میچ بہت ضروری مگر…!
  14  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭آزاد کشمیرمیں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوگیا۔ بھارتی فائرنگ سے پہلے بھی متعدد شہری اور فوجی جوان شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس علاقے میں آزادی کی تحریک کو ختم کرنے کے لیے بھارتی فوج کی مزید پانچ بٹالنیں بھیجی جارہی ہیں۔ ان کے علاوہ جدید مہلک ہتھیار ، جنگی ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں بھی آرہی ہیں۔ بھارتی وزیر نے سری نگر میں ایک بار پھر حریت پسند رہنماؤں سے مذاکرات کی کوشش کی جسے ان رہنماؤں نے مسترد کردیا۔ فوجی اصطلاح میں ایک بٹالین میں 800 تک جوان ہوتے ہیں۔ بٹالین کا کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ہوتاہے۔ مقبوضہ علاقے میں پہلے ہی تقریباً سات لاکھ( بعض ذرائع کے مطابق آٹھ لاکھ) بھارتی فوج موجود ہے جو عملی طورپر حکومت کررہی ہے۔ وہاںہر چھ ماہ کے بعد فوجی دستے تبدیل کردیئے جاتے ہیں اورنئے دستے آجاتے ہیں۔اس طرح ساری بھارتی فوج کئی بار مقبوضہ علاقے میں آچکی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ مقبوضہ علاقے میں آزادی کی تحریک میں جو شدت آگئی ہے اور جس طرح فوجی مراکز پر حملے ہوتے آرہے ہیں ان سے بھارتی فوجی اس علاقے میں آنے سے گھبراتے ہیں۔ بہت سے فوجی خوف اور دہشت کے باعث خودکشی کرچکے ہیں اور بہت سے نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہونے والے فوجیوںکی کبھی صحیح تعداد ظاہر نہیں کی جاتی اور حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے جواز کے لیے معمولی تعداد بتا دی جاتی ہے۔خود بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے آنے والی بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو دن کی روشنی میں گھروں تک نہیں پہنچایا جاتا بلکہ رات کے اندھیرے میں لاکر فوری طورپر آخری رسوم ادا کردی جاتی ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق کسی فوجی کی مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی لگتی ہے تو اس کے گھر والے سخت پریشانی کے عالم میں مندروں میں اس کی سلامتی کے لیے پوجا پاٹ کر نے لگتے ہیں۔ ٭لاہور میں عالمی ٹیم کے خلاف پہلا میچ پاکستانی ٹیم نے جیت لیا، دوسرے میچ کا نتیجہ بھی آچکا ہوگا۔ میں خود کرکٹ کا طویل عرصے تک کھلاڑی رہ چکا ہوں۔مجھے میچوں کے اس سلسلے پر خوش ہونا چاہئے اور خوش بھی ہوں کہ ان میچوں سے پاکستان کے پرامن ہونے کا پیغام جارہا ہے مگر ایک پہلو تکلیف دہ بھی ہے کہ میچوں کا یہ سلسلہ لاہور شہر کے لیے ایک مسلسل عذاب کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ میچ شروع ہونے سے چار پانچ گھنٹے پہلے سٹیڈیم سے تین چار کلو میٹر تک بڑی بڑی سڑکیں بند کردی جاتی ہیں۔ مال روڈ، مال روڈ، کنال روڈ ، جیل روڈ ، فیروز پور روڈ اس طرح بند کی گئیں کہ پورے شہر میں رات گیارہ بارہ بجے تک ٹریفک جام رہی ۔ میں دفتر سے گھر تقریباً20 منٹ میں پہنچ جاتا ہوں، گزشتہ روزشدید ٹریفک جام اور کئی ذیلی سڑکوں اورگلیوں سے گزر کر تقریباً پونے دوگھنٹے میں گھر پہنچا ۔ یہی حال سارے شہریوں کا ہے۔ میچ بہت ضروری سہی مگر لاکھوں شہریوں کے لیے عذاب کیوں بنادیاگیا؟ دوسری اہم بات کہ بڑے وثوق کے ساتھ کہاجارہاہے کہ ان میچوں پر تقریباً35 کروڑ روپے خرچ ہوں گے مگر آمدنی اس سے زیادہ ہوگی، اس طرح کرکٹ بورڈ منافع کمالے گا۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 35میں سے تقریباً 20سے25 کروڑ روپے تو باہر سے آنے والے کرکٹروں کودیئے جارہے ہیں۔ یہ رقم تو ملک سے باہر چلی جائے گی مگر کرکٹ بورڈ کو آمدنی اپنے ہی شہریوں سے ہوگی یعنی رقم ایک جیب سے دوسری جیب میں جائے گی۔ اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا ؟ اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے درجنوں بڑے افسروں کے علاوہ آٹھ ہزار جوان دن رات سڑکوں اور سٹیڈیم کے گرد پہرا دے رہے ہیں، ان کے اخراجات حکومت کے ذمے ڈال دیئے گئے ہیں۔ مجھے سندھ کے سپورٹس کے وزیر کے بیان پرحیرت ہورہی ہے کہ یہ میچ کراچی میں کیوں نہیں کرائے گئے؟ بھائی! شکر کرو کہ بچ گئے، کراچی میں لاکھوں عوام کے لیے ضرور مصیبت خریدنا ہے! ٭نئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ کچھ سقراط اور بقراط ''سی پیک منصوبے ''کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے تو یہ بات طنز یہ کہی ہے کہ مگر شائد انہیں خود معلوم نہیں کہ بقراط اور سقراط کون تھے؟ مختصر طورپر یہ کہ یہ دونوں افراد تقریباً پونے پانچ سو سال قبل مسیح کے دور میں یونان میں پیدا ہوئے۔ بقراط بہت مشہور حکیم تھا۔ اس کا ایک قول آج بھی ڈاکٹروں کے حلف کا بنیادی حصہ ہوتاہے کہ ' ڈاکٹر کا اولین فرض مریض کی زندگی بچانا ہے'۔سقراط بقراط کا شاگرد تھاجب کہ سقراط کا شاگرد افلاطون ایک اور بڑے دانش ور ارسطو کا استاد اور ارسطو سکندر اعظم کا استاد تھا۔ سکندر اعظم دنیا بھر کو فتح کرنے نکلا تو جگہ جگہ ان دانش وروں کی تعلیمات پھیلتی گئیں۔ سقراط اپنے زمانے میں حکمرانوں کی آمریت اور مظالم اور ان کے دیو تاؤں پر سخت نکتہ چینی کرتاتھا۔ اس سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس کی پیروکاربن گئی۔ اس پر حکومت نے سقراط کو قید کردیا اور اسے پیش کش کی کہ اپنے بیانات کوواپس لے لے تو معاف کردیاجائے گا۔ مگر سقراط نے پیش کش مسترد کردی اورکہا کہ وہ سچ بولنے سے گریز نہیں کرسکتا۔ اس پر اسے سزائے موت سنادی گئی اور یہ اجازت دی گئی کہ وہ پھانسی یا زہر کا پیالہ پی کر موت اختیار کرسکتا ہے۔ اس نے زہر کا پیالہ پی لیا ۔یوں زہر کا پیالہ ہمیشہ کے لیے ایک استعارہ بن گیا۔ یہاں سقراط کے ایک جملے کا حوالہ بہت اہم ہے کہ ''میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا''۔ اس جملے کی بعد میں فرانس کے مشہوررائٹر 'مونتانے' نے بہت دلچسپ اور خوبصورت تشریح کی۔ مونتانے بے حد مختصر نویس تھا۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بات کہہ دیتا تھا۔ اس نے کہا کہ 'جو جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے، وہ بے وقوف ہے اس سمجھاؤ کہ جاننے کی کوشش کرے! جو نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا، وہ قابل رحم ہے اسے چھوڑ دو، جونہیں جانتا کہ وہ جانتا ہے، وہ قابل اصلاح ہے، اس جاننے میں مدددو اور جو جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا، وہ حقیقی عقل منداور دانش ور ہے اسے ملتے رہو''۔ قارئین کرام! میں جاننا چاہتا ہوں کہ وزیر داخلہ اوران کے ساتھی جاننے کے کس درجے میں ہیں؟ ٭کچھ دوسری باتیں: پی آئی اے کا ایک طیارہ گم ہو گیا! کسی حادثے کا شکار نہیں ہوا بلکہ ایئر لائنز کا سابق جرمن ایم ڈی برخاست ہونے کے بعد اسے اپنے ساتھ جرمنی لے گیا۔ پی آئی اے نے اس بارے میں کیا نوٹس لیا؟ طیارہ کی واپسی کے لیے کوشش کی؟کسی کو کچھ نہیں معلوم،حتیٰ کہ پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمدد نے سینیٹ میں ایک سوال کے جواب میں خود بھی اس بارے میں لاعلمی ظاہر کی! پی آئی اے دنیا کی واحد کمپنی ہے جس کا ایک طیارہ چرالیا گیا اور وہ خاموش ہے ؟ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود بھی ہوا بازہیں، ایک ایئر لائنز کے حصہ دار( شائد مالک) بھی رہے ہیں، شائد وہ بھی لاعلم ہیں! ایک طیارہ کوئی قلم پنسل تو نہیں کہ جیب میں ڈال کرلے جایا جائے! چلیں، وزیراعظم اب ہی کچھ بتادیں! ٭پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیل نے کہاہے کہ افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان نہیںپہنچائے گا۔ اس بات کامطلب یہ ہے کہ افغانستان خود پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو بھارت کی مدد کی کیا ضرورت ہے؟

٭ملک میں پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ سرکاری طورپر امید ظاہر کی گئی ہے کہ ایک ہفتہ دس روز تک کم ہو جائیںگی۔ ان دس دنوں میں پیاز مافیا کروڑوں اربوں کمالے گا تو پھرحکومت کچھ سوچے گی!! ٭چودھری نثار علی نے کہا کہ مریم نواز بچی ہے، سیاست میں آنے کے لیے طویل تجربہ ضروری ہے۔ میں اسے لیڈر نہیں مان سکتا۔ مریم نواز نے جوا ب دیا ہے کہ 'بڑے ' گھروں سے باہر نہ نکلیں تو بچوں کو میدان میں آنا پڑتا ہے۔ ٭بھارتی حکومت نے اپنی سپریم کورٹ میں بیان جمع کرایا ہے کہ بھارت میں میانمر کے مہاجرین کی موجودگی بھارت کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے انہیں نکالنا ضروری ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved