سارے ریفرنس واپس !
  13  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭وہی ہوا جس کا خدشہ اور امکان تھا کہ نیب نے جان بوجھ کر شریف خاندان کے بارے میں غلطیوں اور نقائص سے بھرے چار ریفرنس دائرکیے۔ احتساب عدالت کی ریفرنسوں کی ابتدائی سکروٹنی سے ہی انداز ہوگیا کہ ان ریفرنسوں پر کوئی موثر کارروائی نہیں ہوسکتی، یہ پہلی یا دوسری پیشی پرختم ہو جاتے! یہ چاروںریفرنس غلطیاں درست کرنے کے لیے نیب کو واپس کردیئے گئے ہیں۔ نیب کے موجودہ چیئرمین دواکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جاتے جاتے کوئی کام تو دکھاناتھا! عدالت میں ریفرنسوں کی ابتدائی سماعت ہی شروع نہ ہوسکی! ٭بدھ مت کے سب سے بڑے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے بھی میانمر میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی مذمت کر دی۔ ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانوں پر اس قسم کے ظلم کا بدھ مت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، گوتم بدھ زندہ ہوتے تو میانمر کے مسلمانوں کی مدد کرتے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس ظلم وتشدد کی مذمت کی ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے میانمر کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر تشدد بند کیاجائے۔ سعودی عرب کی طرف سے بھی مذمت کا گول مول بیان آیا ہے۔ عملی طورپر کوئی اقدام نہیں کیاگیا۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ سعود ی عرب کئی برسوں سے انڈیا میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی دیکھ بھال میں مدد دے رہاہے۔ ایران کی طرف سے بھی مذمت آگئی ہے اور بس ! کسی عرب ملک کا کوئی ایسا بیان نہیں آیا ۔ ستم یہ ہے کہ 39 اسلامی ممالک کی 'اتحادی فوج' خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔ کوئی بیان تک نہیں آیا!! ٭ بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ نے کہاہے کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کی فوج مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فائرنگ اور گولہ باری کر رہی ہے۔ اس کے باعث مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقوں میں پانچ ہزار افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔ راج ناتھ نے دھمکی دی ہے کہ آئندہ پاکستان فوج کی ایک گولی کے جواب میں بھارتی فوج کو لاتعداد گولیوں برسانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ٭سب کچھ یونہی ہوا جیساہوناچاہئے تھا ۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں کئی منزلہ عمارت 'عوامی مرکز 'مکمل طورپر جل گئی۔ اس میں موجود ٹیکس وغیرہ کا بھاری ریکارڈ جل کر خاک ہوگیا۔ اس واقعہ کا یہ خاص پہلو خاص طورپر نمایاں ہواکہ کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایاگیا اوردو گھنٹے تک اس کی راکھ کے ملبہ کو ٹھنڈا کیاگیا مگر ''ٹھنڈی'' ہونے کے باوجود آگ پھر بھڑک اٹھی اور باقی ماندہ اشیا کو بھی راکھ کا ڈھیر بنانے کے بعد خود ہی بجھ گئی کہ اب کوئی جلنے والی چیز باقی نہیں رہی تھی۔ اس آگ سے عمارت کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں ۔ اب یہ قابل استعمال نہیں رہی۔ ضمنی بات یہ کہ عمارت کے اندر نصب آگ بجھانے والے تمام آلات ناکارہ تھے بلکہ باہر آنے والے فائربریگیڈ کے بیشتر آلات بھی ناکارہ تھے۔ جیسا میں نے پہلے کہاہے کہ یہ سب کچھ ایسا ہی ہواہے جیسا ہوناچاہئے تھا، اس لئے مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔اس کی وجہ بہت سادہ سی ہے کہ عوامی مرکز میں بہت سے نادہند بڑے بڑے مگر مچھوں کا نادہندگی کاریکارڈ جمع تھا۔ ان مگرمچھوں کی سرپرستی اوپر بیٹھے بڑے بڑے خونخوار چمگادڑکررہے تھے۔ ان ٹھگوں اور لیٹروں کا مفاد اسی میں پوشیدہ تھا کہ نادہندگی اور کرپشن کا ساراریکارڈ جلا دیاجائے اور آگ ایک بار بجھ جائے تو اسے دوبارہ بھڑکا دیا جائے! اور… اور انتہائی ستم ظریفی کہ اسلام آباد کا ایک ڈپٹی کمشنر اس انتہائی ہولناک آتش زدگی کی تحقیقات کے لیے تین چھوٹے چھوٹے اہلکاروں پرمشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنادیتا ہے !! کن لوگوں کو بچانامقصود تھا؟ کوئی خدا کا خوف !قوم کے ساتھ زیادتی کا کوئی احساس! اس ستم ظریفی پر وزارت صنعت بھی چیخ پڑی کہ یہ کیا ہورہاہے! اس ''ماتم یک شہر آرزو' ' پر کیا تبصرہ کیاجائے! ٭محمود اچکزئی کی گاڑی کی تیزرفتاری پر موٹروے پولیس نے چالان کردیا۔750 روپے جرمانہ ادا کرناپڑا۔ گاڑی کی رفتار132 کلو میٹر تھی جب کہ رفتار کی حد120 کلومیٹر ہے ۔ چند روز قبل قومی اسمبلی کی سپیکرایاز صادق کا 140 کلو میٹر کی رفتار پر چالان ہوگیاتھا۔ ایک ستم ظریف قاری نے کیا دلچسپ بات کہی ہے کہ سپیکر کی گاڑی کا رخ اسلام آباد کی طرف اور محمود اچکزئی کی گاڑی کا رُخ کابل کی طرف تھا ،دونوں کی گاڑیوں کی رفتار تیزہونی ہی تھی! ٭پیاز ملک بھر میں100روپے سے150 روپے کلو (کراچی میں 150روپے) اور ٹماٹر 120 روپے سے 150 کلوتک فروخت ہورہاہے۔ عید سے چند ہفتے قبل تک پیاز 20سے 25 روپے اورٹماٹر 40 روپے کلو تک فروخت ہورہا تھا۔ پھر یہ انتہائی اضافہ کیسے ہوگیا؟خاص ذرائع کے مطابق بھارت سے پیازاورٹماٹر کی بھاری درآمد بند ہو جانے پر بھارت نوازکاروباری مافیا تلملا رہاتھا۔ اس نے عوام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دونو ں چیزوں کی مارکیٹ میں سپلائی روک دی ہے اور حکومت خاموش ہے۔ مگر کون سی کہاں کی حکومت؟ادھر سینیٹ میں بلوچستان کے ارکان میر کبیر اور خاتون پر وین کلثوم چیخ پڑیں کہ بلوچستان میںلاکھوں من پیاز کاشت کاروں کے پاس پڑاہے۔ اسے خریدنے کی بجائے پیاز مافیا باہر سے پیاز درآمد کررہاہے!ملک کے عوام کے ساتھ کیا ہورہاہے!

٭امریکہ بہت بڑا ملک ہے۔ ایک عرصہ سے اس کے مختلف حصوں میں ہولناک سمندری طوفان آرہے ہیں۔ اس وقت بھی ایک حصہ طوفان کی زد میں ہے۔ امریکی سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ طوفانوں سے ایک لاکھ سے زیادہ مکانات تباہ، لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ وسیع پیمانہ پر بجلی کانظام ختم ہو چکا ہے اور بہت سے مقامات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مگر یہ طوفان رکنے والے نہیں۔ محکمہ موسمیات ایسے مزید طوفانوں کے بارے میں خبردار کررہا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ آخر امریکہ ہی ان طوفانوں کا نشانہ کیوں بن رہاہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ امریکہ اتنابڑا ملک ہے کہ اس کے مختلف شہر ایک دوسرے سے ہزاروں کلو میٹر دور ہیں۔ ان میں وقت کا بھی بہت فرق ہے۔ مثلاًنیو یارک اور لاس اینجلس کے درمیان وقت کا تین گھنٹے کا فرق ہے دونوں شہروں میں ہوائی جہاز کا پانچ گھنٹے کا سفر ہوتاہے۔یہ لاہور اور استنبول کا فاصلہ بنتا ہے۔ اتنے بڑے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ کسی نہ کسی وقت کسی غیر معمولی صورت حال کا شکار رہتاہے۔ کچھ حلقے یقین کااظہار کررہے ہیں کہ یہ تباہی سورج گرہن کا نتیجہ ہے تاہم ایک بہت اہم معاملہ ''گلوبل وارمنگ'' کا ہے جسے عالمی حرارت انگیزی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے باعث دنیا بھر میں حرارت کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے۔ سمندروں کا پانی بھاپ بن رہاہے، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے۔ اس کی ذمہ داری بھی امریکہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکہ کے ہزاروں صنعتی کارخانوں اور لاکھوں بلکہ کروڑوں موٹرگاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے ہر سال مختلف نہائت زہریلی گیسوں پر مشتمل تقریباً پانچ ارب ٹن کا ملبہ اوپر فضا میں پہنچ رہاہے۔ اس کے باعث کرئہ ارض کی ''اوزون' ' کی بالائی فضا میں بڑے بڑے شگاف پڑ گئے ہیں۔ 'اوزون ' قدرت کی طرف سے زمین کو سورج کی الٹراوائلٹ اور لیزر شعاعوں سے محفوظ رکھنے کی گیسوں کا ایک حفاظتی حصار ہے۔ اس کے پھٹ جانے سے پورا امریکہ اور اس کے اردگرد کے علاقے میکسیکو، کیوبا ، ہوائی وغیرہ سورج کی ان انتہائی خطرناک اور گرم شعاعوں کی زد میں آگئے ہیں اور عالمی سطح پر گرمی کی شدت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث گلیشیئر بے تحا شہ پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی سطح بلند ہونے سے متعدد ساحلی علاقے ڈوب رہے ہیں۔ گرمی کی اس شدت کے باعث سمندروں کا پانی اُبلنے لگا ہے۔ اس کے باعث بہت بڑی مقدار میں بھاپ شدید بارشوں کا باعث بن رہی ہے اور طوفانی ہوا ئیں چل رہی ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اوزون کی ٹوٹنے والی تہ کو ٹھیک کرنے کا کرئہ ارض کے سائنس دانوں کے پاس کوئی حل نہیں!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved