عائشہ باوانی گورنمنٹ کالج…؟
  22  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اسکول،کالج، یونیورسٹی… تعلیمی اداروں کا خیال آئے یا ذکر ہوتو مادرِعلمی کی اصطلاح… ادبی چاشنی کا روپ دھارے متبادل الاصل یا نعم البدل کی صورت ذہن میں آتی ہے۔ ان دنوں یہ اصطلاح زیادہ دل لگی کررہی ہے… میری تعلیمی زندگی میں کالج کا دور سب سے زیادہ … یادوں میں نمایاں رہتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم یاد یہ بھی ہے کہ اسکول کے زمانے میں دو ڈھائی برس کا عرصہ ایسا رہا کہ تیسری جماعت سے تعلیمی سلسلہ منقطع رہا جس کی وجہ ایک کلاس ٹیچر کا غیر رحم دلانہ رویہ تھا۔ اللہ پاک انہیں غریقِ رحمت کرے۔ آمین ثم آمین ہاں تو … اس عرصہ کے دوران کوئی ڈیڑھ برس میں اپنے تایا کے گھر مقیم رہا وہ جناح اسپتال میں معروف سرجن تھے، لاولد تھے، انکی اہلیہ (میری تائی) شدید بیمار ہوئیں تو میری بڑی بہن اور میں ان کے گھر رہے اکثر و بیشتر جناح اسپتال اسٹاف کالونی سے براستہ بزرٹا لائن (متصل گورا قبرستان) ایبی سینا لائن سودا سلف لانے کیلئے ایک تعلیمی ادارے کے قریب سے گزرتے ہوئے میری خواہش یہ ہوتی تھی کہ میں اس میں داخلہ لوں، تعلیم حاصل کروں … بہر کیف! یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ جب میٹرک کے بعد کالج میں داخلے کا مرحلہ آیا تو میں نے اسی ادارے میں داخلہ لیا جو اللہ پاک کے فضل و کرم سے میرٹ پر معمول تھا۔ کامرس کی کلاسز شام میں 5سے ساڑے آٹھ تک ہوتی تھیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی جاری رہیں، سیکنڈ ائیر میں ساتھیوں کے بے پناہ اصرار پر اسٹوڈنٹ یونین کا بلا مقابلہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوا۔ اللہ پاک کے فضل و کرم سے تحریر و تقریر کی صلاحیت کالج میں بھی عزت و سربلندی کی ضامن رہی۔ اس دور میں ڈاکٹر مرزا ولایت علی بیگ کالج کے پرنسپل تھے جو صبح سائنس سیکشن کے بعد شام کامرس سیکشن میں بھی تشریف لاتے تھے۔ موصوف ڈاکٹر آف سائنس،(D.Sc) اور پی ایچ ڈی سمیت کئی ڈگریاں حاصل کرنے والے پاکستان کے اس دور میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ استاد تھے، اسی زمانے میں وہ نائیجریا میں ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن کے منصب پر فائز ہوئے… انہوں نے تھرڈائیر میں مجھے حکم دیا کہ بیٹا آپ اس سال میگزین سیکریٹری بنیں گے… یونین کیلئے دوسرے کسی عہدے سے بہتر یہی منصب ہے۔ میں نے ان کا حکم مان لیا، لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اگلے برس کے الیکشن میں ماحول بہت ہولناک ہوگیا آخری مراحل میں ہمارے اساتذہ نے کالج کی اخلاقی حالت ابتر بلکہ انتہائی ناخوشگوار ہوتے دیکھ کر… چندلمحے کے لئے اسٹاف روم میں مجھے طلب کیا، پروفیسر محمد اسلم خان مرحوم فیکلٹی انچارج کامرس تھے (اللہ پاک انہیں بالمغفرت جنت الفردوس عطاء فرمائیں۔آمین ثم آمین) انہوں نے کہا کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ کالج کی حالت بہتر رہے۔ دیگر اساتذہ نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا… میرے کلاس فیلوز سمیت کالج کے پچانوے فیصد طلبہ کی خواہش تھی کہ میں ایک مرتبہ پھر جنرل سیکریٹری کے انتخاب میں حصہ لوں… پرنسپل صاحب سے اجازت لے کر انتخاب لڑا اور ماشاء اللہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگیا۔ اب یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ کالج کا نام عائشہ باوانی گورنمنٹ کالج ہے جو آجکل عائشہ باوانی ٹرسٹ کے زور پر سربمہر ہوگیا ہے اور تین ہزار طلبہ کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے۔ عائشہ باوانی کالج سے گہری یادیں وابستہ ہیں۔ جب ہم سیکنڈ ائیر میں تھے تو شہر کے 53کالجز میں اچھے تعلیمی ماحول کے اعتبار سے یہ سرفہرست تھا، اس دور میں کالجز پر چھاپہ مار کارروائی کے نتیجے میں یہ واحد تعلیمی ادارہ تھا جہاں منشیات اور اسلحہ نہیں تھا، تعلیمی اداروں کی تاریخ مسخ کرنے میں سیاسی جماعتوں کی بغل بچہ تنظیموں کا بڑا دخل تھا۔ اس دور میں ہاکس بے کی ایک پکنک کے دوران طلباء کی جانب سے طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی خبریں پریس میں شائع ہوئیں… جس کالج کے طلبہ پر الزام لگایا گیا تھا وہ شہر کا مشہور کالج تھا جسے ہاکس بے والا کالج مشہور کردیا گیا تھا، جامعہ کراچی کی اسٹوڈنٹ یونین والے بھی اس وقوعے میں مشہور ہوگئے، پرنسپل صاحب عائشہ باوانی سے پہلے اس کالج کے پرنسپل رہ چکے تھے۔ وہ کہتے تھے جب میں اسلامیہ کالج کا پرنسپل تھا تو محکمہ تعلیم کے اجلاسوں میں سرجھکاکے بیٹھا رہتا تھا۔ اب میں عائشہ باوانی گورنمنٹ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے فخر کے ساتھ میٹنگ میں شریک ہوتا ہوں۔ اسلامیہ کالج کے مالکان نے بھی کالج واپس لے لیا ہے اور اب عائشہ باوانی کا بھی ایسا ہی کچھ معاملہ ہے۔ خبریں ہیں کہ کالج کا نام مٹا کر شادی ہال بنایا جائے گا، عائشہ باوانی اسکولز (گرلز اینڈ بوائز) کی عمارت جو کالج کی عمارت سے متصل اور اسکی ہم شکل ہے… ضیاء الحق کے دور میں مالکان کو واپس کردی گئی تھی، شائد اسے بھی شادی ہال میں شامل کرنے کا منصوبہ ہو… میرے خیال میں دونوں عمارات کی 10ایکڑ سے زیادہ زمین اگر یونیورسٹی کے قیام کیلئے استعمال میں لی جاتی تو یقیناً یہ ایک مستحسن اقدام ہوتا… مگر دولت کی ہوس سرمایہ دار طبقے میں زیادہ نمو پاتی ہے، مالکان کی مجبوری ہے کہ وہ بھی اس ہوس میں مبتلا ہیں جسے وہ ہر قیمت پر پورا کرنا چاہتے ہیں۔ منگل کو کالج کے اساتذہ نے کالج کی عمارت کے باہر لبِ سڑک تدریس کے فرائض انجام دیئے اور طلبہ نے ٹریفک کے شور میں تعلیم حاصل کی۔

میری دعا ہے کہ اللہ پاک یہ مسئلہ جلد از جلد حل کردے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کالج کی سیل تڑوانے اور اسے کھلوانے کے احکامات جاری کئے ہیں، طلبہ اور سرپرستوں کی بھی یہی خواہش ہے اور مجھ سمیت ایسے سابق طلبہ کی بھی یہی تمنا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ بھرپور عزت و وقار کے ساتھ برقرار رہے۔ دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد جب شاہ فیصل، کرنل قذافی اور دیگر مسلم حکمران لاہور سے کراچی آئے تو ان کے استقبال کے لئے کالج کے طلبہ بینرز اور جھنڈے لے کر سڑک کے کنارے ایستادہ تھے، بھٹو صاحب نے شاہ فیصل کی خواہش پر گاڑی رکواکر ہم سے معزز مہمانوں کو متعارف کرایا بلکہ معزز مہمانوں سے ہمیں متعارف کرایا۔میں نے خود ''اہلاً و سہلاً مرحبا'' سمیت کئی نعرے خوش خط تحریر کئے تھے جنہیں معززین نے سراہا تھا اور خوشی خوشی آگے بڑھ گئے تھے… آج خیال آتا ہے کہ… مرحبا کی جگہ خدانخواستہ الوداع کہنے کی مجبوری آگئی ہے… لیکن اللہ پاک بڑا کار ساز ہے اسکے فضل و کرم سے اس کالم کی اشاعت تک انشاء اللہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved