تمباکو نوشی عالمی معیشت پر سالانہ ایک کھرب ڈالر کا بوجھ بن رہی ہے
  10  جنوری‬‮  2017     |     یورپ
جینوا (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت اور امریکا کے قومی کینسر انسٹیٹیوٹ نے منگل کو شائع کردہ اپنی تازہ مطالعاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمباکو نوشی عالمی اقتصادیات پر سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد کے بوجھ کا باعث بن رہی ہے اور اس سے ہونے والی بیماروں سے اموات کی شرح میں 2030ء تک ایک تہائی اضافہ ہو جائے گا۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر سال 2013 اور 2014 میں تمباکو پر عائد ٹیکسز کی مد میں 296 ارب ڈالر حاصل ہوئے لیکن اس کے منفی اثرات کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو سے ہونے والی بیماریوں سے اموات 60 لاکھ سالانہ سے 2030ء تک 80 لاکھ سالانہ ہونے کا اندازہ ہے اور ان میں سے 80 فیصد کا تعلق کم اور متوسط آمدن والے ممالک سے ہے۔مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس مطالعے میں 70 سے زائد سائنسی ماہرین سے بھی مشورہ کیا گیا اور اس کے مندرجات کا ان سے تبادلہ کیا گیا۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ ہر سال تمباکو نوشی کے باعث ہونے والی بیماریوں کے علاج پر تقریباً ایک کھرب ڈالر کے اخراجات آتے ہیں ۔688 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ان اخراجات کے بڑھنے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گو کہ حکومتوں کے پاس تمباکو نوشی اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی کے لیے ذرائع موجود ہیں لیکن ان میں سے بہت ہی کم پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 

رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved