مسئلہ کشمیرمختلف فورمزپراٹھاتارہوں گا،ممبرپارلیمنٹ کرس لزلی
  10  جنوری‬‮  2017     |     یورپ

نوٹنگھم(نمائندہ اوصاف) کشمیریوں کا حقِ خودارادیت عالمی برادری نے اقوام متحدہ میں تسلیم کیا ہوا ہے اور بھارت کی حکومت کو کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہئے کشمیریوں کے وفد نے نوٹنگھم ایسٹ کے لیبر ایم پی کرس لزلی سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ برطانیہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے۔ جس کے جواب میں ایم پی کرس لزلی نے کہا کہ وہ عنقریب نوٹنگھم کے تمام کشمیریوں کے سیاسی و سماجی گروپوں کی ایک گول میز کانفرنس طلب کریں گے جس میں کشمیریوں کے سیاسی اور انسانی مسائل کو زیر بحث لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کو کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا احساس ہے اور وہ کشمیری کمیونٹی جو کہ برطانیہ میں آباد ہیں سے مسلسل رابطہ میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا متفقہ مؤقف سامنے آئے تاکہ اس سنگین معاملہ کو بھارتی حکومت کے نوٹس میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مختلف اوقات میں کشمیریوں کا معاملہ مختلف فورمز پر اٹھاتے رہیں گے۔ لیبر ایم پی کرس لزلی نے کہا کہ جنوری کے آخر میں یا فروری میں کشمیریوں کی نوٹنگھم میں گول میز کانفرنس کا اہتمام میری ان کوششوں کا حصہ ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جائے کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود اس سب سے پرانے مسئلے کو انسانی بنیادوں پر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ اس وفد میں نوٹنگھم کے سابق شیرف علی اصغر، نوٹنگھم سٹی کونسلر نگہت گل نواز، سابق کونسلر چوہدری جہانگیر اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ اور کالم نگار غفار انقلابی شامل تھے۔ وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے علی اصغر نے کرس لزلی لیبر ایم پی کو بتایا کہ بھارتی حکومت کی ایماء پر بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے بھیانک مظالم ڈھارہے ہیں۔ پرامن مظاہرین پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ کا جاتا ہے۔ جولائی سے اب تک سو سے زیادہ عورتوں، بچوں اور نوجوانوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ 1500سے زیادہ نوجوانوں کو پلیٹ فائر کرکے اندھا کردیاگیا ہے۔ ظالمانہ قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہزاروں لوگ بغیر مقدمہ چلائے مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں بند ہیں اور ان میں اکثریت نوجوان طالب علموں کی ہے جن کو گھروں سے اور کلاس رومز سے اٹھالیا گیا ہے۔ وفد نے برطانوی لیبر ایم پی کو بتایا کہ بھارتی فورسز نہ صرف ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں بلکہ دیہات میں راتوں کو سوئے ہوئے لوگوں پر حملہ کیا جاتا ہے اور ان کی پراپرٹی اور گھریلو سامان کو تباہ کیا جاتا ہے۔نوٹنگھم ایسٹ کے لیبر ایم پی نے وفد کو یقین دلایا کہ مجوزہ گول میز کانفرنس میں کشمیر میں ہونے والے مظالم کو زیر بحث لایا جائے گا۔ کرس لزلی نے کہا کہ وہ عنقریب ایک وفد لیکر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر جانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں کی صورتحال کا صحیح جائزہ لیا جائے۔ اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ وفد میں شامل کالم نگار غفار انقلابی نے کرس لزلی برطانوی ممبر پارلیمنٹ کی کشمیر کے معاملے میں غیر معمولی دلچسپی پر ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کرس لزلی کشمیر کے دونوں حصوں میں جاتے ہیں تو کشمیری عوام ان کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ اور ان کا زبردست خیر مقدم کیا جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved