سوشل میڈیا قابل اعتماد ذریعہ معلومات نہیں' چند مثالیں
  14  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آج کل کے نوجو ان کتابوں سے گھبراتے ہیں' اخبارات سے دور بھاگتے ہیں' مطالعے کا شوق نہیں رکھتے' ادب سے ناآشنا ہیں' ادیبوں کے ناموں سے واقف نہیں' لکھاریوں کو نہیں پہنچاتے' اگر اساتذہ یا والدین اس نوجوان نسل سے شکوہ کریں یا انہیں ادبی ماحول سے انسیت دینے کی کوشش کریں یا انہیں کتابوں کے مطالعے کی ترغیب دلانے کی سعی کریں تو ہر صورت میں اس نوجوان نسل کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ہمارے پاس دنیا جہاں کی معلومات نہیں۔ دنیا جہاں کی معلومات؟ وہ کیسے؟ نہ آپ اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کتابوں سے مشغف ہے تو پھر معلومات کا ذخیرہ کہاں سے نازل ہوتا ہے' وہ اپنے ہاتھ میں تھامے موبائل سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم سوشل نیٹ ورک سے وابستہ ہیں یہاں سے ہمیں ساری معلومات میسر آجاتی ہیں۔ ہمیں نہ تو کتاب پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی اخبارات ' فیس بک' واٹس ایب' ٹویٹر اور اس کے علاوہ نہ جانے کتنے ایسے نیٹ ورکس ہیں جن سے والدین آگاہ نہیں مگر ساری ساری رات ان سے وابستہ رہ کر اپنا وقت ضائع کر رہے ۔ ان کی تمام تر معلومات کا مبنع فیس بک یا وائس ایپ پر اپ لوڈ کی گئی پوسٹ ہوتی ہیں۔ آپ جب بھی ایم فل' پی ایچ ڈی یا دیگر ڈگریوں کے لئے کی جانے والی تحقیق یا مقالہ لکھ رہے ہوں تو ان مقالہ یا ریسرچ پیر میں آپ جو بھی معلومات دیتے ہیں تو ان کا حولہ دینا ضروری ہوتا ہے ۔ اخبار کا تراشا یا ویب سائٹ اس حوالے سے قابل قبول نہیں ہوتے کیونکہ وہ معلومات کا قابل اعتماد ذریعہ نہیں۔ بالکل یہی حالت سوشل میڈیا پر دی جانے والی معلومات کا ہے۔ سوشل میدیا پر دی جانے والی اکثر معلومات قابل اعتماد نہیں ہوتیں۔ آپ لاکھ کہیں کہ سوشل میڈیا کے ساتھ وابستہ رہ کر میرے پاس معلومات کا ذخیرہ اکٹھا ہو چکا ہے مگر آپ کتابوں کا مطالعہ کریں اور نہ ہی اخبارات کے قریب جائیں تو آپ کا دعویٰ بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہوگا۔ نمونے کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند پوسٹ آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور پھر آپ فیصلہ کریں کہ سوشل میڈیا قابل اعتماد ذریعہ معلومات ہے یا نہیں؟ قاری محمد حنیف ڈار صاحب کی طرف سے ایک پوسٹ وائرل ہوئی ہے' قاری صاحب کو میں نہیں جانتا لیکن چونکہ وہ قاری ہیں اس لئے اتنا جانتا ہوں کہ وہ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہونگے اور سچ اور جھوٹ کے فرق کو بھی قرآنی نقطہ نگاہ سے جانتے ہونگے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کا عنوان دیا ہے ''عجیب اتفاق' پھر لکھتے ہیں کہ کیا یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ چھ ممالک جرمنی' کینیڈا' امریکہ' فرانس' انڈیا اور برطانیہ کے جو سفیر عراق کی تباہی کے وقت بغداد میں تعینات تھے۔ وہی لیبیا کی تباہی کے وقت طرابلس میں اور شام کی تباہی کے وقت دمشق میں تعینات تھے۔ ان پانچ ممالک کے وہی سفیر آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں تعینات ہیں۔،، موصوف قاری صاحب نے اس کے بعد بھی تفصیل درج کی ہے جس میں اپنی تحقیق کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاکستانی بھائیوں کو نصحیتں کی گئی ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اس خبر کی تحقیق کرلی جاتی۔ موصوف نے کسی سے سنا ہوگا اور پھر بلا تحقیق اسے پوسٹ کر دیا ہوگا' بریکنگ نیوز کے طور پر تاکہ کوئی ان سے سبقت نہ لے جائے۔ اب یہ پوسٹ انتہائی حساس نوعیت کی ہے جس نے بھی یہ زحمت گوارا نہیں کی۔ اس پوسٹ کا اثر اتنا زیادہ ہوا ہے کہ اب ہر محفل میں یہی تذکرہ ہوتا ہے کہ اب پاکستان کی باری ہے اور اس خبر کو بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں' لیبیا' شام اور عراق پر حملے کے وقت اور اس وقت پاکستان میں موجود ان مذکورہ ممالک کے سفیر مختلف ہیں۔ قاری صاحب کے عزائم اس خبر کو پھیلانے میں کیا ہے۔ خدا بہتر جانتا ہے مگر ایک بات طے ہے کہ اس خبر نے پاکستانیوں کی نفسیات پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اسی طرح کی ایک اور پوسٹ جو انگریزی زبان میں تحریر کی گئی ہے واٹس ایپ پر بہت وائرل ہوئی ہے ۔ وہ حادثاتی موت اور اس کے معاوضے کے حوالے سے ہے۔ اس پوسٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ حادثاتی موت کی صورت میں معاوضہ کی ادائیگی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سے مشروط ہوگی' اگر کسی شخص کی حادثاتی موت واقع ہوتی ہے تو اس کے ورثاء کو حکومت آخری گوشوارے میں درج شدہ آمدنی سے پانچ گنا زیادہ معاوضہ دے گی۔ اس پوسٹ میں حوالہ نمبر وغیرہ بھی درج کیا گیا ہے۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ خبر تو درست ہے مگر اس کا تعلق ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے ہے جبکہ ہم اس خبر کو اہم سمجھتے ہوئے دھڑا دھر فاروڈ کرتے رہے۔ اس طرح کی اور بے شمار پوسٹ اور ویڈیوز ہوتی ہیں جن پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چلتے چلتے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا بھی تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ دبئی کا شہر ہے اور ویڈیو بنانے والی کی آواز ہے جو کار میں سفر کر رہا ہے اور اپنی بائیں جانب گزرنے والی پانچ بلند و بالا ٹاورز پر مشتمل ایک عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف منسوب کر رہا ہے۔ بلاشبہ وہ عمارت اربوں ڈالر مالیت کی ہوگی مگر ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ وہ بلڈنگ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملکیت ہے یا نہیں کیونکہ وزیر خزانہ کی طرف سے ابھی تک اس کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا قابل اعتماد ذریعہ معلومات نہیں ہے اس لئے کسی بھی معلومات کو شیئر کرنے سے قبل تصدیق کرلینا بہت ضروری ہے کیونکہ اسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved