حَذَ ر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!
  22  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭چل سو چل: میاں نوازشریف ، دونوں بیٹوں اور بیٹی کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پاکستان میں تمام اثاثے منجمد، کسی دوسرے شخص کو منتقل بھی نہیں ہوسکتے۔ اسحاق ڈار کے تمام بنک اکاؤنٹ بھی منجمد ! صرف ایک بنک میں 56کروڑ روپے نقد پڑے ہیں۔ کاش ان لوگوں نے علامہ اقبال کاوہ ایک شعر ہی پڑھ لیاہوتاہے کہ ''تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے، حَذَ ر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!'' ۔ عبرت، صَد عبرت ! ایک ماہ پہلے تک شاہانہ ٹھاٹ اور اب ملک سے باہر پناہ گزین ! واپس آنامشکل ہورہاہے کہ واپس آئے تو گھر تک پہنچنا ممکن نہیںہوگا۔ ایئر پورٹ کے اندر ہی قانون اپنی لپیٹ میں لے لے گا! الامان ! الامان! کل تخت آج تختہ ! فیض احمد فیض نے بھی تو کہا ہے کہ ''لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے،وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، … جب تاج اچھالے جائیں گے، جب تخت گرائے جائیں گے!'' اوریہ دن بہت سے دوسروں پربھی آنے والا ہے۔ان پر بھی جو اس وقت بہت بول رہے ہیں، پورا منہ کھول کردوسروں کو للکار رہے ہیں! کیسے کیسے لوگ ! کہاں سے شروع ، کہاں پہ ختم! شریف خاندان بھارت کے ایک دیہات سے آیا، نشترروڈ(پرانی برانڈرتھ روڈ) پر بارہ فٹ، آٹھ فٹ کی دکان سے زندگی شروع کی۔ اب پاکستان میں31 فیکٹریاں ، ہزاروں ایکڑ اراضی، فارم ہاؤس اور بیرون ملک!ایک بیٹے کی اربوں کھربوں کی سٹیل ملز، دوسرے بیٹے کاصرف ایک گھر چھ ارب روپے کا! اسحاق ڈار ایک سکوٹر پر پھراکرتاتھا۔ اس وقت دبئی میں اربوں کا شوروم ، پلازے! پاکستان میں صرف ایک بینک میں56کروڑ روپے! ابھی توآصف زرداری کا بھی حساب کتاب سامنے آنے والا ہے۔ کراچی کی ایک عمارت کے ایک کونے میں واقع بمبینو نام کا ایک چھوٹاسا سینماگھر! عام مشہور ہے کہ موصوف وہاں اپنے سنیما گھر کی ٹکٹیں بلیک میں بیچا کرتے تھے، اب مبینہ طورپراندرون وبیرون ملک ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی، 87 بڑ ے بڑے کاروبار،سوئس بینک میں اربوں کا اکاؤنٹ ، صرف امریکہ میں 37 کاروبار ،ٹیکساس میں سٹڈ فارم،دبئی میں چاربلند پلازے ، شارجہ میں فارم ہاؤس! اپنی تعلیم نان گریجویٹ اور ملک کا صدر بن گئے!! ٭لاہو ر ہائی کورٹ نے 17جون2014ء کو ماڈل ٹاؤن میں پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے عوامی تحریک کے14افراد کے سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لانے کا حکم جاری کردیا۔ یہ تحقیقات جسٹس باقر رضوی نے کی تھیں۔ یہ رپورٹ حکومت پنجاب نے عام نہیں ہونے دی تھی اور اسے خفیہ قرار دے کر چھپا رکھا تھا۔ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے باربارتقاضوں کے باوجود حکومت پنجاب اسے سامنے نہیںلارہی تھی۔ اس کامؤقف تھاکہ یہ تحقیقات حکومت نے اپنے طورپر کرائی ہیں، انہیں عام کرناضروری نہیں۔ عوامی تحریک کا مؤقف تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ میں پنجاب پولیس کے علاوہ حکومت کے بعض اہم وزراء اور اہم حکام کو ذمہ دار قراردیاگیاہے۔ بہرحال تین سال تین ماہ کے بعد بالآخر لاہورکے جج جسٹس مظاہر حسین نقوی نے اسے عام کرنے کا حکم جاری کردیاہے۔ فی الحال مختصر فیصلہ دیاگیا ہے۔ تفصیل بعد میں آئے گی۔ اس رپورٹ کے منظر پر آنے سے نئی سنسنی اور تہلکہ مچ سکتا ہے! ظلم کوکہاں تک چھپا یا جاسکتا ہے؟ ٭ایک خبر ! پنجاب کے گورنر رفیق رجوانہ ایڈووکیٹ نے بیرون ملک علاج کے لیے 38 ہزار پونڈ ( تقریباً50لاکھ54 ہزار روپے) طلب کر لئے ہیں۔ صوبائی حکومت خزانہ کو بھیجے جانے والے مراسلہ میں یہ نہیں بتایاگیا کہ گورنرصاحب کو کون سی ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہے، جس کا پاکستان میں علاج نہیں ہوسکتا؟ شریف خاندان کے لاہور میں دو بڑے اور جدید ہسپتال ہیں مگراُن کاایکسرے بھی صرف لندن میں ہوسکتا ہے! چودھری شجاعت حسین کی آنکھوں کا معائنہ صرف جرمنی میں ممکن ہے۔ ( سپین میںاربوں کے کاروبار کی نگرانی لاہور بیٹھ کر کیسے ہوسکتی ہے؟) ۔آصف زرداری کے بطور صدر بعض دماغی معاملات کا معائنہ دبئی کے ایک بڑے ہسپتال کے ایک پورے فلور میں 14 روز تک ہونا ضروری تھا۔ بے نظیر بھٹو کے ہاں بچی کی پیدائش لندن میں ہی ہو سکتی تھی۔ لندن اور دبئی میں معمولی معائنہ بھی لاکھوں میں پڑتا ہے ( ایک پونڈ= 133 روپے) مگر ملک کے خزانے ی بہتی گنگا میں اب پنجاب کے گورنرہاتھ دھو رہے ہیں تو حیرت کیسی! قوم کے خون پسینے سے جمع ہونے والے خزانے سے فیض اٹھانے کا موقع پھر کب آئے گا! ٭ عمران خاں نے دو روز قبل حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری اور بلاول کی جس انداز میں ''شان'' بیان کی تھی اس پر پیپلز پارٹی کی قیادت کا آپے سے باہر ہونامنطقی بات تھی۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں عمران خاں کی ذاتی زندگی کے بعد پہلوؤں کی جس انداز میں ''تعریف و توصیف'' کی گئی وہ پڑھنے سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ مجھے ایک بات خاص طورپر قابل توجہ دکھائی دی ہے کہ عمران خاں آئندہ سندھ میں آئے تو انہیں انڈے( وہ بھی گندے) اور ٹماٹر پڑیں گے۔ یہ بات کہتے ہوئے پیپلز پارٹی والوں نے غالباً سوچا نہیں کہ ٹماٹر ان دنوں 150 روپے کلو بک رہے ہیں۔ اور انڈے بھی100 روپے درجن سے زیادہ تک جاچکے ہیں۔ سو یہ کام کافی مہنگا پڑ سکتا ہے۔ کوئی سستا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مجھے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی لاہورمیں ایک جلسہ میں تقریر یاد آگئی ہے۔ جلسہ میں کسی مخالف فریق نے بھٹو کو جوتیاں دکھائیں۔ بھٹو بولے کہ ''ہاں! ہاں! میں جانتا ہوں جوتے بہت مہنگے ہو گئے ہیں، انہیں بھی سستا کریں گے!'' جوتے دکھانے والے خود قہقہے لگانے لگے!

٭ لاہور کی قدیم ترین انجینئرنگ یونیورسٹی کے سنڈیکٹ نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو اعزازی ڈاکٹریٹ ، پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کااعلان کیا ہے۔ احسن اقبال نے 36 سال پہلے،81ء میں ا س یونیورسٹی سے میکینکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی تھی۔ یونیورسٹی کے اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وزیرداخلہ کو انجینئرنگ کے کس بڑے کارنامے پر یہ ڈگری دی جارہی ہے؟36 برسوں کے بعد یہ اعزاز کیوںیاد آیاہے؟ اس قسم کی ڈگری تو میاں نوازشریف کے پاس بھی ہے۔ ( کس خدمت پر ملی ؟) ۔بابراعوان نے بھی ایک عرصہ نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا، پھر ایک 'انکشاف' ہونے پر ڈاکٹر لکھنا چھوڑ دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں مارشل لاء لگایا۔ 1980ء میں پنجاب یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دی۔( وہ بی اے پاس بھی نہیں تھا) ۔ میں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر خیرات ابن رسا سے پوچھا کہ یہ ڈگری کس بناپر دی گئی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ جنرل ضیاء الحق نے یونیورسٹی کو ایک کروڑ روپے کی گرانٹ دی ہے۔ ہم نے پی ایچ کی ڈگری دے دی۔ میرے منہ سے استغفار نکل گیا۔ وائس چانسلر بہت ناراض ہوا۔میرا یونیورسٹی میں داخلہ بند کردیا مگر ضیاء الحق نے کبھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھا، نوازشریف نے بھی نہیں لکھا( شرم آتی ہوگی!)۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved