دھمکی اورتھپکی
  14  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی جریدے ''دی ہیل''نے اپنے اداریے میں امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جنوبی ایشیاسے متعلق تقریرپرمتنبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی نئی پالیسی پاکستان کو غصہ دلاسکتی ہے جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود محسوس کر رہا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ٠٧ہزار جانیں قربان کرنے کے ساتھ ٠٠١/ارب ڈالر کے بالواسطہ اور بلاواسطہ اقتصادی نقصانات سے دو چار ہوا ہے جبکہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمت عملی مستقبل میں نئی دہلی کو پاکستان کے ساتھ نئی پراکسی وار شروع کرنے کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔امریکی جریدے کے مطابق بھارت کو افغانستان میں وسیع کرداردینے کاجو اشارہ کیا گیا ہے کہ ''ہماری جنگ میں ہماری مزید مدد کرو "کے جواب میں ٹرمپ کو نئی دہلی کی جانب سے مسکراہٹ کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ٹرمپ کی طرف سے بھارت کو افغانستان میں بڑا کردار دینے کا عندیہ بھارت کو افغانستان میں پاکستان کے خلاف نئی پراکسی وار میں گھسیٹ لانے کا لائسنس ہوگا۔ پاکستان اس بات سے پریشان ہے کہ اسے مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر گھیرے میں لینے کی بات کی جارہی ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی نئی پالیسی دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ہمسایوں کو آپس میں لڑا سکتی ہے جبکہ اس سے قبل ٠٧ سال سے امریکا کی پالیسی جنوبی ایشیا میں امن کو استحکام دینے کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے روکنے کی تھی جبکہ ٹرمپ کی نئی پالیسی یکسریوٹرن کے مترادف ہے ۔ دوسری طرف برطانیہ کے مشہورزمانہ تھنک ٹینک''رائل یونائیٹڈسروس انسٹیوٹ'' نے بھی ٹرمپ کی تقریرپراپنی ناپسندیدگی کااظہارکرتے ہوئے مشورہ دیاہے کہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمت عملی پرپاکستان کودہمکی اوربھارت کوتھپکی دینے سے ناقابل یقین مشکلات پیداہوسکتی ہیں جبکہ افغانستان کے پرامن حل اوردیگرمعاملات پرپاکستان کی اشدضرورت ہے اورٹرمپ کی تقریرکے بعدپاکستان میں عسکری اداروںاورتمام سیاسی جماعتوں میںامریکاکے خلاف مکمل آہنگی واتفاق ہوگیاہے جس کے جواب میں مستقبل میں پاکستان کی طرف سے جاری تعاون ختم ہونے کابھی امکان ہے ۔ادھراسلام آبادمیں موجودامریکی سفیرروزانہ کی بنیادپرواشنگٹن کواپنی رپورٹس میں مطلع کررہاہے کہ نہ صرف پاکستانی اورعسکری حکام بلکہ پاکستانی عوام بھی امریکی رویے پرسخت برہم ہیں اورملک بھرمیں امریکاکے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہوگئے ہیںجس میں حکومت سے مطالبہ کیاجارہاہے کہ اس مرتبہ امریکاسے کسی نرمی کامظاہرہ نہ کیاجائے۔اسلام آبادمیں موجوددیگر٣٦ممالک کے سفارتکاربھی اسی نوعیت کی رپورٹس بھیج رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیرخارجہ خواجہ آصف کی جانب سے امریکاکادورۂ ملتوی کرنے پربھی امریکی تشویش کاشکارہیں کیونکہ انہیںپاکستان کی طرف سے اس قدرسخت ردّعمل کی توقع نہیں تھی۔امریکی قائمقام نائب وزیرخارجہ برائے جنوبی اوروسطی ایشیاایلس ویلزنے اس سلسلے میں ہی پیرکواسلام آبادپہنچناتھاجنہیں دورے سے روک دیاگیاہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح امریکی دورے سے قبل پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف کوچین،روس اورترکی کے دورۂ کرنے سے روک دے۔ذرائع کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کوقائل کرناتھاکہ امریکاکودورۂ ملتوی کرکے روس اورچین کوترجیح دینے سے غلط فہمیاں مزیدجنم لیں گی۔دفترخارجہ کی جانب سے امریکی حکام کویہ پیغام بھیجاگیا کہ پاکستانی حکام مصروف ہیں،جس پرامریکی خاتون نائب وزیرخارجہ کودورۂ ملتوی کرناپڑا۔ ادھرنئی امریکی افغان پالیسی کامؤثرجواب دینے کیلئے باقاعدہ طورپرسیاسی وعسکری قیادت کی جانب سے گائیڈلائن دی جائے گی۔فی الحال پاکستان نے امریکی الزامات کافوری جواب دیاہے تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ ریاستی پالیسی بننے کیلئے ایک سے ڈیڑھ ماہ لگے گاکیونکہ مستقل اورجامع پالیسی کیلئے پارلیمنٹ اورقومی سلامتی کے اداروں کی گائیڈلائن کے علاوہ یہ بھی دیکھاجائے گاکہ اس سلسلے میں روس،چین ،ترکی اورایران سے مکمل مشاورت ہوگی۔وزیرخارجہ خواجہ آصف اسی تناظرمیں اگلے چنددنوں میں ان ممالک کادورۂ کرنے کیلئے روانہ ہورہے ہیں،اس کے بعدہی پاکستان ایک جامع پالیسی مرتب کرے گا۔اس پالیسی میں ہی یہ فیصلہ کیاجائے گاکہ ممکنہ جارحیت پرنیٹوسپلائی بندکرنے کے علاوہ اورکون سے آپشن اختیارکئے جاسکتے ہیں اوریہ کہ پاکستان کے خلاف اگرامریکااپنے ڈرون حملوں کاآغازکرتاہے توفوری جوابی ردّ ِعمل کیاہوناچاہئے۔ اسٹیبلشمنٹ سے جڑے ذرائع کے مطابق پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے پس پردہ عزائم سے یہ اشارے بھی مل رہے ہیںکہ امریکا(Hot Pursuit)گرم تعاقب سے متعلق اپنی پرانی خواہش پربھی عملدرآمدکراناچاہتاہے تاہم متعلقہ چینلزکے ذریعے امریکاکویہ پیغام پہنچادیاگیاہے کہ ماضی کی طرح اس باربھی کسی قسم کاایڈونچرکوقطعاً برداشت نہیں کیاجائے گا ۔ (جاری ہے) کیونکہ پاکستان کی سرزمین سے کوئی دہشتگردسرحدپارکرکے کاروائی نہیں کررہاتاہم افغانستان کی سرزمین سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے جس کی تازہ مثال عیدکے دن کراچی میں ایک سیاسی پارٹی کے ایک رہنماء پرافغانستان سے تربیت یافتہ''انصارشریعہ''کے افرادکے قاتلانہ حملے کی صورت میں سامنے آچکاہے۔امریکی سابق صدراوبامانے جواے ایف پاک پالیسی بنائی تھی،اس میں گرم تعاقب کاآپشن رکھاتھا کہ ڈیورنڈلائن کونل اینڈوائٹ سمجھاجائے۔جب بھی امریکیوں کوٹارگٹ ملے گاوہ اس کاتعاقب کریں گے اوراس کیلئے فاٹامیں بھی داخل ہوسکتے ہیںتاہم اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی نے اس کے خلاف بھرپوراسٹینڈلیتے ہوئے کہاتھاکہ امریکاافغانستان میں اپنی جنگ لڑے اورپاکستان اپنی سرزمین پردہشتگردوں سے خودنمٹے گا۔جنرل کے اس بیان کے بعداوباماکوگھٹنے ٹیکناپڑے اورپھر''ڈھال اورہتھوڑا''(Anvil & Hammer) پالیسی پراتفاق رائے ہوگیاتھا۔اگرپاکستان اپنے علاقے میں اس پالیسی پرعمل کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرتاہے اوردہشتگردفرارہوکرافغانستان میں داخل ہوتے ہیں توپھرامریکااس سے نمٹے گااوراگرامریکی افغانستان میںکاروائی کرتے ہیں اوروہ فرارہوکرپاکستان داخل ہوتے ہیں توپاکستان ان کے خلاف کاروائی کرے گا۔تاہم اہم ذرائع کے مطابق آج تک امریکی فورسزنے اس پالیسی پرایک مرتبہ بھی عملدرآمدنہیں کیا اور پالیسی کی سب سے بڑی خلاف ورزی اس وقت کی جب پاکستان نے اکتوبر٩٠٠٢ء میں آپریشن''راہِ نجات'' شروع کیا۔ٹھیک اس موقع پرامریکانے جنوبی وزیرستان کی دوسری طرف افغان سرحدپرقائم اپنی ساری چیک پوسٹیں ہٹالی تھیں اور پاکستان سے فرارہونے والے دہشتگردوں نے افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنالئے۔ اوباماتومشاورت سے ''گرم تعاقب''کی پالیسی اختیارکرناچاہتے تھے تاہم ٹرمپ دھونس کے ذریعے اس نوعیت کے اقدامات کے اشارے دے رہاہے جوکسی صورت قبول نہیں کئے جائیں گے۔

روس اورچین کی جانب سے پاکستان کاساتھ دینے میں ان کے اپنے مفادات بھی ہیں۔چین کے ''ون بیلٹ ون روڈ''اور''سی پیک''پروجیکٹ میں افغانستان کابھی کلیدی کردار ہے ۔ سنٹرل ایشیامیں ساری آمدورفت افغانستان کے راستے ہونی ہے لہنداچین نہیںچاہتاکہ کابل میں امریکی وبھارتی اثرورسوخ قائم رہے اوریہ کہ افغانستان عدم استحکام سے دوچاررہے۔دوسری جانب روس کوخدشہ ہے کہ امریکاداعش کی سرپرستی کرکے جنوبی ایشیائی ریاستوں میں دہشتگردی کوفروغ دینے کاپروگرام رکھتاہے تاکہ اس کااثرروس کے اندر تک پہنچایاجاسکے۔اس سلسلے میں وہ ازبک اورچیچن موومنٹ کواستعمال کرسکتاہے۔ماسکوکے پالیسی سازوں کااس پراتفاق ہے کہ داعش خراسان کے آئیڈیاکے پیچھے امریکی ہاتھ ہے۔پراناخراسان جنوبی ایشیائی ریاستوں اورپاکستان وایران کے کچھ علاقوں پرمشتمل تھا۔روسی پالیسی سازوں کے خیال میں امریکانے داعش کی خراسان خلافت کاشوشاچھوڑ کر بیک وقت روس ،ایران اورپاکستان کوبلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیااب وقت نہیں آگیاکہ ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی عہدشکنی کیلئے استغفارطلب کرتے ہوئے وطن عزیزمیں اللہ کی حاکمیت کاعملی اعلان کرکے ہمیشہ کیلئے ان تمام پریشانیوں،رسوائیوں اورمصائب سے نجات حاصل کرنے کیلئے قرآن کے نفاذکااعلان کریں تاکہ ان تمام فتنوں سے بیک وقت نجات مل جائے جواسلامی نظام کی آڑمیں دشمن کے آلۂ کاربنے ہوئے ہیں۔یادرکھیں کہ وطن عزیزکاخواب دیکھنے والے بابااقبال بہت پہلے یہ کہہ گئے! وہ ایک سجدہ جسے توگراں سمجھتاہے ہزارسجدوں سے دیتاہے آدمی کونجات


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved