ٹرمپ کی دھمکی پر قوم کا خوش آئند رد عمل
  13  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس ہفتے کا اہم ترین واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کا اعلان ہے جس کے ذریعہ پاکستان کو وارننگ دی گئی ہے۔امریکی صدر کے پالیسی بیان پر فور ی طور پر جو بات سامنے آئی وہ یہ کہ وقت کافرعون جس کا کوئی اصول نہیں، چاہتا ہے کہ اس کی بات تسلیم کی جائے۔ وہ کسی دوسرے اصول و قواعد کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔نہتے اور بے آسرا طالبان افغانستان پر ہر طرف سے بندش ہے ، پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں ۔

وہ آغاز میں صرف چند ہزار تھے ۔اب وہاں ان کی حمایت بڑھ رہی ہے ۔ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔16سال سے امریکہ نیٹو فورسز کے ساتھ انہیں ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ٹرمپ کے بیان سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ پاگل پن کا شکار ہوچکا ہے۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے۔لہٰذا سار ا غصہ پاکستان پر نکالا جارہا ہے۔پنجابی کا محاورہ ہے کہ ڈگیا کھوتے تو غصہ کمہار تے ۔حقیقت یہ ہے۔چنانچہ افغاں جنگ کے حوالے سے انہوں نے جس پالیسی کا اعلان کیا ہے ا س کے نکات یہ ہیں کہ اب فوج میں اضافہ کیا جائے گا۔ امریکی کمانڈروں کو کلی طور پر خود مختار بنادیا جائے گا۔ جنگ کے حوالے سے بھی کچھ ethicsہوتی ہیں جو دنیا میں معروف ہیںلیکن وہ اپنے آپ کو کسی اصول کا پابند نہیں سمجھتے۔انہیں مکمل اختیار ہے کہ جو چاہیں، جس طرح چاہیں ،کریں۔جب جنگی کمانڈروں کو کلی طور پر خودمختار بنایا جائے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کسی جنگی ethicsکی کوئی پرواہ نہیں۔سیاسی مذاکرات کی کوشش بھی جاری رہے گی اور پاکستان کو یہ کام کرنا ہوگا۔سارا دبائو پاکستان پر ہے۔ملا عمر امریکیوں سے یہی توکہتے تھے کہ آپ افغانستان سے باہر نکلیں گے تو ہم آپ کے ساتھ گفتگو کریں گے۔اس وقت ہمارے ملک پر آپ کاناجائز قبضہ ہے۔اب تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ٹوئن ٹاورز کس نے گرائے تھے۔اس میں رتی بھر شبہ بھی باقی نہیں رہ گیا۔افغانستان پر بہانہ تو اسی حادثے کو بنایا گیا تھا۔لیکن بے شرمی اور بے اصولی کی انتہا ہے۔چنانچہ غصہ اب پاکستان پر نکلا جارہا ہے۔ پاکستان کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا ۔سیاسی مذاکرات کے لئے بھی اسے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا ۔اب کسی کا بھی ان کے ساتھ تعاون نہیں چلے گا۔بھارت کو افغانستان میںزیادہ کردار دیا جائے گا۔ یہ بات پاکستان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ہم نے کتنی قربانیاں دی ہیں اس کے اصل اعداد وشمار آپ کے سامنے لائے نہیں جاتے۔ان سب قربانیوں پر پانی پھیر کر اب وہاں کردار بھارت کو دیا جائے گا۔آخری نکتہ ان کا یہ ہے اب جیت اور صرف جیت ہی ان کا ہدف ہے۔National buildingسے کوئی تعلق نہیں۔گویا کہ اس نے اپنے چہرے سے منافقت کا پردہ ہٹا دیا ہے۔ان کی منافقت ان کے اس دعوے پر مبنی تھی کہ ہم وہاں جو کچھ کررہے ہیں وہ وہاں کے عوام کی بہتری کے لئے کررہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ انہیں جمہوریت میسر ہو ۔ہم یہ سارے کام افغانستان کے مفادات کے لئے کررہے ہیں۔اس منافقت کا پردہ خود انہوں نے چاک کردیا ہے۔افغانیوں کا تو کوئی قصور ہی نہیں تھا ۔اب تو سارا ڈرامہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔یہ فرعونیت کی انتہا ہے۔ایک اعتبار سے یہ بڑی خوش آئند بات ہوگئی ہے کہ وہ بالکل کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔علامہ اقبال کے اس مصرعے کے مصداق کہ مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے ،جب اس فرعونیت پر مبنی کھلی دھمکی کا اظہار کیا گیاتو اس کا نتیجہ پوری قوم کے متفقہ ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ۔تمام دینی اور سیکولرتفاق کی صورت میں اس شر سے خیر برآمد ہوا ہے۔پوری قوم ایک صفحے پر آچکی ہے۔سینیٹ کے چیئر مین نے اپنے ردعمل کی صورت میںخوب بیان جاری کیا ہے کہ اب امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کا قبرستان بنے تو ہماری طرف سے خوش آمدید ہے۔ فی الحال امریکیوں کا قبرستان تو افغان بنا ہوا ہے۔خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ چین کا ردعمل بھی پاکستان کے حق میں آیا ہے۔چین سے تو اسی کی توقع تھی۔روس کا ردعمل بھی طالبان افغانستان اور ہمارے حق میںآگیا ہے۔اس نے کہا کہ پاکستان کی شرکت کے بغیر پاکستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔یہ ساری باتیں خوش آئند سہی لیکن ہمیں ایک بات مسلمان کی حیثیت سے نہیں بھولنی چاہئے کہ مدد تو صرف اللہ کی طرف سے ہے۔اپنی مدد کے لئے اس نے کچھ اصول وضع کردئیے ہیں۔اللہ کی مدد تو اسی وقت آئے گی جب ہم اللہ کی مدد کریں گے۔ا س زمین پر انسانوں نے اپنی حاکمیت کا سکہ جمایا ہوا ہے ۔اللہ نے ہمیں یہ ہدف دیا ہوا ہے کہ ہم زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کریں۔یہی ہماری طرف سے اللہ کی مدد ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کی حاکمیت کا آغاز ہم اپنے ملک سے کریں۔جب ہم اس طرح اللہ کی مدد کریں گے تو اللہ ہماری مدد کرے گا۔اگر ہم نے ایسا نہیں کیا توا للہ کی طرف سے ہمیں واننگ ہے کہ اگر تم نے اللہ کے دین سے بے وفائی کی ،جیسا کہ ہم پچھلے ستر سال سے اپنے قول و عمل کے ذریعے کررہے ہیں، تو اللہ دیکھے گا کہ کون اس کے سوا تمہاری مدد کرسکتا ہے۔روس اور چین سمیت دنیا کی کوئی طاقت تمہارے کام آئے گی۔یہ قرآن کاپیغام ہے۔اللہ ذرائع بھی پیدا فرمادیتا ہے لیکن اصل قوت اس کے ہاتھ میں ہے ۔اللہ کی طرف سے یقینی مدد تب ہی آئے گی جب ہم اللہ کے دین کے مددگار بن جائیں۔اس ملک میں اللہ کے دین کو قائم کریں ۔اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو بھی اور جو بھی سربرآوردہ لوگ ملکی معاملات میںاثر و رسوخ رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر عوام کو اس انداز میں سوچنے اور آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved