حضرت محمد ۖ کی سچی اتباع ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضامن ہے، پیغام نبوت کانفرنس
  11  جنوری‬‮  2017     |     یورپ
بریڈفورڈ(نمائندہ اوصاف)ارض انبیاء فلسطین میں ایک علاقہ الخلیل ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے موسوم ہے، جہاں پر حضرت یعقوب ، حضرت ابراہیم ،ا ن کی بیوی حضرت سارہ ، ان کے بیٹے حضرت اسحاق اور ان کی بیوی کے مزارات ہیں۔ اس مسجد کا حال یہ ہے کہ جب تک یہودی اجازت نہ دیں ، وہاں اذاں نہیں دی جا سکتی ہے۔ اور اس میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک خوبصورت منبر بنایا تھا جو اب تک اصلی حالت میں موجود ہے۔ اس باعظمت مسجد کے باہر جب نکلتے ہیں تو مسلمانوں کی غربت اور افلاس کا یہ عالم ہے،کثرت سے بچے ، بوڑھے اور نوجوان بھیک مانگتے ہیں جنہیں ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے اور اپنے ہی ملک میں وہ اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے شاندار ماضی کے بعد ہمارا انتہائی تکلیف دہ حال ہمارے سامنے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرات انبیاء کی دعوت توحید وسنت کو ہم نے یکسر بھلا دیا ہے۔ عظمت رفتہ کے حصول کے لئے ہمیں پھر توحید و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے، یہی اس کا علاج ہے ، اللہ ہمیں ا س کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔ گزشتہ دنوں جامع مسجد الہدیٰ بریڈ فورڈ ٧ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کانفرنس و امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ مولانا محمد عبدالہادی العمری نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے بچے ، نوجوان اور بزرگوں نے جس خوش دلی اور خوش اخلاقی سے انتظامات میں حصہ لیا ہے، اللہ سب کو ایسی توفیق عطا فرمائے۔پاکستان سے آئے ہوئے معزز مہمان غازی ملت رانامحمد شفیق پسروری نے اپنے خطاب میں رسول اکرم ۖ کی عظمت و رفعت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو بلند و بالا کیا ہو ، ان کی عظمت و رفعت کو ہم کیا بیان کر سکتے ہیں۔ آپ ۖ کی عظمت یہ ہے کہ آپ کے بعد قیامت تک کسی سچے نبی کی نبوت بھی نہیں چل سکتی ۔ اسی لئے آپۖ نے فرمایا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت دنیا میں آئیں گے ، مگر نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ آپۖ کے ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے اور اصلاح و رشد کا کام کریں گے۔ اس لئے آپ ۖ کے بعد کسی نبی کی نبوت بھی نہیں چل سکتی ہے تو کسی امام یا بزرگ کی بات آپ کی موجودگی میں کیسے چل سکتی ہے۔دوبئی سے آئے ہوئے معروف داعی شیخ ظفر الحسن مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیغام نبوت کا دار و مدار صحابہ کرام پر ہے ، لہٰذا دشمنان اسلام کا ٹارگٹ صحابہ کو نشانہ تنقیدبنانا ہے اور ان کا سرخیل عبداللہ بن سبا ہے جو یہودی تھا مگر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر حضرات صحابہ کے ساتھ زبان طعن دراز کیا ، یہاں تک کہ اس فتنہ کا پہلا شکار حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ فاجعہ ہوا اور اس کے ہمنواؤں نے کہا کہ صرف چار پانچ صحابہ کے سب اسلام سے مرتد ہو گئے تھے (نعوذ باللہ ) آج بھی جو صحابہ کی توہین و تنقیص اور ان پر بے جا تنقید کرتے ہیں ، ان سب کا تعلق اسی سبائی فتنے سے ہے۔ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ حافظ حبیب الرحمن جہلمی نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ تمام دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دیتی ہے کہ اپنے اختلافات ختم کر کے توحید و سنت کی مشترکہ اور اہم اساس پر مجتمع ہو جائیں۔ آج کی عظیم الشان کانفرنس یونائیٹڈ نیشن سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ برما ، عراق ، سیریا ، فلسطین اور کشمیر میں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کور وکا جائے اور ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کی جائے اور انہیں انسانیت کے دشمنوں سے نجات دی جائے۔خطیب میڈ سٹون ڈاکٹر محمد شبیر عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام سے قبل عورتوں پر ظلم وستم روا تھا، پیغمبر اسلام ۖ نے ان کے حقوق دئیے اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کی شادی کرنے پر والدین کو جنت کی بشارت عطا فرمائی ۔ خواتین نے دوپٹہ کو جب سے گلے کا پھندا سمجھ لیا اس وقت سے شرم و حیا ان سے رخصت ہو گئی بلکہ آج کل صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نکاح کرنا مشکل ہے اور بدکاری کرنا آسان ہو چکا ہے۔پروفیسر حافظ مطیع الرحمن خطیب شفیلڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیک کردار میں بڑی طاقت ہے اور اس سے بڑی طاقت کسی اور میں نہیں ہے۔ اللہ کے خوف سے ایک عورت کا بار بار اللہ کے رسول ۖ کی خدمت میں آنا ، جس سے ایک گناہ سرزد ہو گیا تھا، یہاں تک کہ وہ سنگسار کر دی گئی ۔ اس عورت پر کسی صحابی کی تنقید پر آپۖ نے فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ کو سارے مدینہ والوں پر تقسیم کر دیا جائے تو سب کے لئے کافی ہو جائے گی۔ خطیب ہیلی فیکس مولانا محمود الحسن یزدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ خندق میں رسول اکرم ۖ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے ، ایک کدال ایک چٹان پر مارتے ہیں ، اس سے ایک چنگاری نکلتی ہے ، آپ کسریٰ یعنی ایران کے بادشاہ کے کنگنوں کی خوشخبری دیتے ہیں اور دوسری ضرب چٹان پرپڑتی ہے تو قیصر یعنی روم کے بادشاہ کی سلطنت کے فتح یاب ہونے کی بشارت دیتے ہیں۔ اس کسمپرسی کے عالم میں کہ کھانے کو کھانا نہیں ہے اور اللہ کے رسول ۖ دنیا کی سپر پاور حکومتوں کے مسلمانوں کے زیر نگوں ہونے کی خوشخبری دیتے ہیں ۔ اس کے صرف چھ سال بعد دس لاکھ مربع میل زمین کے آپ فاتح بن جاتے ہیں ۔ حضرت عمر کے دور میں ٢٢ لاکھ مربع میل اور حضرت عثمان کے زمانے میں ٤٦ لاکھ مربع میل زمین مسلمانوں کے قبضہ میں آتی ہے اور آج ہم نے آ پ کے اسوہ کو چھوڑا تو ہر جگہ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔خطیب نیلسن مولانا فضل الرحمن حقانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ کے نبی ۖ نے ارشاد فرمایا: ''جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کیا۔'' لہذا ہم دنیا میںہمارے محسنوں کا شکریہ ادا کرنا سیکھیں ۔ ہم بعض اوقات ایک چیز کو بہت معمولی سمجھتے ہیں ، مگر وہ اسلا م میں معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی ہوتی ہے۔ مولانا عبدالستار عاصم نے اپنے خطاب میں فکر آخرت پر زور دیا اور کہا کہ اس چند روزہ دنیا کی خاطر ہمارے بعض علماء سو اور مشائخ نے شرک و بدعات اور خرافات کے کاموں میں امت کے اکثر طبقے کو گمراہ کیے ہوئے ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آنکھ بند ہونے کے بعد نہ یہ معتقدین اور مریدین کام آنے والے ہیں ، اور نہ ان سے حاصل شدہ نذرانے اور صدقات کسی کام آنے والے ہیں۔برادر ہاشم جعفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فنتوں کے دور میں قرآن و حدیث سے وابستہ ہو جائیں ، اسی میں ہماری کامیابی ہے ، آج شرک و بدعات اور مختلف سیاسی فتنے موجود ہیں ۔ کتاب و سنت ہمارے صحیح گائیڈ ہیں ، اسی میں ہماری دنیوی اور اخروی نجات مضمر ہے۔نوجوان اسکالر مولانا صہیب حسین مدنی گلاسگو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہود و نصاریٰ افراط و تفریط کا شکار تھے ، یہودیوں کے پاس علم تھا مگر عمل نہیں تھااور نصاریٰ کے پاس عمل تھا مگر علم سے محروم تھے۔ امت مسلمہ کا یہ خاصہ ہے کہ وہ علم و عمل دونوں سے متصف ہیںاور دونوں انتہاؤں کے بجائے امت مسلمہ میں اعتدال کا وصف پایا جاتا ہے۔خطیب راچڈیل مولانا زبیر احمد طیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اطاعت رسول ۖ ہی پیغام نبوت ہے ، لہذا ہم نت نئی بدعات سے بچ کر رسول ۖ کی اطاعت کو حرز جاں بنا لیں ، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ ناظم دعوت و تبلیغ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ حافظ شریف اللہ شاہد نے ابتداء میں خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج کے خرافاتی دور میں ہم نے توحید و سنت کی شمع جلائے رکھنے کا عزم کر لیا ہے۔ حافظ اسد علی کی تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز ہوا، جناب ابوحذیفہ نے اردو اور پنجابی نعتیں پیش کیں ، ڈاکٹر عبدالرب ثاقب نے ایک نظم اور مہمانان خصوصی اور منتظمین کانفرنس کی شان میں چند اشعار پیش کئے۔ خطیب مسجد حافظ اخلاق احمد ، امیر جمعیت حاجی محمد اکبر اور دیگر مخلصین بریڈ فورڈ ٧ نے کانفرنس کے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اللہ کریم ان تمام کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ کنوینئر کانفرنس و خطیب مسجد حافظ شریف اللہ شاہد نے بخوبی نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ آخر میں تمام کا شکریہ ادا کیااور دعائے مسنون پر کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔ اللہ تعالیٰ انتظامات میں حصہ لینے والے بچوں ، نوجوانوں ، بزرگوں ، بھائیوں اور بہنوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved