افغانستان میں ایک نئی ملیشیا
  22  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائم نے خبر دی ہے کہ افغان جنگ میں کامیابی کے لئے افغانستان میں ایک نئی ملیشیا کھڑی کی جارہی ہے جس میں اہلکاروں کی تعداد کوئی 20 ہزار کے قریب ہوگی ۔ جس کے بعد افغانستان کے خبررساں ادارے طلوع نیوز ایجنسی نے افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجوزہ ملیشیا براہ راست افغان وزارت دفاع کے ماتحت کام کرے گا۔ اس ملیشیا کو کوئی خاص نام تو نہیں دیا جارہا البتہ یہ ایک ایسی نجی ملیشیا کے طور پر کام کرے گی جس میں نامی گرامی غنڈے، پیشہ ور قاتل اور بھتہ خور شامل ہوں گے اور انھیںملیشیا کی وردی پہنا کر خصوصا ًان علاقوں میں تعینات کیا جائے گا جو حال ہی میں افغان طالبان سے واگزارکرائے گئے ہیں۔ اس نجی ملیشیا کا تصور امریکہ میں بلیک واٹر جیسی تنظیم کے سابق سربراہ ایرک پرنس کے نظریات کے عین مطابق ہے کہ جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ محض پانچ ہزار نہایت تربیت یافتہ پرائیویٹ کنٹریکٹر جنہیں جدید ترین ہتھیاروں اور ایک سو بمبار طیاروں کی مدد حاصل ہوگی افغان جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں اور اس پر اخراجات بھی محض 10 ارب ڈالر آئے گی ۔ بظاہر امریکہ کی نئی افغان پالیسی میں اس تجویز کو مستردکردیا گیا تھا کیونکہ پنٹاگون کے تجربہ کار جرنیلز اس تجویز کے حق میں نہیں تھے حالانکہ ایرک پرنس کا دعوی تھا کہ صدر ٹرمپ ان کی تجویز کے حامی ہیں ۔ اور نئی افغان پالیسی کے تحت افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کی تجویز کی منظوری دیدی گئی تھی جو کہ صدر ٹرمپ کے انتخابی نعروں سے یکسر مختلف اقدام ہے ۔ لیکن دوسری جانب افغانستان میں ایک طرح سے اس نجی ملیشیا کا جو تصور سامنے آیا ہے اس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ ایرک پرنس کی تجویز کو یکسر مسترد نہیں کیا گیا تھا۔ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ تعمیر نو کے نام پر افغانستان کی مالی اعانت کا سلسلہ اب مذید جاری نہیں رکھا جاسکے گا کیونکہ تعمیر نو امریکہ کی ذمہ داری نہیں اس کے لئے خود افغان حکومت کو اپنے طور پر اقدامات کرنا ہوں گے بلکہ دفاع کے لئے افغانستان کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا ۔شائد اسی تجویز کا نتیجہ ہے کہ افغان حکومت نے ایک نجی ملیشیا تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ افغان صدر اشرف غنی کہ چکے ہیں کہ افغان فوج کی تنخواہیں اور مراعات بہت زیادہ ہیں جو افغان معیشت پر اضافی بوجھ ہے ۔ جب تک امریکی خزانے کا منہ افغان حکومت کے لئے کھلا تھا فوجیوں کی تنخواہوں پر اٹھنے والے اس بھاری اخراجات کی کسی کو پرواہ نہ تھی لیکن نئی پالیسی کے تحت امریکی امداد کی اب یہ بہتی گنگا بند ہونے کو ہے تو سب سے پہلے ضرب بھاری فوجی اخراجات پر ہی پڑیں گے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ یعنی نئی ملیشیا یہ توقع نہ کرے کہ اسے فوجی خدمات کے عوض بھاری تنخواہیں ملیں گی کیونکہ امریکی امداد کی شکل میں ملنے والی خطیر رقم کی ترسیل رکنے کے بعد افغان حکومت کے پلے ہوگا کیا کہ وہ فوجیوں کو ادا کریں گی ،یعنی ان کا معاوضہ تو واجبی سا ہی ہوگا لیکن پھر اس کے بدلے توقع ہے کہ انھیں مراعات کی شکل میں اوپر کی کمائی کی اجازت ہوگی بالکل اسی طرح جس طرح انگریزوں نے انڈیا پر حکمرانی کرتے ہوئے انڈین ٹیرٹیوریل آرمی کا تصور دیا تھا جنہیں وردی پہنادی گئی تھی اور ہاتھوں میں ڈنڈے تھمادئیے گئے تھے اور ان کی اوپر کی کمائی پر کوئی قدغن نہیں لگائی تھی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں کیا گیا یہ تجربہ کوئی خوشگوار یادگار نہیں چھوڑ گیا ۔ یہ مسلح ملیشیا یا مسلح جھتے معاشرے میں بدامنی و خوریزی میں اضافے کا باعث ہی رہے اور افغانستان جیسے قبائلی معاشرے میں جہاں ہر قبائلی سردار کے پاس پہلے ہی ایک پرائیویٹ ملیشیا موجود ہوتی ہے وہاں ان کے درمیان تصادم اور خون ریزی کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ابھی افغانستان میں یہ ملیشیا تشکیل کے مراحل میں ہے لیکن دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار شروع کردیا ہے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ویب سائٹ پر ملیشیا کی تجویز پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور مجوزہ تجویز کی نیٹو کی جانب سے حمایت کی بھی مذمت کی ہے ہیومن رائٹس واچ کی رہنماپیڑیشیاگوسمین نے کہا ہے کہ مجوزہ تجویز کے تحت نوجوانوں کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ تھما کر انھیں کھلی چھوٹ دینے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ اس طرز کی فوج سے طاقت کے غلط استعمال کا احتمال ہے ۔

پیڑیشیا کے مطابق اس غیر ضروری اور انتہائی ہلاکت خیز تجربے سے نیٹو کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کو چاہئے کہ وہ افغان فوج کی تربیت پر توجہ دے اور ان کے افسران کو قانون کے احترام کا درس دے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مجوزہ ملیشیا کا کنٹرول عملًا مقامی مافیا اور قبائلی سرداروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا جس کے بعد یہ قوت حکومت کی عملداری قائم کرنے کی بجائے نو گو ایریا کو وسعت دینے میں صرف ہوگی ۔ کم و بیش یہی حکمت عملی طالبان نے بھی اپنائی ہوئی ہے اور وہ مختلف علاقوں کو نو گو ایریا میں تبدیل کردیتے ہیں جہاں حکومت کی عملداری قائم نہیں رہتی ۔ اسی طرح عراق میں سنی ملشیا نے کیا تھا جہاں انھوں نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرکے اسے نو گو ایریا میں تبدیل کردیا تھا جس کے جواب میں شیعہ ملیشیا وجود میں آیا اور انھوں نے بعض دیگر علاقوں پر اپنا قبضہ قائم کرکے اسے دیگر لوگوں کے لئے نو گو ایریا بنادیا۔ بعد میں کرد ملیشیا نے بھی یہی کچھ کیا ، خود صدام کے حامیوں نے تکریت میں ملیشیا کی شکل اختیار کرلی اور القاعدہ کی باقیات فلوجہ میں منظم ہوئیں ۔ اس طرح عراق کئی اکائیوں میں بٹ کر رہ گیا ہے اور اس کی وحدت پارہ پارہہوگئی اور یہ ہنستا بستا ملک سنی عراق۔ شعیہ عراق اور کردستان میں تقسیم ہوچکا ہے ۔ نسلی اعتبار سے افغانستان میں بھی درجنوں لسانی اکائیاں آباد ہیں ان ملیشیائوںکی تقسیم سے افغانستان تقسیم ہوکر رہ جائے گا اور ان کے درمیان خونریزی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائیگاجس کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved