برطانوی طبی ماہرین کا دانتوں کے علاج کیلئے نیا طریقہ دریافت
  10  جنوری‬‮  2017     |     یورپ
لندن (اے پی پی) برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسا طریقہ کار تلاش کیا ہے جس کے تحت دانت خود سے ہی ٹھیک ہو سکتے ہیں اور ان کی فلنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کنگز کالج لندن کی ایک ٹیم نے چوہوں پر کیے جانے والے ایک تجربے کے ذریعے بتایا ہے کہ ایک کیمیکل دانتوں کے گودے میں موجود خلیوں کو بڑھنے اور چھوٹے چھوٹے سوراخوں کو بھرنے میں مدد دیتا ہے۔جراثیم کے ساتھ ختم ہونے والے سپنج کو پہلے اس دوا میں بھگویا گیا اور پھر اسے (کیویٹی) کیڑا لگنے والی یا دانت میں پیدا ہونے والے خالی جگہ میں رکھ دیا جاتا ہے۔سائنس رپورٹس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس طریقے سے دانت مکمل اور قدرتی طور پر ٹھیک ہوسکتے ہیں۔محقیقن نے دریافت کیا کہ ٹائڈگلوسپ نامی ایک دوا سے دانتوں میں موجود گودے کے اندر سٹیم سیل کے بڑھنے کے عمل میں تیزی آئی جس کی وجہ سے چوہوں کے دانتوں میں بننے والی سراخوں کو اس دوا کی مدد سے صفر اعشاریہ ایک تین ملی میٹر تک بھرا جا سکا۔محققین کی ٹیم میں شامل پروفیسر پال شارپ نے کہا ہے کہ ’یہ سپنج جرثیم کے ساتھ ہی ختم ہونے والا ہے جو کہ سب سے اہم بات ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ جگہ جہاں سپنج رکھا جاتا ہے منرلز سے بھر جاتی ہے اور ڈینٹائن مادہ چونکہ خود ہی بڑھتا ہے تو مستقبل میں اس کے دوبارہ ناکارہ ہونے کا امکان نہیں رہتا۔پروفیسر شارپ نے بتایا کہ یہ نیا علاج جلد ہی میسر ہوگا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 

رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved