جعلی ان کاونٹر
  23  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی 1931سے شروع ہوکر اب تک جاری ہے اس تحریک میں کم از کم 1947سے لے کر اب تک بارہ لاکھ کشمیری مسلمانوں نے اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کیا ہے، جموں میں 1947-48کے دوران ہندوئوں نے کم از کم پانچ لاکھ کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا تھا، اتنی بڑی قتل وغارت گری مقبوضہ کشمیر میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، لیکن اسکے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں، وہ آج بھی اپنے سیاسی آئینی اور ثقافتی حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، یہ خالصتاً مقامی تحریک ہے جسکو بھارت پاکستان سے ملانے کی کوشش کررہاہے، حالانکہ آزاد کشمیر کے راستہ مقبوضہ کشمیر جانے کے تمام راستے بند ہیں، بھارت کی قابض فوج نے چوکیاں قائم کررکھی ہیں، اسلئے کسی بھی فرد کا پاکستان کے راستے وہاں جاکر تحریک میں شامل ہونا نا ممکن ہے، تاہم مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کے خلاف جاری تحریک کا ایک بھیانک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں جو کشمیری نوجوان بڑھ چڑھ کر تحریک میں حصہ لے رہے ہیں، ظالم قابض فوج کے خلاف نعرے لگا تے ہوئے ان کا پتھروں سے سواگت کررہے ہیں، انہیں بھارتی فوج کے افسران گرفتار کرکے نہ معلوم مقام پر لے جاتے ہیں، کچھ عرصہ تک ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا ہے اور نہ ہی ان کے لواحقین کو تبایا جاتا ہے کہ وہ کہاں ہیں ، لیکن تھوڑے دن گذر جانے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں کسی ویرانے میں پائی جاتی ہیں، جس میںمعلوم ہوتا ہے کہ انہیں جعلی ان کاونٹر میں قتل کیا گیا ہے، اسکی تازہ مثال شہزاد خان، شفیع لون اور ریاض لون کی ہے، ان تینوں نوجوانوں کو بھارت کے ایک آرمی افسر نے کسی بہانے سے آرمی کیمپ کا لارسو(کپ وارا) میں لے گیا اور بعد میں انہیں انتہائی بیدردی سے جعلی ان کاونٹر میں قتل کردیا گیا، ان پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کی قابض فوج کی ان شہید نوجوانوں سے متعلق الزام کو ماننے کو تیار نہیں ہیں، مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اس واقع کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، خصوصیت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی مخلوط حکومت سے جسکی سربراہ محبوبہ مفتی ہیں جو بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے جائز وناجائز مطالبات ماننے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں، انہیں اس بات کا ادراک ضرور ہے کہ بھارت کی قابض فوج کشمیری نوجوانوں کو جعلی ان کاونٹر کے ذریعہ قتل کررہی ہے لیکن لب خاموش ہیں، کچھ کہہ نہیں سکتی ہیںاور نہ ہی کابینہ کے اجلاس میں مذمتی الفاظ ادا کرسکتی ہیں،

دوسری طرف گذشتہ اتوارکو بھارت کا وزیراعظم راج ناتھ نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا، اس دن سرینگر میں مکمل ہڑتال رہی تھی، جو اس بات کا اعلان تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ناجائز، غیر قانونی اور غیر اخلاقی تسلط کو قبول نہیں کررہے ہیں اس ہی ہڑتال کے دوران بھارت کی قابض فوج نے تین افراد کو شہید کردیا جن پر یہ جھوٹا الزام تھا کہ انہوںنے چھپ کر سپاہیوں پر گولیاں چلائی تھی، حالانکہ احتجاج کرنے والوں کے پاس کسی بھی قسم کے مہلک ہتھیار نہیں ہیں، وہ ان ظالموں کے خلاف پتھر پھینک کر اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں یہی طریقہ کار فلسطین کے عوام نے بھی اسرائیلی فوج کے خلاف بھی اپنا یا ہوا ہے، اس ضمن میں بھارت کے بعض با ضمیر لکھاریوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جعلی ان کاونٹر کو بھارتی فوج کی بزدلی سے تعبیرکرتے ہوئے مقامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی غیر انسانی سلسلہ کو فو الفور بند کیا جانا چاہئے، ورنہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی مزید تیزی پکڑ سکتی ہے، جسکے سبب وہاں بھارتی فوج کا رہنا مشکل ہوسکتاہے، اسوقت مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنے حصار میں لے کر بے پناہ مظالم ڈھارہی ہے، لیکن ان مظالم کے باوجود کشمیری عوام اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں، تحریک روز بہ روز زور پکڑ رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اسوقت مقبوضہ کشمیر میںقائم مخلوط حکومت کشمیری عوام کے تحفظ کے ضمن میں ناکام ہوچکی ہے، مزید براں لااینڈآڈر کے سلسلے میں اس حکومت نے اپنے مکمل اختیارات بھارت کی قابض فوج کے حوالے کردیئے ہیں، جس نے وادی میں ظلم وجور کا بازار گرم کررکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کسی جگہ بھی امن نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے، بھارت اور پاکستان کے مابین امن کی تمام کوششیں بھی تنازعہ کشمیر کی وجہ سے متاثر ہورہی ہیں، کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے،اس پس منظر میں بھارت کی ایک صحافی خاتون گوری کا ذکر کرنا بھی اشد ضروری ہے جنکو بنگلورکے قریب ان کے گھر کے سامنے تشدد کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا، وہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی انتہا پسند پالیسوں کی شدید مخالف تھیں، ان کی تمام تر ہمدردیاں بھارت کے طول وارض میںبسنے والی اقلیتوں کے ساتھ تھیں جن کے شب روزکے معالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوتے جارہے ہیں، صرف اس سال تقریباً 600مسلمانوں کو گائے رکشاکے جھوٹے وبے بنیاد الزامات لگا کر شہید کردیا گیا ہے، قتل کرنے والوں میں آر ایس ایس کے غنڈے پیش پیش ہیں، جبکہ بی جے پی کی حکومت ان کی ہمت افزائی کرتی رہتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved