پرویز مشرف بنام آصف زرداری
  23  ستمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پرویز مشرف نے اک دم آتش فشانی لاوااُ گل دیا۔ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ چھپ چکی اور نشر ہوچکی ہے۔ واضح الزام لگایا کہ بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کرایا تھا اور بے نظیر کے قتل کا فائدہ اٹھا کر صدر بن گیا تھا۔ یہ کہ آصف زرداری نے بلٹ پروف گاڑی کی چھت کٹوائی اور بے نظیر کو اس میں باہر نکلنے پر زور دیا تھا۔ مزید یہ کہ بے نظیر بھٹو کا موبائل فون گم کرادیااور یہ کہ بے نظیر کا سکیورٹی انچار ج رحمان ملک بے نظیر کے سانحہ کے بعد کیوں بھاگ گیا تھا؟ وغیرہ وغیرہ! جواب میں آصف زرداری کے بیٹے ،بیٹیوں اور سید خورشید شاہ نے سخت رد عمل ظاہر کیااور خود پرویز مشرف کو قاتل قراردیاہے۔ یہ دو'' ذمہ داروں'' کے درمیا ن لفظی جنگ ہے۔ تاریخ معاف نہیں کیاکرتی۔ کتنی ہی دیر ہو جائے حقیقت سامنے آکر رہتی ہے۔ ابھی تو فلم کا ٹریلر آیا ہے، اصل فلم بھی شائد جلد ہی چل پڑے۔ مجھے پرویز مشرف کی ایک بات ضرور وزنی دکھائی دیتی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا فائدہ کس کو پہنچا ؟ اور سید خورشید شاہ کی اس بات میں وزن ہے کہ پرویز مشرف 10سال چپ کیوں رہا؟ اور رائے عامہ کی یہ بات بھی وزنی ہے کہ آصف زرداری نے پانچ سال کی صدارت کے دوران بے نظیر کے قتل کی تحقیقات کیوں نہ کرائیں؟ قارئین خودکوئی نتیجہ نکال لیں۔ ٭وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدر کی درخواست پر اس سے ملاقات کی۔ اس پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی ناراض ہوگئے کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے۔ اس کے نائب صدر سے ملاقات کیوں کی؟ اس سے ہماری توہین ہوئی ہے۔ ربانی صاحب بہت سنجیدہ مزاج مدبر شخص ہیں۔مجھے ان کی اس بات سے اختلا ف ہے ۔ دشمن سے بات چیت کوئی نئی بات نہیں۔ ہم بھارت جیسے ازلی اور اشرف غنی جیسے نادان دشمن سے بات چیت کرسکتے ہیں تو امریکی نائب صدر سے بات کرنے میں کیا ہرج ہے؟ البتہ بات چیت غیرت مند شخص کے طورپربا وقار اور پراعتمادانداز میں ہو نی چاہئے۔1971ء کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بھارت کے وزیراعظم اندراگاندھی سے مذاکرات کے لیے شملہ جانے لگے تو اپنے ساتھ جانے والے تما م وزراء حکام اور صحافیوں کو خاص ہدایات جاری کیں کہ انڈیا جاتے وقت اعلیٰ لباس پہنناہے، انڈیا میں کسی بھی جگہ چلتے، بیٹھتے وقت سرجھکاکرنہیںچلنانہ بیٹھنا، کسی بھارتی شخص سے جھک کرنہیں ملنا۔ کسی کے ساتھ بے تکلف نہیںہونا، نہ ہی یہ ظاہر ہونے دینا ہے کہ کوئی شکست خوردہ شخص کسی فاتح شخص سے ہم کلام ہوتے وقت کوئی شرمندگی یا افسوس ظاہر کررہاہے۔ ان ہدایات پر عمل ہوا تو بھارتی میڈیانے اس بات کو بہت اچھالا کہ پاکستانی وفد کے لوگ یوں اکڑ کر، غرور کا مظاہرہ کر رہے تھے جیسے وہ انڈیا کو فتح کرکے آئے ہیں۔ سو جناب ربانی صاحب! آپ کا حب وطن اورغیرت کا جذبہ بہت قابل تعریف ہے مگر وقت کی مصلحت بھی دیکھنا پڑتی ہے۔ امریکہ سے مستقل دشمنی تو نہیں رکھ سکتے، وہاں کام کرنے والے10لاکھ پاکستانیوں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے! ٭خبر پھیلی کہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی کو گھٹنے میں شدید درد محسوس ہوا ۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد گھٹنے کونارمل قراردے دیا۔ چودھری صاحب آج کل جس شدید ذہنی تناؤ اور غم وغصے کے شکار ہیں، ممکن ہے انہیں پتہ نہ چل رہا ہو کہ درد کہاں ہورہاہے؟ مَیںسکول کے دوران تین سکاؤٹوں کی ایک مزاحیہ قوالی میں شریک ہواتھا۔ اس کے بول تھے '' میرے گوڈے( گھٹنے) میں دردِ جگر ہوگیا ''۔ چودھری صاحب کا گھٹنا تو نارمل ہوگیا۔ خدا کرے اب وہ خود بھی نارمل ہو جائیں! ٭وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جنرل اسمبلی کی تقریر وہی تھی جو میاں نوازشریف نے پچھلی جنرل اسمبلی میں کی تھی۔ البتہ ایک بات نئی تھی کہ '' ہم عدالتوں کا بہت احترام کرتے ہیں''۔ بالکل درست فرمایا۔ پچھلے چندہفتوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں اورججوں کا آپ لوگوں نے جو اعلیٰ درجے کا احترام کیا ہے اور اب تک کررہے ہیں، اس پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ ویسے عباسی صاحب! آپ نے نیویارک روانہ ہونے سے پہلے لندن میں اپنے سیاسی پیشوا کی قدم بوسی کرتے ہوئے فرمایاتھاکہ '' میں پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتا ! '' نیویارک پہنچ کر سوچ بدل گئی؟! ٭ کل 23 ستمبر کو امریکہ کی ایک جیل میں پاکستان کی بے گناہ بیٹی عافیہ صدیقی کی قید کوسات سال پورے ہو رہے ہیں۔ عافیہ کی رہائی کے بارے میں بہت کچھ لکھاجاچکا ہے مگر کسی حکومت نے اس بارے میں دلچسپی نہیں لی۔ چار سال قبل میاں نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد اعلان کیا کہ مریم نواز کی طرح عافیہ صدیقی بھی ان کی بیٹی ہے اسے جلد رہا کرایا جائے گا۔ چار سال سے زیادہ گزر گئے، عافیہ کی رہائی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیاگیا۔ عافیہ ایک امریکی یونیورسٹی سے نیرو سائنس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر واپس آئیں۔نیویارک میں9/11 کے واقعہ کے ملزم خالد شیخ نے اپنے ساتھیوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھی نام لے لیا۔ ان پر محض خالد شیخ کے ساتھ رابطے کا الزام تھا۔ عافیہ کو تین بچوں سمیت اغوا کرلیاگیا۔پانچ سال تک گم شدہ رہنے کے بعد ایک برطانوی صحافی خاتون کے انکشاف پر افغانستان کے شہر بگرام کی امریکی ہوائی اڈے کی جیل میں ان کی موجودگی کا پتہ چلا ۔ ان پر انتہائی ناقابل بیان اور شرمناک تشدد کیاگیا ۔پھر انہیں2008ء میں امریکہ پہنچا دیا گیا جہاں ٹیکساس میں ان پر مقدمہ چلایاگیا۔ ڈاکٹر عافیہ پر آٹھ سنگین الزامات لگائے گئے۔ ان میں امریکہ کے خلاف سازش ، بم تیار کرنے، امریکی فوجیوں پر فائرنگ وغیرہ کے الزامات شامل تھے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے تمام الزامات کی تردید کی اور مقدمہ کا بائیکاٹ کردیا مگر انہیں86 سال قید کی سزاسنادی گئی۔ صرف41کلو گرام کی نہایت دھان پان کمزور عورت پر ایک بھاری رائفل کے ساتھ فائرنگ کا الزام انتہائی مضحکہ خیز تھا۔ ان کی سزا کے خلاف پاکستان میں بہت مظاہرے ہوئے، بہت کچھ لکھاگیا، تین وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اورنوازشریف نے رسمی طورپر پاکستان کی اس بیٹی کی رہائی کے لیے موثراقدامات کا وعدہ کیا مگر عملی طورپر کچھ نہیں کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا یہ الزام اہم ہے کہ عافیہ صدیقی پاکستان میں گرفتاری اور اس کے خلاف مقدمہ کی تیاری میں آصف زرداری کے خاص معتمد حسین حقانی نے اہم کرداراداکیا ہے۔ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دورن یہ مسئلہ بھی اٹھاسکتے تھے اور امریکی حکومت سے بات کرسکتے تھے مگر یہ بھی نہ ہوسکا۔

٭ایس ایم ایس: کور کمانڈر پشاور: گورنر خیبر پختونخوا اور پولیٹیکل ایجنٹ شمالی وزیرستان صاحب کے نام شمالی وزیرستان کے تاجروں حمید اللہ، اکبر علی، محمد ضمیر، اخترجان اور ساتھیوں کی اپیل: ''جناب والا! شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے مکمل امن قائم ہو چکا ہے اور تمام راستے کھل چکے ہیں۔ آپریشن سے پہلے غلام خاں بارڈر پر افغانستان کے ساتھ تجارت ہوتی تھی۔ اس علاقہ کے تاجروں کی اپیل ہے کہ تجارت کا یہ راستہ دوبارہ کھول دیاجائے تاکہ تاجروں کی مشکلات ختم ہو سکیں۔ اس سے سرحد پار بھی اچھے اثرات پیدا ہوں گے''۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved