انسانیت کے ایک خادم سے ملاقات
  13  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میدان عرفات سے نکلنے کے بعد ہمارا 50 رکنی وفد منیٰ پہنچا تو وفد کے معزز اراکین نے مقررہ جگہ پر اپنا سامان رکھنے کے بعد … باجماعت نماز ادا کی … چونکہ رات کا کافی حصہ بیت چکا تھا اس لئے سب نے کچھ دیر کے لئے آرام کو ترجیح دی … اذان تہجد کے بعد سب اٹھے… تہجد اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دیگر معمولات میں لگ گئے … اب شیطان کو7 کنکریاں مارنے کا مرحلہ درپیش تھا ' وفد کے بعض معزز اراکین کا خیال تھا کہ سورج طلوع ہونے سے قبل ہی کنکریاں مار لی جائیں تاکہ گرمی کی شدت وحدت سے بچاجاسکے اس خاکسار کے دائیں دربار حضرت سلطان باہو کے سجادہ نشین صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن سروری قادری اور بائیں اوصاف کے سینئر رپورٹر برادر عزیز عمر فاروق تھے' ہم نے آپس میں مشاورت کی تو … پیر سلطان فیاض الحسن کا خیال تھا کہ کنکریاں سورج نکلنے کے بعد ماری جائیں … گرمی کی شدت میں اضافے کی پرواہ نہ کی جائے' ہم تینوں اس پر متفق ہوئے … تو ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبد الغفور حیدری کے پرسنل سیکرٹری نور احمد کاکڑ نے آواز لگاکر پوچھا کہ ہاشمی صاحب ! شیطان کو کنکریاں مارنے کی ترتیب کیا ہوگی؟ میں نے انہیں فیصلے کے متعلق آگاہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ مفتی ادریس بیٹھے ہوئے ہیں … میں ان سے بھی پوچھ لیتا ہوں … مولانا عبد الخبیر آزاد ' مولانا اسرائیل گڑنگی' مولانا عتیق الرحمن شاہ' مولانا محمد شفیع قاسمی ' مولانا گل نصیب کے علاوہ وفد میں شریک دیگر … علماء و مشائخ کے ناموں سے تو ہم آگاہ تھے ان سے تعارف بھی خوب تھا … مگر یہ اچانک مفتی ادریس کہاں سے در آئے؟ میرا یہ سوال سن کر بھائی عمر فاروق نے جواب دیا ممکن ہے کہ ہم انہیں نہ جانتے ہوں … ابھی یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک بزرگ میرے پاس آئے … اور انتہائی محبت سے پوچھا کہ آپ اوصاف والے نوید مسعود ہاشمی ہیں ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو انہوںنے مسکراتے ہوئے کہا کہ مجھے ''ادریس'' کہتے ہیں … میں اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ کا خادم ہوں … اللہ اکبر … اس خاکسار کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور پھر ہم محبت سے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ' انسانیت کی خدمت کا عظیم ادارہ ہے ' جس کے فلاحی کام پاکستان کے چاروں صوبوں سے لے کر … دنیا کے کئی دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں … جس کے تحت ہزاروں یتیم بچوں' ہزاروں لاوارث نابینا بچوں' ہزاروں لاوارث بیوگان کی کفالت و اعانت کا فریضہ سرانجام دیا جارہا ہے … اس کے چیئرمین محمد ادریس سے منیٰ کے عزت والے مقام پر ہونے والی ملاقات سے صرف مجھے ہی نہیں بلکہ حضرت پیر سلطان فیاض الحسن اور دیگر احباب کو بھی بڑی خوشی ہوئی ' مجھے مرحوم عبد الستار ایدھی کے جذبہ خدمت خلق نے بہت زیادہ متاثر کیا … میں نے ایدھی صاحب کو بھی کراچی صدر میں … کبھی شارع قائدین پر' اور کبھی جوڑیا بازار میں جھولی پھیلا کر … یتیموں' مسکینوں اور لاوارثوںکے لئے بھیک مانگتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا … ممتاز سماجی کارکن محمد رمضان چھیپا سے بھی ان کے جذبہ خدمت خلق کی وجہ سے ایک ذاتی سا تعلق بن چکا ہے' مگر اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین کے ساتھ تو مکہ و مدینہ کا سفر تھا … اوریہ مبارک سفر اس لحاظ سے بھی وسیلہ ظفر بنا کہ انسانیت کی خدمت کی ' تڑپ میں پھڑکنے والوں کے نظریات و خیالات سے استفادہ حاصل کرنے کا پورا پورا موقع ملا۔ انہیں عبادت کے علاوہ نہ کسی دوسری چیز میں دلچسپی تھی… اور نہ ہی طمع و حرص … وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں انسانیت کی خدمت کا … بڑھ چڑھ کر کام کررہے تھے … مگر چہرے پر عاجزی و انکساری … طبیعت بالکل مٹی ہوئی … نہ تکبر' نہ غرور' نہ شخصیت سے بڑے پن کا اظہار … ان کا کہنا تھا … محمد ادریس کچھ نہیں … فقط اللہ کا ایک عاجز اور گناہ گار بندہ … بس اللہ نے سسکتی ہوئی انسانیت کی خدمت پر لگا دیا… کیونکہ آقاء مولیٰ ۖ کا فرمان ہے کہ … جو مسلمان بھی دوسروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرتاہے تو اس پر آسمانوں سے رحمتو ں اور برکتوں کی بارشیں برستی ہیں ۔ فقرائ' مساکین' مسافروں' محتاجوں کی معاونت اور بھلائی کے لئے ادائیگی زکوٰة کے فریضے کو اسلام کے ایک ستون کی حیثیت حاصل ہے اور اس رکن اسلام کا مقام و مقصد بھی خود سرکار مدینہۖ نے بیان فرما دیا ہے … کہ ''اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ زکوٰة فرض کیا ہے … جو ان کے اغنیاء سے لے کر ان کے فقراء کو دیا جائے گا… بخاری شریف کی یہ مبارک حدیث سنانے کے بعد یوں گویا ہوئے … ہاشمی صاحب! میں نے پاکستان یا صرف مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ متعدد غیر مسلم ممالک میں بھی جاکر … انسانیت کو سسکتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے … بھوک کی شدت مسلم اور غیر مسلم دونوں کو یکساں طور پر محسوس ہوتی ہے … خدمت خلق یا انسانیت کی خدمت کا جذبہ … کوئی آرٹ نہیں بلکہ عبادت ہے' ہمیں رنگ ' نسل ' مذہب' مسلک سے بالاتر ہوکر سسکتے ہوئے انسانوں کو ریلیف پہنچانا ہے۔

ہم چند دوستوں نے بیرون ملک بیٹھ کر حقوق العباد کی ادائیگی 'دوسروں سے ہمدردی و غم خواری' مظلوموں' مجبوروں' بے بسوں' بے کسوں اور محروموں کی دادرسی کے لئے اُمہ ویلفیئر کی بنیاد رکھی تھی … پھر2005 ء کا زلزلہ ہو یا 2009-10 ء کے خوفناک سیلاب کی تباہ کاریاں' سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لاکھوں بے گھر آئی ڈی پیز کی بحالی ہو یا قبائلی علاقوں کے بے شمار پناہ گزینوں سے مالی تعاون … ہزاروں یتیموں' بیوائوں' معذوروں اور نادار افراد کی کفالت ہو یا قرآن مجید کی آسان اشاعت و تعلیم کا مقدس شعبہ' مساجد کی تعمیر کا مبارک عمل ہو ' مستحق اساتذہ کرام کی معاونت ہو 'حتیٰ کہ نو مسلموں کی مالی امداد ہو یا یتیم افراد کی بہترین تعلیم و تربیت کے لئے معیاری درسگاہوں کا قیام' رمضان فوڈ پیکیج ہو یا سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں قربانی' صاف پانی کی فراہمی کے لئے کنویں کھودنا ہوں یا بے سہارا مریضوں کا مفت علاج و معالجہ … الحمد للہ اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ یہ ساری خدمات بحسن و خوبی سرانجام دے رہا ہے … مسجد نبوی شریف کے صحن میں بیٹھے وہ مجھے سمجھا رہے تھے کہ انسانوں کو نفرت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہے ' پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آئیں ریاض الجنتہ میں نوافل اداکرنے کے بعد … پروردگار سے وعدہ کریں کہ ہم بلاتخصیص انسانیت کی خدمت کرتے رہیں گے۔ (انشاء اللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved