ترکی کی خاتون اول اورحکمرانوں کے لئے چوڑیاں
  14  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میرے رسول کریمۖ نے چودہ سو سال پہلے آج کے حالات کے حوالے سے صرف پیشن گوئیاں ہی نہیں فرمائی تھیں بلکہ ان حالات کو سدھارنے کا طریقہ بھی بتایا تھا … افسوس صد افسوس کہ ہم بحیثیت ''مسلم امہ'' … خاتم الانبیائۖ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں' جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آج بحیثیت ''مسلم امہ'' ہم قرآن و سنت کی طرف مکمل رجوع کرلیں ' اللہ اور اس کے رسولۖ کے احکامات کو اپنی زندگیوں اور نظام حکومت کا حصہ بنالیں… تومسلم امہ کی موجودہ حالت زار ابھی بھی تبدیل کی جاسکتی ہے' ہمارے حکمران ہوں' سیاست دان ہوں' ایلیٹ کلاس ہو ' پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ حتیٰ کہ اب تو مذہبی راہنما 'دانشور' اسکالر ٹائپ لوگ بھی … ''مغرب'' سے بری طرح مرعوب نظر آتے ہیں … ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہمارے حکمرانوں' میڈیا کے پردھانوں اور دانشوروں کو اپنی ثقافت' اپنی بودو باش' اپنے اخلاق و کردار پر ذرا برابر بھی اعتمادنہیں رہا … جس قوم کے حکمرانوں' سیاست دانوں اور دانش وروں کو اپنی بجائے سارے کا سارا اعتماد مغربی کلچر' مغربی بودو باش اور مغربی تہذیب پر ہے' اندازہ لگائیے امت مسلمہ کے حکمرانوں' سیاست دانوں اور میڈیا کی بزدلانہ حکمت عملیوں اور کمزوریوں کا … کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو برمی فوج اور گوتم بدھ کے دہشت گرد ظلم کی چکی میں پیس رہے ہیں … معصوم بچوں کے سر تلواروں سے کاٹے جارہے ہیں ' عورتوں کو بے آبرو کرکے … انہیں ننگا ہی کیمپوں میں دھکیل دیا جاتاہے' گوتم بدھ کے د ہشت گردوں نے روہنگیا کے مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے کہ … امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے … حتیٰ کہ دنیا میں ظلم و ستم کو پروان چڑھانے والے ملک امریکہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ ''میانمار میں روہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم اور تشدد فوراً بند ہونا چاہیے'' جس ظلم و تشدد کو امریکہ اور اقوام متحدہ بھی ظلم و تشدد قراردے رہے ہیں … وہ ظلم و تشدد' میری اور آپ کی سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر ہوگا … میرے قلم میں وہ سکت نہیں کہ وہ بدھ مت دہشت گردوں کی بدترین دہشت گردی کے سارے واقعات لکھ سکے … میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں کہ جن الفاظ میں بدھ مت بدمعاشوں کی بدمعاشی کی مذمت کی جاسکے؟ ہائے لوگو! وہ کیا ظلم ہوگا کہ جس ظلم نے ترکی کی خاتون اول کو بھی خون کے آنسو رلا دیا؟ ترکی کے وزیر خارجہ نے خاتون اول ''امینہ اردگان'' کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ میں پہنچ کر ان کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ''روہنگیا کی خواتین' بچوں اور مردوں کی بدترین حالت دیکھ کر خاتون اول بے اختیار رو رہی تھیں اور ہمارے دل بھی ہچکیاں بھر رہے تھے … برمی فوجیوں کے ظلم و تشدد کا ذکر سن کر دھاڑیں مار مار کر رونے والی خواتین کو سینے سے لگاکر ''امینہ اردگان'' ان سے کہتی رہیں کہ مجھے اپنے سارے آنسو دے دو ' برما کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ کرنے والے اللہ کے عذاب کا سامنا کریں گے ''ان شاء اللہ'' وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد خاتون اول نے واپسی پر ترک صدر طیب اردگان کو برمی مسلمانوں کی حالت زار سے آگا ہ کیا … جس کے بعد صدر طیب اردگان نے مسلمان حکمرانوں سے ملاقاتوں کے بعد انہیں روہنگیا کے مسلمانوںکے بارے میں سنجیدگی سے حکمت عملی اختیار کرنے کا مشورہ دیا' یہ تو ترک وزیر خارجہ ہے … ذرا سوچیئے اس کی جگہ اگر پاکستانی وزیرخارجہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟ ذرا سوچیئے کہ تین مرتبہ پاکستان میں خاتون اول کا مرتبہ حاصل کرنے والی محترمہ کلثوم نواز کبھی اس قسم کا سنہری کردار کیوں ادا نہ کرسکیں؟ ترکی کی خاتون اول نے روہنگیا کی مظلوم مسلمان مائوں' بہنوں' بیٹیوں کے سارے آنسو پرورگار کے حضور پیش کر دیئے ہوں گے … میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ برما کی سرزمین آنے والے دنوں میں ان جہادی دیوانوں کو ضرور دیکھے گی … کہ جن کی ضربوں سے بدھ مت دہشت گردوں کی نسلیں بھی کانپا کریں گی۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ برما کی سرزمین پر بہت جلد وہ سورج طلوع ہوکر رہے گا کہ جس کی کرنیں ظالم' بدمعاشوں اور دہشت گردوں کی لٹکتی ہوئی بدبودار لاشیں ضرور دیکھیں گی … اس لئے کہ مائوں کے آنسوئوں سے اس کے بیٹے بے وفائی کرسکتے ہیں … بہنوں کے آنسوئوں سے جدید دور کے بھائی تو غداری کرسکتے ہیں' لیکن مظلوم مائوں' بہنوں' بیٹیوں کے آنسو رب کے حضور ضائع نہیں جاتے۔ واہ (''امینہ اردگان'' … تجھے اس عاجز' خاکسار کا سلام پہنچے … تو نے روہنگیا کی مظلوم خواتین کے سارے آنسو سمیٹ کر … مردوں کی اس دنیا کے منہ پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے کہ جسے تاریخ تاقیامت اپنے سینے پر زندہ و جاوید رکھے گی ' میرے نزدیک اسے مردوں کی دنیا کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے' یہ مردوں نہیں مُردوں کی دنیا ہے … جن پر نہ مائوں کے آنسو اثر کرتے ہیں نہ عصمتوں کے گوہر لٹوانے والی بہنوں کی چیخیں اثر کرتی ہیں … اور نہ عصمتوں کو بچاتے ہوئے دریائوں میں کودکر جانیں قربان کرنے والی بیٹیوں کی بے گورو کفن لاشیں اثر کرتی ہیں۔

یہ سب ''مُردے'' ہیں ''مُردے'' جن کے ضمیر بھی مرچکے ' جن کے دلوں پر بھی مہریں لگ چکیں … ایک دوسرے کو گرانے پچھاڑنے کے لئے یہ سب ''شیر'' ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے … یہ سب ایک دوسرے سے بڑھ کر دلیر اور بہادر ' لیکن کافروں کے سامنے یہ سارے بھیگی بلی کی طرح …روہنگیا کے مسلمان نہ تو جہادی تھے نہ ان کا تعلق القاعدہ سے تھا' نہ وہ طالبان کے ساتھی تھے ' نہ لال مسجد والوں سے ان کا کبھی کوئی تعلق رہا … نہ وہ جیش محمدۖ کے مجاہد تھے اور نہ ہی لشکر طیبہ کے ' لیکن اس کے باوجود … جدید دنیا کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے گوتم بدھ کے دہشت گردوں نے برمی فوج کے ساتھ مل کر ان پر جو خوفناک مظالم ڈھائے ا س کا ذمہ دار کون ہے؟ ترکی کی عزت مآب خاتون اول محترمہ ''امینہ اردگان'' اگر مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو چوڑیوں کاتحفہ بھجوا سکیں … تو یہ احسان وہ ضرو کر ڈالیں تاکہ روہنگیا کی مظلوم خواتین کو یہ تو علم ہو کہ حکمرانوں نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved