۖ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی اور نبی کریمۖ سے والہانہ محبت کی یہ داستان بہت دلچسپ مگر دل گداز بھی ہے۔ اکثر رُلا دیتی ہے۔ عظمت شیخ اپنی بے پناہ درویشی، عبادت اور عشق رسولۖ کی انتہا سے ایک ولی کا درجہ حاصل کر چکے تھے۔ 32 سال قبل دل کا عارضہ لاحق ہوا مگر زندگی ساتھ دیتی چلی گئی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے ملاقات کے لئے فون کیا۔ بڑی نحیف آواز آئی کہ آپ نہ آئیں۔ میں اندر کمرے میں بستر پر اکیلا پڑا ہوں۔ بہت علیل ہوں، چل پھر نہیں سکتا۔ ٹیلی فون پر بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک عزیز کے پاس گھر کی چابی ہے۔ وہی اندر آ سکتا ہے۔ آپ فون کرنے کی زحمت بھی نہ کریں، شائد نہ سن سکوں۔ بس میرے لئے دُعا کریں! میں دوبارہ فون بھی نہ کر سکا۔ انہوں نے دُعا کے لئے کہا تھا ، آج ان کی مغفرت اور ہمیشہ کی آسودگی کی دُعا کر رہا ہوں!

٭اور اب وہی روزمرہ کی باتیں۔ سب سے پہلے ایک خیال انگیز خبر: پنجاب یونیورسٹی کے بی اے اور بی ایس سی کے حیرت انگیز اور سبق آموز نتائج! دونوں امتحانات میں تمام اعلیٰ پوزیشنیں طالبات لے گئیں۔ ان تمام طالبات کا تعلق دور دراز پسماندہ علاقوں سے ہے۔ خاص بات کہ لاہور کے کسی سرکاری کالج کو کوئی پوزیشن نہ مل سکی مزید اہم ترین بات کہ بی اے کے امتحان میں تینوں اعلیٰ پوزیشنیں حاصل کرنے والی تینوں طالبات اپنی مالی مجبوریوں کے باعث کسی کالج میں نہ پڑھ سکیں، گھروں میں بیٹھ کر پڑھائی کی اور پرائیویٹ امتحان دے کر ہزاروں طلبا و طالبات کو مات کر دیا۔ شاباش! زندہ باد! ان بچیوں کے نام پڑھئے: بی ایس سی کے امتحان میں صدف زاہد 681 نمبر اول، گورنمنٹ کالج جھنگ کی ملیحہ انور اور گورنمنٹ کالج جہلم کی انیلا یاسمین دونوں 673 نمبر لے کر دوم اور فیصل آباد کی عاصمہ لطیف 668 نمبر لے کر سوم آئیں۔ بی اے کے نتائج خاص طور پر قابل دکر ہیں قصور کی نگین فاطمہ 681 نمبر لے کر اول، حافظ آباد کی عاصمہ افضل 657 نمبروں کے ساتھ دوم اوار شیخوپورہ کی مقدس افضل 651 نمبر لے کر سوم رہیں۔ ایک بچی کا والد نچلے درجے کا سرکاری ملازم، دو بچیوں کے والد مکینک ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنے ہاتھوں سے اول، دوم اور سوم بچیوں کو ایک لاکھ 75 ہزار اور 50 ہزار روپے کے انعامات دیئے۔ یہ اچھی بات ہے۔ میں تمام محترم قارئین کی طرف سے ان تمام بچیوں کو بے حد مبارکباد دیتا ہوں۔ البتہ ایسے ہی خیال آ گیا ہے کہ یہ اور ان جیسی دوسری بچیاں اور بچے کتنی ہی اعلیٰ پوزیشنیں لے جائیں، کبھی کسی اسمبلی میں داخل نہیں ہو سکیں گے جہاں مونس الٰہی، بلاول زرداری، حمزہ شہباز اور حسین نواز و حسن نواز جیسے حکمرانوں کے شہزادوں کے سوا کوئی عام شخص داخل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ٭کراچی میں بہت بڑے جدید ہسپتال کے مالک ڈاکٹر عاصم حسین اپنا علاج کرانے لندن چلے گئے! کسی تبصرہ کی ضرورت ہے؟ لاہور میں شریف خاندان کے بھی تو بڑے بڑے ہسپتال میں، وہ بھی تو ''علاج'' کے لئے لندن جاتے ہیں!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved