بہت کچھ ہونے جارہاہے
  21  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اک دم بہت گرما گرم واقعات: وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری ، اسحاق ڈار کی لندن سے واپسی ملتوی… کلثوم نواز وزیراعظم یا ن لیگ کی صدر نہیں بنیں گی۔ مریم اورنگ زیب… شریف خاندان احتساب عدالت میں پیش نہیںہوا ،دوبارہ سمن جاری ،پیش نہیں ہوں گے، مریم نواز… آصف زرداری ملک دشمن اور سندھ کی سب سے بڑی بیماری ہے، جیل بھجوائیں گے، عمران خان… نیب نابینا ہے، لاہور میں کالعدم جماعتوں نے الیکشن لڑا، جسٹس دوست محمد… سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف فرد جرم ،437 غیر قانونی بھرتیوں کاالزام … وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نیویارک کے سب سے مہنگے ہوٹل میں قیام، روزانہ کرایہ32 لاکھ روپے…! سپریم کورٹ میں شیخ رشید کی نااہلی کے لیے درخواست سماعت کے لیے منظور… بھارتی وزیراعظم نے مہاجر روہنگیا مسلمانوں کو دہشت گرد قراردے دیا…!پاکستان کو عالمی بینک کی طرف سے ایک کھرب12ارب روپے کا جرمانہ …! ٭سب سے پہلے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کی باتیں، یہ سب لوگ اس وقت لندن میں ہیں۔ انہوں نے واپسی ملتوی کردی ہے۔ شریف خاندان کے چار افراد نواز شریف ، مریم نواز،حسین نوازاور حسن نواز گزشتہ روز احتساب عدالت میں پیش نہیںہوئے۔ اس پر عدالت نے دوسری بار26 ستمبرکو پیش ہونے کے سمن جاری کر دیئے۔ احتساب عدالت نے پیش نہ ہونے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے10لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے ساتھ وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے، 26ستمبر کو طلبی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ شریف خاندان کی جاتی عمرا والی رہائش گاہ پر سکیورٹی سٹاف نے سمن وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ نئے سمن رہائش گاہ کی دیوار پر چسپاں کردیئے جائیں۔ ادھر لندن میں مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ نواز خاندان کا کوئی فرد عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔ اسحاق ڈار نے بھی گزشتہ روز لاہور آنا تھا مگرواپسی ملتوی کردی ہے۔ ظاہر ہے کہ نواز خاندان اگلی پیشی پربھی پیش نہیں ہوگا تو چاروں افراد کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوسکتے ہیں۔اس سے دو واضح نتائج نکل سکتے ہیں ، ایک یہ کہ یہ چاروں افراداور اسحاق ڈار کو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار کر لیا جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ یہ لوگ طویل عرصہ تک پاکستان واپس نہ آئیں اور لندن میں ہی مقیم رہیں۔وہ لندن کی کسی عدالت سے اس بناپر وہاں قیام کی اجازت حاصل کرسکتے ہیں کہ انہیں وطن واپسی پر جان کا خطرہ ہے۔ ایسی حالت میں تو شائد کلثوم نواز بھی واپس نہ آسکیں کہ ان کا کینسر کا تیسرا آپریشن ہواہے، پاکستان میں ان کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ بہرحال دونوں صورتوں میں ملک میں بدمزگی ، بدامنی اورناخوش گوار صورت حال دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت اس معاملے میں بے بس ہے کہ سارا معاملہ عدالتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ویسے صورت حال اپوزیشن کے لیے بھی اچھی نہیں۔ عمران خان ، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اورڈاکٹر طاہر القادری اشتہاری قرار پاچکے ہیں۔ عمران خاں اور شیخ رشید کی نااہلی کے کیس سپریم کورٹ تک آپہنچے ہیں۔ آصف زرداری کے خلاف بھی نئے کیس آرہے ہیں ۔ سو ہر طرف نااہلی، احتساب، پکڑ و جانے نہ پائے، ملک بدری اور اشتہاری قرارپانے کے جھکڑ چل پڑے ہیں۔ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب سارے مکرو فریب ، دھاندلیاں ، لوٹ ماراور عیاری مکاری کے سب چکر دھرے رہ جاتے ہیں اور گاڑی چل پڑتی ہے۔ ٭پیپلز پارٹی والوں کے لیے اطلاع کہ آج بلاول بھٹو کی سالگرہ ہے عمر28 سال! ساتھ ہی نوجوانوں کے لیے بھی ایک اطلاع ہے کہ بھارت کی مشہور اداکارہ کرینہ کپور کی بھی آج سالگرہ ہے عمر صرف 36 سال ! ٭عمر ان خاں گزشتہ روز حیدرآباد میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جس طرح آصف زرداری اور بلاول زرداری پر گرجے برسے ہیں۔ اس سے سندھ کی فضا بہت گرم ہوگئی ہے۔ اب زرداری حلقے سے اس آتش فشانی کا جواب آنے کو ہے، پھرمعاملہ مزید گرم ہو جائے گا۔ آصف زرداری کے بارے میں عمران خاں کے گرجنے برسنے کی باتیں اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔ البتہ بلاول زرداری سے عمران خاں کا سوال معنی خیز ہے کہ وہ زرداری سے بھٹو کیسے بن گیا؟ دوسرے یہ کہ اس نے زندگی میں روزگار کے لیے کوئی کام نہیں کیا، کسی کام کا کوئی تجربہ نہیں تو ایک قومی پارٹی کا چیئرمین کیسے بن گیا؟ ان باتوں کا جواب زرداری فریق جو بھی دے البتہ کسی وقت عمران خاں کی بے نظیر بھٹو کے نام سے سامنے آنے والی وہ وصیت بھی زیر نظر آگئی جس میں آصف زرداری کو محترمہ نے اپنا جانشین مقر ر کیا ہے تو بات مزیدآگے بڑھ جائے گی۔ محترمہ نے اپنی زندگی میں کبھی اس وصیت کا ذکر نہیں کیا تھا۔اس کے برعکس یہ تاثر دیا تھا کہ وہ آئندہ حکمران بنیں تو آصف زرداری کو سیاست وغیرہ سے لاتعلق رہنا ہوگا۔ اس لفظ 'وغیرہ' میں بہت کچھ آتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا طرز تحریر بالکل ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے طرز تحریر سے مشابہ ہے۔ اسی طرح آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو کا طرزتحریربھی بالکل والدہ کی تحریر جیسی ہے۔ ''وصیت'' کسی قانونی اشٹام پر بلکہ ایک سادہ کاغذ پر تحریر تھی۔ یہ پوری کی پوری کبھی سامنے نہیں آئی۔ ٭حلقہ120 کے انتخابات کا 'سانپ' تو نکل گیا مگر ہارنے والی امیدوار یاسمین راشد ابھی تک لکیر کو پیٹے جارہی ہیں۔ ان کا اس حلقے میں اپناووٹ ہی نہیں تھامگر اب بھی روزانہ وہاں جارہی ہیں اور اپنی ''کامیابی '' پر مبارکبادیں وصول کررہی ہیں۔ کامیابی یہ کہ2013ء کے انتخابات میں حاصل کرو وٹوں کی تعداد کے مقابلہ میں اس بار 13ہزار ووٹ زیادہ ملے ہیں۔ وہ الیکشن توہار گئیں مگر خواتین کے مخصوص طعنے معنے دیئے جارہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ''مریم نوازآؤ ! میرے ساتھ ایک کلو میٹر پیدل چلنے کا مقابلہ کرو!'' ۔ دلچسپ بات یہ کہ یہی طعنہ یاسمین کی پارٹی کے چیئرمین عمران خاں نے بلاول زرداری کو بھی دیاہے کہ برخوردار کبھی ایک کلو میٹر پیدل چل کردیکھاہے ؟ کچھ کہہ نہیں سکتاکہ یاسمین راشد نے مریم نواز کو اگلا طعنہ کیا دینا ہے، ممکن ہے لڑکیوں کے کھیل ''شٹاپو''کھیلنے کا چیلنج کر دیں!

٭ایک بڑی خبر جو خفیہ رکھنے کی کوششوں کے باوجودخفیہ نہ رہ سکی ۔ یہ کہ عالمی بینک کی عدالتی کمیٹی نے ترکی کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کی خلاف ورزی پر پاکستان کو ایک ارب60 کروڑ ڈالر( ایک کھرب 71 ارب روپے) جرمانہ کردیا ہے۔ ترکی کی ' کارکے' کمپنی کے ساتھ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے لیے 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا معاہدہ ہواتھا جسے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے منسوخ کردیا تھا۔ ترکی کی کمپنی یہ معاملہ عالمی بینک کے پاس لے گئی۔ اس کے عدالتی شعبے نے جرمانہ سنا دیا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت پاکستان نے70 کروڑ ڈالر ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اس کے لیے ترکی کی حکومت کے ذریعے منت سماجت کی جارہی ہے! اس سے قبل نیویارک میں حبیب بینک کو بھی 32 کروڑ ڈالر کا جرمانہ ادا کرناپڑاہے… اس ملک کے ساتھ کیا ہورہاہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved