مسلم اُمہ صلاح الدین ایوبی کی منتظر؟
  13  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) میانمارمیں روہنگیامسلم اقلیت کے ساتھ انسانیت سوزسلوک بتدریج بدسے بدترشکل اختیارکرتاجارہا ہے۔ دنیاکویہ تسلیم کرنے ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ نسل کشی سے متعلق ٨٤٩١ء کنونشن پرعملدرآمدمیں ناکام ہوچکی ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس کی رابطہ کاررینٹالوک ڈیسالین سے متعلق رواں برس افشاء ہونے والی دستاویزنے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی کہ انسانی حقوق آفس اپنی ذمہ داریوں کے متعلق قریباًمکمل طورپرغیرفعال ہوچکاہے کیونکہ خاتون رابطہ کارنے انسانی حقوق پرمعاشی ترقی کے عمل کوترجیح دی ان کے اپنے عملے نے ان پرالزام لگایاکہ انہوں نے میانمارکی حکومت اورفوجی جنتاکے ساتھ اچھے تعلقات استوارکیے۔روہنگیااوردیگراقلیتوں کے ساتھ مظالم کاایجنڈامکمل طورپرنظراندازکیے رکھا۔ آنک سان سوچی کی وجہ سے جمہوری دورکے آغاز نے امیدپیداکی تھی کہ صورتحال جلدبہترہوجائے گی مگرایسانہیں ہوا۔اقوام متحدہ اورانسانی حقوق آفس خاموشی سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی دیکھتے رہے۔بدترین جبرکے باعث ہزاروں روہنگیااپنی لڑکھڑاتی کشتیوں میں بیٹھ کربنگلہ دیش اورملائشیاکی جانب نقل مکانی کرگئے اورکررہے ہیں جہاں انہیں ویسے ہی حالات کاسامناہے جیسامیانمارمیں ہے۔ لگتاہے کہ اقوام متحدہ نے سابق امریکی صدراوباما اسٹرٹیجک تحمل والاڈاکٹرائن اختیارکرلیاہے جس کا سفارتی زبان میں مطلب ہے ''کرناکچھ نہیں ہے'' رینٹالوک ڈیسالین سے میانمارمیں انسانی حقوق مشن کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئی ہیں تاہم دیکھنایہ ہے کہ نئے رابطہ کارانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرکس حدتک توجہ دیتے ہیں؟ دنیاکی سب سے بڑی عالمی بین الحکومتی تنظیم نے روہنگیامسلمانوں کے متعلق ابھی تک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیںجبکہ وہ بہترکرداراداکرسکتی تھی۔اب دوسری بڑی عالمی تنظیم اسلامی تعاون تنظیم(اوآئی سی)کوذمہ داری نبھانی ہے جس کے وزرائے خارجہ اجلاسوں کے ایجنڈے میں روہنگیامسلمانوں کامعاملہ ہمیشہ سرفہرست رہاہے۔اوآئی سی نے رواں سال بھی روہنگیامسلمانوں کی حالت زارپرغورکرنے کیلئے ملائشیامیں ایک خصوصی اجلاس کااہتمام کیاتھا۔تنازعہ حل کرانے کے معاملے میں اوآئی سی کاریکارڈقابل رشک نہیں کیونکہ تنظیم کے پاس ایسے وسائل نہیںکہ اپنے فیصلوں پرعملدرآمدکراسکے۔اوآئی سی کے اجلاسوں میں منظورکی گئی قراردادوں کامسلم دنیاسے باہرکوئی نوٹس نہیں لیتا۔اکثران قراردادوں کومتاثرہ مسلم آبادی کی تسلی وتشفی کیلئے منظورکیاجاتاہے۔ اس کے باوجوداوآئی سی روہنگیامسلمانوں کیلئے مؤثرکرداراداکرسکتی ہے۔اوآئی سی دنیاکی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے جس کے رکن ممالک کی تعداد٧٥ہے جوکہ چار براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹریوسف مین احمد الغثمین جیسی فعال شخصیت کی قیادت میں اوآئی سی روہنگیامسئلے پرمداخلت کرسکتی ہے جس کیلئے اوآئی سی کودرج ذیل اقدامت کرناہوں گے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اوآئی سی اقوام متحدہ اورمیانمارحکام سے مل کران الزامات کی تحقیقات کرسکتی ہے کہ کچھ شدت پسندمسلح گروہ روہنگیا مسلمانوں کی جدوجہدہائی جیک کرنے کی کوشش میں ہیں،حقائق کے منافی ہونے کے باوجودمیانمارحکومت روہنگیاآبادی کواجتماعی سزا دینے کیلئے ایسے الزامات کوجوازبناکرپیش کرتی ہے تاکہ عالمی برادری اس کی مذموم سرگرمیوں پرچشم پوشی کرتی رہی۔جوصورتحال آج بنی ہوئی ہے اس میں داعش مشرقِ وسطیٰ میں اپنے زیرقبضہ علاقے تیزی سے گنوارہی ہے ۔ان حالات میں اسے نئے علاقوں کی تلاش ہے جہاں بیٹھ کراپنی منفی آئیڈیالوجی کی آبیاری کرسکے۔روہنگیامسلمانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی دوسری وجہ مذہب ہے۔بدھ مت کے فرقے تھیرواڈ کی تعلیمات کی غلط تشریح کے ذریعے سے بعض حلقے روہنگیاآبادی کے خلاف تشددکوہوادے رہے ہیں۔اوآئی سی چونکہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس لئے بین المذاہب ڈائیلاگ کے ذریعے سے اس قسم کے تنازعات حل کرانے میں کرداراداکرسکتی ہے۔ اوآئی سی قائدانہ کرداراداکرنے کیلئے ایسی مسلم شخصیات کوآگے لائے جومیانماربدھ لیڈروں کیلئے قابل قبول ہوں۔آخری کام اوآئی سی یہ کرسکتی ہے کہ ہمسایہ ممالک پرروہنگیاپناہ گزینوں کازیادہ بوجھ نہ پڑنے دے۔بنگلہ دیش،تھائی لینڈاورملائشیااس وقت ہزاروں روہنگیاپناہ گزینوں کابوجھ برداشت کررہے ہیں اوران کاخدشہ ہے کہ ان پناہ گزین کی موجودگی کہیں مستقل نہ ہوجائے۔ان حالات میں اوآئی سی کومنظم عالمی مہم چلانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ ان روہنگیامسلمانوں کاایسامستقل تلاش کیاجائے جس سے آئندہ انہیں ایسی صورتحال کاسامنانہ کرناپڑے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved