ہمیشہ پریشان رہنا۔ پاکستانیوں کا مقدر نہیں ہے
  22  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں ذہنی اور روحانی طور پر ابھی وہیں ہوں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے مہمان کے طورپر بلایا تھا۔ اس لیے مجھے ابھی کوئی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے کہ کلثوم نواز صاحبہ کو وزیراعظم بنایا جائے یا شاہد خاقان عباسی صاحب کو ہی رہنے دیا جائے۔ شخصیات آنی جانی ہوتی ہیں۔ کچھ اوپر چلی جاتی ہیں۔ کچھ زندہ رہتے ہوئے بھی بے معنی ہوجاتی ہیں اصل تو ادارے ہیں۔ مملکتیں ہیں۔ جو شخصیتیں ادارے بنا جاتی ہیں۔ اداروں کے ساتھ وہ بھی امر ہوجاتی ہیں۔ آئین بنانے والے۔ ایٹم بم کی بنیاد رکھنے والے۔ ملک کو صنعتی بنیادیں فراہم کرنے والے سب کو یاد رہتے ہیں۔ اور وہ جو صرف اپنی ذاتی سلطنت کو بڑھاتے ہیں۔ وسیع تر کرتے ہیں۔ انہیں صرف ان کے متاثرین اور ستم زدگان یاد رکھتے ہیں ۔ کتنے قارون۔ ہامان۔ دائود۔ سہگل۔ آئے چلے گئے۔ جہاں جاتا ہوں۔ ان سوالات کا سامنا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف عدالتوں میں جائیں گے۔ ان کے خلاف مقدمات چلیں گے۔ عدالتی فیصلے کا کیا فائدہ ہوا۔ حلقہ 120 سے تو پھر نواز شریف ہی جیت گئے۔ عوامی فیصلہ عدالتی فیصلے کے خلاف آیا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ چند برس پہلے جمشید دستی بھی عدالت سے نااہل ہوئے تھے۔ مگر پھر الیکشن جیت گئے تھے۔ وہ تو اکیلے تھے۔ یہاں تو صوبائی حکومت بھی ان کی۔ وفاقی حکومت بھی۔ خود حکومت اگر عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے تو عدلیہ کیا کرے گی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے سادہ لوح عوام لٹ رہے ہیں۔ ان کی فی کس آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ ان کے بیٹے بیٹیاں بے روزگار پھر رہے ہیں۔ ان کے بزرگ بچے بیمار پڑجائیں تو ہسپتالوں میں بستر نہیں ملتے۔ دوائیں نہیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ نواز شریف کا دور ہو۔ یا زرداری کا۔ شہباز شریف وزیراعلیٰ ہوں۔ یا مراد علی شاہ۔ سرکاری درسگاہیں ویران پڑی ہیں۔ 70 سال بعد بھی ایک بے یقینی ہے۔ بے بسی ہے۔ کسمپرسی ہے۔ پھر بھی غلام اپنے اپنے آقائوں کے گن گا رہے ہیں۔ ان شہزادوں شہزادیوں کے ناز اٹھاتے ہیں۔ ان لٹیروں کے قدموں میں بیٹھنا اپنے لیے باعث عزت خیال کرتے ہیں۔ اچھی حکمرانی کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ ہوں۔ انہیں پیدل چلنے کے لیے اچھے فٹ پاتھ ملیں۔ گھر سے دفتر۔ کارخانے جانے اور آنے کے لیے آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ میسر ہو۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے ریل۔ یا بس آسانی سے صاف ستھری سواری کے ساتھ مل سکے۔ بیمار پڑ جائیں تو سارا خرچہ مملکت برداشت کرے۔ اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ ٹیکس بھی دے رہے ہیں۔ سیلز ٹیکس بھی۔ مزید ٹیکس لگ رہے ہیں۔ ٹیکس بھی تنخواہ دار مڈل کلاس دے رہی ہے۔ ارب پتی۔ کھرب پتی یہ ٹیکس بھی بچا لیتے ہیں۔ ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا یہ ملک اسی طرح چلے گا کیا ہمارے نوجوان اسی طرح باہر جانے کی خواہش لیے سفارت خانوں کے باہر قطاروں میں لگے رہیں گے۔ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی رہے گی۔ یہی نوجوان کسی غیر ملک میں جاتے ہیں تو ان کی صلاحیتیں اس ملک کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔ آخر اس ملک میں کیا نہیں ہے۔ پانی وافر۔ مٹی بے بہا۔ سونا تانبا۔ قیمتی پتھر۔ گیس تیل۔ زرخیز زمینیں۔ بتائیں کسی نواز شریف نے کسی زرداری نے کسی عمران نے کسی مولانا فضل الرحمن نے کوئی ایسا خواب دیا ہے۔ وژن دیا ہے کہ ہم2020ء ۔ 2025ء یا 2030ء کے بعد غیروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو وسائل دیئے ہیں۔ ان کو بروئے کار لائیں گے۔ ہر ملک اپنا ایک وژن تشکیل دیتا ہے۔ اپنے عوام کو اعتماد میں لیتا ہے۔ سعودی عرب ایک بادشاہت ہے۔ لیکن وہ بھی روئیہ۔ 2030ئ۔ یا وژن 2030ئ۔ عوام کے سامنے لائے ہیں۔ آئندہ کسی کالم میں اس کی تفصیل بتانے کا ارادہ ہے۔ ابھی میں خود اس کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ بہت ہی ولولہ انگیز پروگرام ہے۔ 20 کروڑ آبادی۔ جس میں سے 60فیصد نوجوان۔ اہم اور حساس جغرافیائی حیثیت۔ بے حساب معدنی وسائل۔ انتہائی ذہین اور محنتی آبادی چین کے 45 ارب ڈالر۔ اگر ان سب کے ہوتے ہوئے کوئی لیڈر اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں نہ لے جاسکے۔ اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں ہے نہ دشمنوں کی سازش۔ بلکہ یہ لیڈروں کی نااہلی ہے۔ اس حوالے سے ان کے پیروکاروں۔ ووٹروں اور حامیوں کی بھی نااہلی کہ وہ جن کو اپنا لیڈر منتخب کرتے ہیں۔ ان پر سیدھے راستے پر چلنے کے لیے دبائو نہیں ڈالتے۔ تان یہیں پر ٹوٹتی ہے۔ کہ ہم بادشاہوں۔ رجواڑوں کے وارث ہیں۔ جاگیرداروں۔ رئیسوں کے غلام ہیں۔ مخدوموں پیروں۔ گدی نشینوں کے مرید ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی۔ سمارٹ فون رکھتے ہوئے۔ اکیسویں صدی کے ہوتے ہوئے ہم اپنے ان آقائوں کی لوٹ مار ان کی حرکات پر آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ ان کے بیٹے بیٹیوں کو شہزادے شہزادیاں سمجھتے ہیں انہیں کسی بھی احتساب سے ماورا خیال کرتے ہیں۔ کوئی جاگیردار۔ سرمایہ دار۔ سردار اپنے علاقے میں کالج یونیورسٹی نہ قائم کرے۔ علاج معالجے کی سہولتیں فراہم نہ کرے۔ اس کا گریبان پکڑنا تو کیا اس کی کچہری میں جوتے اتار کر نیچے بیٹھنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ووٹ کو ہم اسی کی امانت خیال کرتے ہیں۔ اپنی قیمتی رائے نہیں۔

چلئے۔ میں نے آپ کو۔ اپنے آپ کو بہت مایوس کرلیا۔ اب بات کرتے ہیں حل کی۔ یہ ہمارا مقدر نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہمیشہ کے لیے نہیں لکھا گیا کہ وہ ان نااہلوں کی غلامی کرتے رہیں۔ علاج کے لیے تڑپتے رہیں۔ ضرورت ہے پورا ڈھانچہ بدلنے کی۔ جاگیرداروں۔ سرداروں۔ سرمایہ داروں مذہبی سوداگروں نے پارلیمنٹ کو یرغمال بنا لیا ہے۔ 1973ء کے آئین کو بھی اپنے استحصال اور اپنی اجارہ داری کے لیے تبدیل کرلیا ہے۔ اس آئین اور اس نظام کے ہوتے ہوئے ملک کے اصل مالک یعنی کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیاں آسان نہیں ہوسکتیں۔ سارے وسائل پر چند سو گھرانوں کا قبضہ ہے۔ وہ مختلف پارٹیوں کی طرف سے منتخب ہو کر آتے رہتے ہیں۔ ایک طویل عبوری وقفے کی ضرورت ہے۔ میری کسی جنرل سے بات ہوئی ہے نہ جج سے۔ نہ پارٹی سربراہ سے۔ اپنے طویل تجربے مشاہدے اور وسیع مطالعے کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔ کہ ایک غیر سیاسی۔ غیر فوجی۔ صرف ٹیکنو کریٹس۔ یعنی اقتصادی۔ سماجی۔ تعلیمی۔ ٹیکنالوجی۔ انجینئرنگ کے ماہرین کی عبوری حکومت ۔ جو اس سارے سسٹم کا جائزہ لے۔ جہاں جہاں اونچ نیچ ہے۔ اسے دور کرے۔ قانون سب کے لیے یکساں اپنے وسائل کا مکمل استعمال۔ چاہے وسائل مقامی ہوں۔ صوبائی یا قومی۔ اپنی قومی زبان کو مکمل دفتری زبان بنانے کے لیے قانون سازی کرے۔ زمینوں پر قبضہ چاہے کوئی فرد کرے۔ حکومت یا ادارے۔ اس کا بھی جائزہ لے۔ پارٹی سربراہوں کو آمرانہ اختیارات دینے والی ترامیم ختم کی جائیں۔ سرکاری اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کا وقار اور معیار بحال کیا جائے۔ تعلیم کو تجارت بنانے والے تمام اسکولوں۔ کالجوں یونیورسٹیوں پر پابندیاں لگائے۔ اپنی آمدنی سے بالا بالا رہائشیں۔ گاڑیاں رکھنے والوں کی تمام منقولہ غیر منقولہ جائیدادیں بحق مملکت ضبط۔ غیر ممالک کے بینکوں سے سارا سرمایہ واپس لانے کے لیے قانون سازی۔ یہ جب تک نہیں ہوگا۔ پاکستانی اسی طرح بے بس اور بے کس رہیں گے۔ پاکستان اسی طرح ایک بیمار مملکت رہے گا۔ موجودہ نظام۔ انتخابی طریقِ کار سے کبھی بھی اچھے پاکستانی پارلیمنٹ میں نہیں آسکیں گے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجیے۔ 0333-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved