امریکابھارت دوستی کاانجام
  23  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ڈونلڈٹرمپ کے دھمکی آمیزروّیے پردوست ممالک روس اورچین کی جانب سے پاکستان کی مکمل حمائت اوراسلام آبادکے پہلی مرتبہ عسکری اورسول حکومت کے غیرلچکدار اورسخت ردّ عمل نے امریکامیں کھلبلی مچادی ہے۔ امریکی پالیسی سازاورکئی بین الاقوامی سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں نے وائٹ ہاؤس کومتنبہ کیاہے کہ اگرپاکستان نے تعاون سے ہاتھ کھینچ لیا توافغانستان میںعسکری اخراجات اس قدربڑھ جائیںگے کہ امریکی معیشت کیلئے خطرہ کی ایسی گھنٹی بج جائے گی جس کے بعدامریکاکو سابقہ سوویت یونین جیسی صورتحال کا سامنا کرناپڑے گا۔ٹرمپ انتظامیہ کواس بات کا بھی خدشہ بڑھ گیاہے کہ پاکستان کی شمولیت سے خطے میں روس اورچین کی قیادت میں نیابلاک سامنے آسکتاہے ۔اسی تناظرمیں معاملات درست کرنے کیلئے ہنگامی طور پر نائب امریکی وزیرخارجہ ایلس ویلزنے پاکستان کادورۂ کرکے پاکستان کاغصہ ٹھنڈاکرنے کیلئے آنے کی خواہش کااظہارکیاجس پر پاکستان نے فی الحال معذرت کرلی اوراپنے قریبی دوستوں سے مشاورت کیلئے وزیرخارجہ خواجہ آصف نے چین ،ایران اورترکی کودورۂ کرکے اعلیٰ حکام سے اپنی مشاورت مکمل کرکے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستانی وزیراعظم خاقان عباسی کی معیت میں امریکاچلے گئے ہیں جہاں متعلقہ اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات میں اس نئی صورتحال پرتفصیلاً بات ہوگی کہ اب آئندہ پاک امریکاتعلقات زمینی حقائق کی بنیادپرکن شرائط پراستوارہوں گے۔ مبصرین کاکہناہے کہ حالیہ صورتحال میں پاکستان کوبہترین موقع ملاہے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کومزیدوسعت دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں اپنے روابط بڑھائے ،اگر پاکستان،روس اورچین کے ساتھ مل کرتین ایٹمی طاقتوں کابلاک بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تونہ صرف پاکستان امریکی دباؤسے نکل آئے گابلکہ اقتصادی طورپربھی پاکستان کو فائدہ ہوگا۔امریکی ٹی وی بلوم برگ کوپاکستانی وزیراعظم نے اپنے ایک انٹرویومیں متنبہ کیا کہ ہم پہلے دن سے ٹرمپ کومشورہ دے رہے ہیں کہ افغانستان میں مزیدفوج بھیجنے اورموجودہ جارحانہ پالیسی سے امریکا کوخطرناک مسائل کاسامناکرناپڑے گا۔افغانستان میں جوکچھ بھی ہورہاہے ،وہیں سے ہوتاہے اوراس مقصدکیلئے ہماری سرزمین استعمال نہیں ہورہی بلکہ ہم نے توکابل کی معیشت کومستحکم کیاہے۔افغان مسئلے کاحل سیاسی ہے جس کیلئے اشرف غنی حکومت کوخودآگے بڑھ کرطالبان کے ساتھ مذاکرات کرناہوں گے ۔ اس مقصدکیلئے ہم بھی تعاون کیلئے تیارہیں اوردہشتگردی کے خلاف ہماری حمائت غیرمشروط ہے لیکن افغان طالبان کوان کے جائزمطالبات پرمجبورنہیں کیاجاسکتا۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جو شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ،امریکاکونہ صرف اس کااعتراف کرناچاہئے بلکہ غیرمناسب الزامات سے گریزکرناچاہئے۔ حقیقت تویہ ہے کہ اب افغانستان میں بھارت کے توسط سے دہشتگردی کے مراکز کام کررہے ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات رونماہوتے ہیں جس کے ٹھوس شواہدکئی بارامریکاودیگرمغربی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کوبھی فراہم کرچکے ہیں۔پاکستانی امریکا سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھارت کو اس مجرمانہ فعل سے سختی سے منع کرے نہ کہ وہ پاکستان کے خلاف بھارت کی پیٹھ تھپکے۔یادرہے کہ اس خطے میں پچھلی سات دہائیوں میں پاکستان نے امریکاکی دوستی کیلئے بے شمار قربانیاں دیں ہیں اوراسی افغان جنگ میں پاکستان کے تاریخی کردارکی بناء پرہی امریکاواحدسپرپاوربناہے جس کے جواب میں پاکستان اب تک ایک سوبیس ارب ڈالرکے خطیرمالی نقصان کے علاوہ ٠٧ہزارجانوں کی قربانیاں دے چکا ہے ۔اب پاکستانی سپہ سالار نے یوم دفاع کے موقع پراپنے خطاب میں پاکستانی قوم کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے ''نومور''اور اقوام عالم سے''ڈومور''کامطالبہ کیاہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے بھی اپنے انٹرویومیں کہاہے کہ ''ہم نے اتحادی بن کربہت زیادہ نقصان اٹھایاہے،اگرامریکاکوہم پریقین نہیں توافغان مہاجرین کی واپسی کا بندوبست کرے اورخطے میں اپنی ٦١سالہ ناکامیوں کاملبہ پاکستان پرمت ڈالے۔افغان فوجی طالبان کوامریکی اسلحہ فراہم کرتے ہیں جبکہ اس وقت پاکستا ن کے قیام امن کیلئے دولاکھ فوجی دہشتگردوں کے خلااف شب وروزاپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔امریکاگزشتہ سترسال سے پاکستان کابااعتمادساتھی رہاہے جبکہ ہم نے بہت زیادہ نقصان اٹھایاہے لیکن امریکی قیادت کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات پرانتہائی تعجب اورافسوس ہے۔ہم امریکاسے تعلقات برقراررکھ کرغلط فہمیاں دورکرناچاہتے ہیںجس کیلئے اب امریکا کو پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی اشدضرورت ہے اوریہ امن اسی صورت واپس آسکتاہے جب امریکازمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں اورکردارکوتسلیم کرے''۔ امریکااس بات کاکئی مرتبہ اعتراف کرچکاہے کہ افغانستان کے چالیس فیصدسے زائدعلاقوں پرافغان طالبان کاقبضہ ہے اورپاکستان پر٠٩فیصد سے زائد حملے افغانستان کے ان علاقوں سے ہوتے ہیں جہاں امریکی فوج کی مددسے اشرف غنی کی حکومت ہے۔ اشرف غنی،امریکی فوج اوروائٹ ہاؤس کوبھی اس بات کاعلم ہے کہ ان دہشتگردوں کوبھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ہم نے پاک افغان سرحدکومحفوظ بنانے کیلئے عملی اقدامات کرتے ہوئے سرحدی باڑاور سیکورٹی فورسزکی پوسٹیں قائم کرنے کاآغازکردیا ہواہے لیکن اس کے برعکس حال ہی میں افغانستان میں موجودامریکی جنرل نے طالبان رہنماؤں کی پشاوراورکوئٹہ میں موجودگی کاشوشہ چھوڑتے ہوئے داعش کاتعلق بھی پاکستان سے جوڑنے کی مضحکہ خیزکوشش کی ہے۔ پاکستانی عوام نے دہشتگردوں کے ہاتھوں شدیدنقصان اٹھایاہے، ان کی سیکورٹی فورسزنے دہشتگردی کے خلاف جنگ بہت بہادری اورحوصلے سے لڑی،ہم اس کااحترام کرتے ہیں اوراس وقت دہشتگردوں اورعسکریت پسندوں کی حمائت میں کافی کمی آئی ہے تاہم اسے ختم ہوناچاہئے۔ امریکی کمانڈر کا کہنا تھاکہ افغانستان کے مسئلے کاسفارتی حل ممکن ہے لیکن ملک میں جاری فوجی کوششیں جاری رہیں گی اورامریکاافغانستان میں فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ میری توجہ توافغانستان میں جاری سرگرمیوں پرمرکوزہے لیکن دیگرحکام پاکستان میں موجودان دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے معاملات کودیکھ رہے ہیں۔ ہم امریکاپرحملہ روکنے کیلئے افغانستان میں موجودہیں،یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعدامریکاپرکوئی بڑاحملہ نہیں ہوا،طالبان کی حکومت اس لئے ختم کی گئی کہ انہوں نے القاعدہ اوردیگردہشتگردوں کوپناہ دی ، القاعدہ اور طالبان ہنوزمیدانِ جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔افغانستان میں طالبان کی واپسی القاعدہ کی واپسی ہے اورالقاعدہ کی واپسی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

دراصل امریکاافغانستان میں اپناقیام بڑھانے کیلئے ایسی بودی منطق کااظہارپہلے بھی کرچکاہے۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدارنے اس سے پہلے افغانستان کے معدنی ذرائع پراپنے قبضے کی خواہش کابرملااظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ افغان جنگ میں امریکاکی لاگت وصول کرنے کایہ واحدذریعہ ہے جبکہ امریکایہ جان چکاہے کہ اس خطے میں تین دہائیاں پہلے سوویت یونین کوشکست فاش دینے اوراس کے ٹکڑے کرنے کے بعدجوسبقت امریکاکوحاصل ہوئی ہے، اس کے نہ صرف ختم ہونے بلکہ اس خطے سے دیس نکالادینے کاوقت آن پہنچاہے۔اب اس خطے میں تین ایٹمی قوتوں کے اشتراک سے جوبلاک بننے جارہاہے،اس کے بعدعالمی سطح پرنہ صرف عسکری بلکہ معاشی برتری کاامریکی تکبرختم ہوجائے گااوراس وقت امریکی ڈالروں کے توسط سے جس عالمی تجارت سے یومیہ دوسوملین ڈالرکاکمیشن امریکی خزانے میں جارہاہے،اس کارخ بھی ڈالرکی بجائے کسی اورعالمی کرنسی میں تبدیل ہوجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کی آگ میں بھارت کوبھی ایندھن کے طورپراستعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گاکیونکہ یہ امریکاکی سرشت میں ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنے دوستوں کواستعمال کرکے ان کی ''بلی''چڑھانے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved