ناقص حج انتظامات' قصور کس کا؟
  14  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

انگریزی کی کہاوت ہے "Absolute power corrupt absolutely" وزارت مذہبی امور کے ضمن میں یہ کہاوت صادق آتی ہے۔ جس سال حج آپریشن وزارت مذہبی امور کی کل صوابدید پر چھوڑا گیا اس سال حجاج اکرام بھی شکایت کرتے پائے گئے اور عجیب و غریب قسم کی شکائتیں بھی سننے کو ملیں۔ گزشتہ سال حج کے انتظامات نسبتاً بہتر تھے تو اس کی وجہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی کڑی نگرانی تھی وگرنہ ہم جانتے ہیں کہ اس سے پہلے والے سال میں کس قدر خرابی پیدا ہوئی تھی۔ وزارت حج پر الزام لگاکر منظور نظر افراد کو خصوصی طور پر سعودی سفارتخانے سے ویزے جاری کروائے گئے۔ ایک صاحب جن کو وزیر مذہبی امور نے اپنے تعلقات کی بنا پر کنٹریکٹ پر بھرتی کر رکھا تھا پر الزام تھا کہ انہوں نے رقم لیکر یہ حج ویزے جاری کروائے۔ سردار یوسف اس حوالے سے کافی تنقیدکی زد میں رہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ حج سے واپسی کے بعد جب و ہ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرنے کیلئے آئے تو وہ شور و غوغا مچا کہ الحفیظ الامان۔ صحافیوں نے انہیں بات کرنے تک نہ دی۔ بعد ازاں ازالے کے طور پر انہوں نے کنٹریکٹ پر بھرتی وہ صاحب جن کو بعض لوگ ان کا فرنٹ مین سمجھنے لگے تھے کو وزارت سے فارغ کردیا اور اپنی جان خلاصی کرائی۔ اوصاف کے رپورٹر برادرم عمر فاروق نے اس سال حج انتظامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے روزنامہ اوصاف کے لئے زبردست تحقیقاتی مواد فراہم کیا۔ وزیر صاحب کے ایک قریبی ساتھی نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس رپورٹنگ پر وزیر صاحب اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا لیکن میرا موقف تھا کہ اس رپورٹنگ میں اگر کچھ غلط ہے تو اس کی نشاندہی کیجئے جس کے جواب میں وہ خاموش ہوگئے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب معاملات کو مکمل طور پر وزارت مذہبی امور کی صوابدید پر چھوڑا گیا تو ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وزارت بھی بدنام ہوئی ' وزیر مذہبی امور سردار یوسف بھی تنقید کی زد میں آئے اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے لئے بھی وزارت مذہبی امور بد نامی کا باعث بنی۔ گزشتہ سال وزیراعظم نواز شریف حج آپریشن سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہے۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی کڑی نگرانی کا عالم یہ تھا کہ تمام معاملات کو کنٹرول کیا جاتا حتیٰ کہ ہارڈ شپ کوٹہ تک کی تقسیم وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کے تحت کی گئی۔ قبل ازیں وزیر صاحب کے حوالے سے یہ شکایت زبان زد عام رہی کہ وہ اپنے ضلع مانسہرہ کے لوگوں کو ہر قسم کے کوٹے پر نواز دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہر ایم این اے دو افراد جبکہ وزراء تین افراد کو اس حج کوٹہ پر بھیجنے کی سفارش کرسکتے ہیں۔ یوں تمام ایم این ایز' سینیٹرز اور وزراء کو برابری کی بنیاد پر اختیار دیا گیا چنانچہ بدنظمی اور اقربا پروری کے الزامات گزشتہ سال سننے کو نہ ملے۔ اس سال چونکہ نئی نئی حکومت بنی ہے لہٰذا وزارت مذہبی امور کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا اور شکایات کا انبار2015 ء کی طرح سامنے آرہا ہے۔ حجاج اکرام کی شکایات کھانے پینے اور رہنے کے حوالے سے تو ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کے ضمن میں تو اچھی خاصی بدنظمی اور بدانتظامی کے قصے سننے کو مل رہے ہیں۔ وفاقی وزیر سردار یوسف نے بدانتظامی کا سارا ملبہ سعودی عرب پر ڈال کر اپنی جان خلاصی کی کوشش کر ڈالی ہے۔ سوال یہ ہے کہ 26 لاکھ حجاج اکرام میں سے صرف پاکستانی حجاج کے نصب میں ہی بدانتظامی کیوں آئی ہے؟ اگر سعودی عرب کے انتظامات میں خرابی ہوتی تو دوسرے ممالک کے حجاج بھی اس قسم کی شکایات کرتے مگر ایسا تو کچھ بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یقین نہیں آتا کہ سردار یوسف اپنی وزارت کے آخری سال حج کے معاملات میں اتنی بے اعتنائی اور لاپرواہی کے مرتکب ہوسکتے ہیں لیکن انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ امسال حج آپریشن کے دوران پاکستانیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ دلیل کس قدر عجیب ہے کہ اس سال36 ہزار حجاج زیادہ تھے' جب آپ نے حج انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے خود متعدد دورے کیے تو کیا اس وقت آپ کے پیش نظر حجاج کی یہ اضافی تعداد نہ تھی؟ وزیر مذہبی امور کہتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ملنے والے انچاس ہزار حجاج کو اڑھائی سو ریال فی کس واپس کررہے ہیں' کیا یہ ریال واپس کرنے سے ان مشکلات کا ازالہ ہوسکے گا جو معزز حجاج اکرام نے دوران حج برداشت کیں۔ وزیر صاحب کے بارے میں ہر سال خبر سننے کو ملتی ہے کہ وہ سعودی عرب میں ہیں' ان کی سعودب عرب میں موجودگی کے باوجود اگر حجاج خوار ہوتے رہے ہیں تو یقینی طور پر ان کی اہلیت کے بارے میں سوالات ضرور اٹھیں گے۔ پاکستانی تاریخ میں شاید یہ واحد وزیر مذہبی امور ہوں گے جنہوں نے ہر سال اپنی وزارت کے خرچے پر حج کا اہتمام کیا ہے۔

اتنے متواتر دوروں کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سال بھی حج آپریشن ان کے خلاف ایک چارج شیٹ بنتا جارہا ہے۔ سعودی عرب پر ناقص انتظامات کی ذمہ داری ڈال کر وہ اپنی وزار ت کی غفلت اور لاپرواہی سے بری الذمہ تو نہیں ہوسکتے البتہ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کے نتیجے میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی آسکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اس دور حکومت میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں پہلی مرتبہ سردمہری دیکھنے میں آئی اور ہر گزرتے دن یہ احساس پیدا ہوا کہ مبادا پاکستان اپنے سب سے قابل اعتماد اور دیرینہ دوست سے محروم نہ ہو جائے۔ جب حکومت کے وزراء اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیں گے اور سفارتی نزاکتوں کا احساس نہیں کریں گے تو تعلقات میں خدانخواستہ ابتری ہی پیدا ہوگی۔ سردار صاحب کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ سادہ اور شریف ہیں' انسان کو اتنا سادہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ''اپنوں'' کے احسانات کو بھول جائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved